مقدس رشتہ ۔۔۔ نادیہ ناز

“رک میں ابھی اپنے بھائی کو بلاتی ہوں تونے مجھے برا بھلا کہا کیسے۔”

یہ تھیں صائمہ چار سال کی لیڈیز بال ٹھاکرے جو بھائی کے نام سے دنگے کیا کرتی تھیں۔ ان کا ایک ہی بھائی وہ بھی بہت ہی شریف تھا۔

چونکہ پیدا ہوتے ہی اس نے مما سے زیادہ بھائی کی آغوش میں پرورش پائی تھی لہذا ان کے لئے ماں باپ سب یہی بھائی تھا۔

بھائی سے سائیکل چلانا، پھڈے کرنا، لڑکیوں کی طرح مکّی نہیں مکّا مارنا، لات سے کم بات ہی نہ کرنا، زبان تیز طرار قینچی کی طرح چلانا ان کے علاوہ وہ اپنے حق کو کسی سے واپس لینا جانتی تھی، جبکہ کسی کا حق لینا مزاج میں نہ تھا۔

ویسے عموما لڑکیوں کی لڑائیاں ایسی ہی ہوتی ہیں جو بال کھینچنے، مارنے سے پہلے بھی شور مچانا، مارتے ہوئے بھی شور اور مارنے کے بعد بھی چھلانگ مار کر شور مچانا، گویا تینوں حالتوں ماضی، حال مستقبل میں بس شور ہی پایا جاتا ہے۔

گویا یہ لڑکی صرف فیس بک کی حد تک نہیں بلکہ حقیقی شیرنی تھی۔

بھائی باہر جائیں تو ساتھ، گھر میں ساتھ، کھانے میں بھائی کا انتظار، پینے میں بھائی پہلے، ساری محبتوں کا منبع یہی ایک بھائی تھا۔

پڑھائی کی کمی بھائی مدد کر کے پوری کردیا کرتا۔ 

کسی چیز کی کمی ہوتی تو بھائی، دل اداس ہے تو بھائی، طبیعت خراب ہے تو بھائی۔ گویا دونوں ہر جگہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم، شرط مشروط تھے۔ 

چونکہ بھائی دس سال بڑے تھے تو ان کی شادی کے بارے سوچا گیااس وقت بہن پنکی 15سال کی تھی۔ 

شادی کے وقت بھائی سے زیادہ بہن کی خوشی دیدنی تھی۔ لڑکی کے انتخاب میں بھی اس کی رائے کا عمل دخل تھا۔ تمام رسومات میں سب سے آگے، مہندی میں بھیا کے ہاتھ رنگنے ہوں یا شاپنگ میں ڈریسنگ کا سامان ہو یا بھابھی کیلئے شاپنگ کی جارہی ہو، سب میں پیش پیش تھی۔ 

شادی کے بعد مہمانوں کا آنا جانا ختم ہوا. اب بہن منتظر تھی انہی لمحوں کے لوٹنے کی کہ اب بھیا تو صرف میرے ہوں گے ہی ساتھ مل کر بھابھی کے ساتھ خوب شغل کریں گے۔ گھر میں نئے مہمان کا سواگتم سواگتم کریں گے۔ 

لیکن کایا پلٹ چکی تھی۔ بھیا بدل چکے تھے۔ اب جس بات پر ہنسا کرتے تھے اس بات پر آنکھیں دکھانے لگے،  مذاق و مزاح سے کوسوں دور جا چکے تھے۔ کام سے آتے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوجاتے اور پھر کسی کام کے نہ رہتے۔ ایک دل لگی ایسی لگی کہ دوسری دل لگی بھول گئے۔ 

اب اس کی شادی قریب تھی۔ بھائی نے بس رسمی بھائیوں کی طرح گھر سے الوداع کیا اور شفقت بھرے ہاتھوں کی منتظر بہن انتظار ہی کرتی رہی یہاں تک کہ ننھی کلی اپنے گھر کو جا چلی۔

وہ اب تک بھائی کی یاد میں آنسو بہاتی ہے اور بھائی اب بیوی بچوں میں ایسا مصروف ہوئے کہ ایک کال تک کی فرصت نہیں۔

اب بھی بہن میاں سے کبھی تو تو میں میں کرتی ہے تو کہتی “ابھی بلاتی ہوں بھیا کو” لیکن کہہ کر فورا لب سی لیتی ہے۔ 

اب بھیا میرے بھیا بھلا کہاں رہے؟ وہ تو بس ایک شوہر بن چکے ہیں۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *