• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سید نا محمد ﷺزمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔ پیغمبر خدا ص دورحاضر کے رہنما/بنتِ نقاش۔۔۔۔مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

سید نا محمد ﷺزمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔ پیغمبر خدا ص دورحاضر کے رہنما/بنتِ نقاش۔۔۔۔مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

انسانی رت میں وقت کی ندیا کچھ اس انداز سے بہہ  رہی ہے کہ بڑے بڑے مفکر , سائنسدان , کیمیا دان , ریاضی دان اور تاریخ دان اپنی سوچ و فکر, خیالات اور نئی  ایجادات کے دھارے میں بہتے ہی چلے جا رہے ہیں..انسانی زندگی کا مقصد ہر طرح کے حالات میں  انسانی بقا کا سفر تھا اور ہے۔ نئی  ایجادات کے لئیے انسان روز اول سے ہی کوشاں تھا اور آج بھی ہے…اور رہے گا…یہی وجہ ہے کہ انسان نے کئی دریافت کیں اور ذہنیت انسانی قدرت کے تخلیق کردہ نظام کو ایجاد کر کے روز عقل کو حیرت اور شش و پنج میں مبتلا کر رہی ہے۔
سورج کا بادلوں میں چھپنے کا عمل ہو یا برسات میں بارش کا۔ گرمی میں سورج کا بالوں کی اوٹ  میں چھپ کر نہ ہوتے ہوۓ بھی انسان کو گرمی سے بے چین کرنا اور سردیوں میں سورج کی تپش کا جلی ہوئی  چھوٹی لکڑی کی مانند مدھم اور سرخ پڑنے کا عمل ہو. یا بہار میں تتلیوں اور مکھیوں کا پھولوں کا رس چوس کر شہد بنانے کا عمل ہو ۔ اماؤس کی کالی راتوں میں ستاروں کا مسافر کو رستہ دکھانے کا عمل ہو  یا چلچلاتی دھوپ میں بادل کے ٹکرے کا معجزاتی طور پے سورج کو ڈھکنے کا عمل ہو۔انسانی وجود میں دل کی دھڑکن کا سازو گداز ہی کیوں نہ ہو،انسان ان تمام عوامل سےآگاہی حاصل کر چکا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگر دنیا میں اوسطاًً   10 نوبل پرائز دئیے گۓ ہیں تو اس میں سے 8 مسلمان سائنسدانوں کو ملے ہیں،علم کا کوئی  بھی میدان ہو مسلمان سائنسدان جیسے کے الخوارزمی , الکندی, محمد الفزاری, یعقوب بن طارق, ابن ترک نے ریاضی کے میدان الجبراء میں اپنی خدمات پیش کیں
الخوارزمی نے جغرافیہ میں
اور جابر بن حیان , الحمباری نے کیمیا میں اپنے اہم کارنامے سر انجام دئیے
ابراھیم الفزاری, یعقوب بن طارق ماہر فلکیات کے طور پر جانے جاتے تھے
الاصمعی حیوانیات و نباتات کے ماہر تھے۔۔
ابن الہیشم روشنی کے مفروضے لے کر دنیا کے سامنے آۓ  اور عبدالقدیر خان نیوکلئر ایٹم کی تیاری کے مؤجب بنے۔
غرضیکہ علم کے ہر شعبہ طبیعیات, حیاتیات, تاریخ, ریاضی اور ایٹمی قوت ہر میدان میں روز اول سے ہی مفکر دین اپنی تعلیمات کے لحاظ سے ٹاپ کلاس رہے ہیں۔

قارئین کرام! یہاں میں ثابت کرنے جا رہی ہوں کہ تعلیمات ربی اور حدیث نبوی پوری دنیا کے لیے علم و عمل میں معاون ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم..)۔
دنیا بھر کی تمام ترقی یافتہ اور ٹاپ کلاس ریسرچ بیس یونیورسٹیز میں اسلامی تعلیمات اور تعلیمات نبوی کے کچھ خاص پہلو اور باب چن کر طالبعلم کی پڑھائی  کا لازمی جزو قرار دیے جاتے ہیں۔غیر مسلم یونیورسٹز، مسلمان پروفیسرز کو ان تعلیمات کو پڑھانے کیلئے ہائر کرتی ہیں جن سے انکو ایجادات اور نئی  ریسرچ میں رہنمائی  مل سکے۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں ؟؟؟ کیونکہ آج تک جتنی بھی اہم ایجادات غیر مسلموں نے کی ہیں وہ انہی تعلیمات سے نقطہ نظر لے کر اس پر کام کر کے کی گئی  ہیں۔۔۔تو قارئین اگر رسول اللہ کی تعلیمات اتنی جامع نہ ہوتیں یا انکی کہی گئی  پیشن گوئیوں میں صداقت نہ ہوتی تو کیا یہ انکو اپنی سٹڈی کا حصہ بناتے؟؟؟ کبھی نہیں۔۔۔اگر بات ابھی بھی واضح نہیں ہوئی  تو میں اپنی بات کو دلائل کی روشنی میں مزید واضح کئے دیتی ہوں.خ۔
اگر آپ ہسٹری کا مطالعہ کریں تو آپ اس راز سے آشنا ہوں گے کہ غیر مسلم لوگ اپنے پنڈتوں پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں میں قرآن( جو کہ مسلمانوں کی کتاب ہے)اور حدیث (جو کہ مسلمانوں کے نبی ص کی سنتیں اور باتیں ہیں) تھما کر انکی زندگیوں کو جنگل کی وحشتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ وہ وہیں کھاتے پیتے سوتے اور دن رات اس کتاب کے ان الفاظوں اور احکامات پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ ان حصوں کا مطالعہ کرتے ہیں جہاں اللہ نے انسانی دنیا کی ان دیکھی چیزوں کا،ان سنی جگہوں کا.،اور ناپید جانوروں کا علم دیا ہو۔۔

تو قارئین کیا آپ غور نہیں کرتے کہ اگر  رسول اکرم دور حاضر کے رسول نہ ہوتے۔۔ اگر انکی تعلیمات پر شک ہوتا۔۔ تو کیا یہ غیر مسلم لوگ اتنے وثوق سے ان تعلیمات میں سے متعلقہ مواد ڈھونڈھتے۔۔۔؟؟
بات ابھی ختم نہیں ہوئی میرے پاس درجنوں ایسے دلائل ہیں کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول ص رہتی دنیا تک اپنی تعلیمات علم اور عمل کی بناء پر بحیثیت رہنما لوگوں کو رہنمائ دیتے رہیں گے۔۔
۔آئیے اسی بات کو ایک اور دلیل سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک سروے اور اعدادو شمار کے مطابق مسلمان کمیونٹی اپنی ریسرچیز کے اوپر اپنی مکمل سالانہ معیشت کا %0.8 خرچ کرتی ہے۔جبکہ اس کے بر عکس امریکہ جو سب سے بڑا اسلام مخالف ملک ہے… وہ اپنی سالانہ معیشت کا %2.5 ہماری تعلیمات کی کھوج میں خرچ کرتا ہے۔

قارئین اپنی معیشت کی اتنی بڑی رقم کوئی  ایسے شخص پر خرچ کر سکتا ہے؟؟ جسکی صداقت میں %0.1 بھی شک ہو…تو میں سوچتی ہوں کہ صرف اسی ایک دلیل کو ہی لے لیا جاۓ تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے نبی پوری دنیا کے لوگوں کے لئیے رہبر ہیں۔ بات توسیع اختیار نہ کر جاۓ اس اندیشے کے باعث الفاظ کی نزاکت کے ساتھ میں ایک آخری دلیل آپکے سامنے رکھنے جا رہی ہوں.جس کے مطابق اسرائیل جو کہ بہت بڑا غیر مسلم ملک ہے اپنی معیشت کا %4.4 اسلامک ریسرچ کے اوپر خرچ کرتا ہے۔
تو سوچئیے ذرا غور کیجئیے کیا یہ اتنے دلائل کافی نہیں ان لوگوں کے یقین کےلئیے جو چشم بصیرت سے بہرہ ور ہیں۔
کیا وہ نہیں سوچتے کہ وہ اس رب کی تعلیمات کو فالو کر رہے ہیں جو (مسلما نوں) کا رب ہے۔
اس پیغمبر کی باتوں کو ریسرچ سے ثابت کر رہے ہیں جو (مسلمانوں) کے نبی ہیں اور مسلمان  ۔۔وہ مسلمان جن کو وہ اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے ہیں.خ۔ان تنازعات کے بیچوں بیچ اگر وہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو اپنی ریسرچز کا مؤجب بنا رہے ہیں تو میرے خیال سے یہ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ مسلمانوں کے نبی ص صرف مسلم انسانیت کے ہی رسول نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے عصر حاضر میں پیغمبر علم و عمل ہیں
طالب دعا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *