مہوش۔۔۔آصف وڑائچ

بس ہوسٹس مہوش:

وہ بےنام سڑک پر بےنام ماری گئی. اس کو لوگوں سے پیسے لے کر کفنایا دفنایا گیا. کسی نے اس کے جنازے میں شرکت کی اور نہ ہی کوئی مدد کی. وہ گھر کی واحد کفیل تھی، دن دہاڑے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حسبِ معمول ایک نیم وحشی مرد نے اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا. اس کا قصور کیا تھا؟ وہی جو ہمارے معاشرے میں ایسیوں کا ہوا کرتا ہے، غربت، مفلسی، ناداری..

جب درندے نے اسے گولی ماری وہ روزے کی حالت میں تھی، آہ…. کوئی مفتی، کوئی تبلیغی، کوئی پیرانِ پیر  اس کی موت  پر غم و غصّے سے پاگل نہیں ہوا، کسی شریعت کے دیوانے نے  جہاد  کا علم بلند نہیں کیا اور نہ ہی کسی مجاہد نے تلوار سونتی !  کوئی بپھرا   ہوا    جتھہ بھی سڑکوں  پر  نہ  نکلا،… کیوں؟… کیونکہ اس غریب نے خدا کے “رستے”  میں نہیں  بلکہ خدائی رزق کے رستے میں جان دی. ایسی جان کی بھلا کیا قیمت؟ آخر کیوں کوئی اسلامی پروانہ  اس کی خاطر اپنے پر جلائے ؟ اس نے ایسا کیا ہی کیا ہے؟ نہ کوئی مندر   ڈھایا  نہ مسجد، نہ کسی کچے کافر کا پیٹ چاک کیا اور نہ ہی کسی مبینہ مرتد کا  سر  کاٹا   کہ جس پہ فخر کیا جا سکے. آخر کیا کارنامہ انجام دیا ہے اس نے؟ یہی  نا  کہ وہ 4 بہنوں اور بوڑھی ماں کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے خود ایندھن بن گئی. اس ملک خداداد میں  اپنے حصے کی روٹی ڈھونڈنے بھیڑیوں کے غول میں تن تنہا نکل پڑی… بس اتنا ہی؟.

ارے بھیا  اس کے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا ہوا لیکن معاف کرنا ہم کچھ نہیں کر سکتے ،   ہاں اگر  اس نے کسی گستاخِ دین کا قتل کیا  ہوتا  تو  ماں قسم ہم اس کے لیے عدالتوں کے برج اکھاڑ لاتے. کشتوں کے پشتے لگا  دیتے، اس دنیا کو تہہ و بالا کر دیتے کیونکہ ہمارا  دین انسانیت اور سلامتی کا  دین ہے اور جو کوئی بھی اس دین کی سلامتی برباد کرے گا ہم اسے برباد کر دیں گے…
لیکن گھر کی کفالت اور مشقت میں اپنا  بچپن اور جوانی کھو دینے والی، مردہ معاشرے میں زندہ رہنے کا خواب دیکھنے والی، آتے جاتے “پکے” مسلمانوں کی تاڑتی نظروں سے بچنے  کی کوشش کرنے والی، لاچاری کی تصویر بنی اس لڑکی کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں!!

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *