سنو بھائی سنو ! امبانی کی بیٹی کی شادی ہے۔۔۔۔۔حسین مرزا

نہ میرا کچھ لینا نہ  دینا! امبانی کون ہے مجھے ٹھیک سے تو اتنا بھی نہیں پتا۔ لیکن سب کو بتاتا چلوں امبانی کی بیٹی کی شادی ہے۔کیا کیا کچھ کرتا ہے۔ کون کون سا پروڈکٹ  بیچتا ہے، اور کیسے بیچتا ہے۔ اتنا پتا ہوتا تو کچھ دال روٹی اپنی بھی ٹھیک سے کما لیتا۔
ہاں صبح سے تقریباً ہر اخبار سے ٹھہر ٹھہر کے، کوئی نا کوئی خبر مل رہی ہے کہ فلا نے فنکار نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، اتنے پیسے لیے اور میں ہوں کہ  بس خواب سجائے جا رہا ہوں کہ کاش میرے پاس بھی اتنا پیسہ ہو اور میں یہ رنگینیاں دیکھوں۔
اب یہ سمجھنا مشکل ہے کہ  پاگل ہوں کہ پاگل بنایا جا رہا ہوں۔
اک تو خبر یہ بھی سننے کو ملی کہ  امبانی کے پیسے نے انتا جادو چلایا کہ ۱۹۹۹ میں بنی اک بالی ووڈ فلم کے ہیرو ہیروئن نے ۱۹ سالہ خفگی کو بھلا کر اک سٹیج پر ڈانس کیا۔ اور میں ہوں کہ کیا بات! کیا بات! کرتا رہ گیا۔
بھائی نہیں ہے اب میرے پاس اتنا پیسہ اور شائد کبھی ہو بھی نہ۔ وجوہات بہت سی ہیں ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اک بات ضرور ہے، فرض کر لیتے ہیں ( فرض کرنے میں کیا جاتا ہے! خیالات کا ہی مزہ لے لیں) اگر کبھی میرے پاس اتنا پیسہ آ جائے کیا میں ۱۵ کروڑ اک یورپین گلوکار کو دینے سے پہلے سوچوں گا کہ  میرے علاقے میں کتنی غریب کی بیٹیاں صرف پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بیاہی نہیں جا رہیں۔ یقیناً نہیں سوچوں گا۔ وجہ یہ ہے کہ جب پیسہ آ جا تا ہے پھر ہم اپنے پسند کی  ذمہ داریاں چنتے ہیں۔
اور اس سے بھی مزے دار بات یہ ہے کہ جو پیسے والا ہوتا ہے، سب اس کو انسان سے بڑھ کر ہی سمجھتے ہیں۔ اب یہ بات اس کو ناگوار گزرتی ہے یا پسند آتی ہے یہ مختلف   طبیعتوں  پر منحصر کرتا ہے۔ اک اور حقیقت یاد آ رہی ہے لکھ ہی دیتا ہوں کہ پیسہ جتنا بھی ہو، اپنی جیب میں تھوڑا اور دوسرے کی جیب میں اس کی ضرورت کے مطابق ہی لگتا ہے۔ اس طرح پیسے والے شخص کا زندگی کا فلسفہ اپنی جگہ درست اور کم پیسے والے شخص کا پیسہ دیکھ کر پھسلنا اپنی جگہ ٹھیک۔
میں رات کے وقت آلو میتھی کھا کر اللہ کا شکر کر کے سونے جا رہا ہوں۔ اپنے اس وقت پر شرمندہ ضرور ہوں اور خود پر کچھ غصہ بھی! شرمندہ اس وجہ سے کہ  کوئی ۱ یا ۲ ویڈیوز اس شاہی شادی کے بارے میں دیکھیں، چلو! دیکھ ہی لیں کوئی مضحکہ نہیں، ٹرینڈنگ چیزیں توجہ حاصل کر ہی لیتی ہیں۔ غصہ اس وجہ سے کہ  کہیں نا کہیں میرے اندر لالچ وہ آرٹیکلز پڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ میں بھی تمام دنیا کی طرح چمکتی چیز کو سونا سمجھ کے سلام کر رہا تھا۔
اور سب سے مزے دار بات! وہ خاندان میرے ملک کا بھی نہیں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *