ایک المیہ” شاد مردانوی” کے بقول۔۔۔۔

پیشگی معذرت کے ساتھ
ایک خوابی المیہ قبلہ ”شاد مردانوی ” کی زبانی۔
میری ”شاد مردانوی” سے شناسائی کو ڈیڑھ دو ماہ ہی ابھی ہوئے ہیں۔ لیکن اس دوران ان کی قابلیت اور لفاظی نے مجھے مرید کردیا۔ بات کچھ اس طرح ہے، گزشتہ شب کے پچھلےپہر حضرت خواب میں تشریف لاۓ۔ میں یکایک چونکا کیونکہ حضرت کی شکل پچپن میں ایک جاسوسی ناول کے کردار سے ملتی تھی۔لیکن سر سے ”سلیمانی ٹوپی” غائب تھی۔ ایک دم چونکا کہ یہ ٹوپی گرمیوں میں نہ ہوتو یہ کہنا بجا ہوتا کہ ”بجلی بحران” کو غائب کرنے کے واسطے استعمال کےلئے دی ہوگی۔
جب حضرت سے پوچھا کہ حضور آپ!
تو جواباً فرمایا؛ ہاں میں ”شادمردانوی”!
کہا حضورمیری خوش نصیبی!
چند سیکنڈ ادھر ،ادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے حضرت سے سوال کی جسارت کی اور کہا!
حضرت چند سوالات ہیں، کیا میں پوچھ سکتا ہوں؟
حضرت نےفرمایا کیوں نہیں؟
میں گویا ہوا، اور پوچھا!
حضرت آپکی زندگی کے حسین لمحات کونسے ہیں؟
جواب دیتے ہیں؛ ”میری زندگی کے حسین لمحات میں سے ”مکالمہ کانفرنس” میں گزارے گئے چند لمحات انمول ہیں”۔
پوچھا حضرت؛ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟
حضرت نے جواب دیا؛ ” پتلون کوٹ کا پہننا”۔
پوچھا وہ کیسے؟
فرمایا؛ کان قریب کرو! کان قریب کیا اور ساری بات بیان کی۔ ساتھ ایک ہدایت بھی جاری کی کہ کسی کو بتانا نہیں۔
بس اتناکہوں گا کہ” پتلون کوٹ” کا پہننا دراصل یہودو نصارا کی سازش تھی جو فٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔
ایک دوست کا لاسکا سے بذریعہ” اسکائپ ” خواب۔

راقم ملاقات کا خواہش مند ہے۔ مگر فی الحال کراچی آنا محال ہے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *