فاشزم کا سیاسی کلچر۔ عامر حسینی/حصہ اول

جے رس بنا جی/مترجم عامر حسینی
جے رس بنا جی نے یہ لیکچر جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں 11 مارچ 2016ء میں “جے این یو نیشنل ازم لیکچرز سیریز” کے حصّے کے طور پہ دیے۔جے رس بنا جی یونیورسٹی آ‌ف لندن کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز،ایس او اے ایس میں ریسرچ پروفیسر ہیں۔2016ء میں ان کی کتاب
Exploring the Economy of Late Antiquity: Selected Essays (Cambridge)
شائع ہوئی۔ اور آج کل وہ ایک کتاب “بریف ہسٹری آف کیپٹل ازم ” لکھ رہے ہیں۔

پاکستان میں کچھ لکھاری مذہبی جنونیت کے کچھ مظاہر کی بنیاد پہ اور یورپ اور امریکہ میں نمودار کچھ واقعات کی بنیاد پہ فاشزم کی اصطلاح کو استعمال کررہے ہیں ،وہ لیفٹ کو بھی اپنے تئیں کچھ مشورے دے رہے ہیں،میرا خیال ہے ان کو خود بھی کافی پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ع۔ح

tripako tours pakistan

میں آج فاشزم بارے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ اس کی اقسام کی جو ترکیب، باہمی ربط اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ گھلنا ملنا ہے اسے تاریخی سیاق و سابق میں آپ سے بیان کروں اور اس کا مقصد آپ کے سامنے یہ سوال رکھنا ہے کہ کیا اس سے آج کے ہندوستان کے جو حالات ہیں کوئی مماثلت یا ملتی جلتی صورت حال آج موجود ہے؟ تین تصورات ہیں جن پہ میں بات کرنا چاہتا ہوں جو کہ مرے خیال میں فاشزم کی سیاسی ثقافت کو سمجھنے کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پہلا’ تصور/تھیم’  ہے’ قوم پرستی/نیشنل ازم’ کی بنت کار/ساختہ فطرت، آپ اسے ” فاشزم اور متھ آف نیشن ” بھی کہہ سکتے ہیں۔دوسرا “تھیم/تصور پدر سریت” ،مطلق العنان خاندان کا سرمایہ داری معاشرے میں ریاست کی پاور سے رشتہ کا ہے ۔ یہ ولہم ریخ جرمن ماہر نفیسیات کے نفسیاتی تجزیہ پہ مشتمل ہے جس کی تحریروں کا  مابعد جنگ/پوسٹ وار فیمن ازم پہ کافی اثر تھا۔

ریخ کا کہنا یہ تھا کہ پدرسریت اور تحکمانہ خاندان سرمایہ دارانہ معاشرے میں سٹیٹ پاور/ریاستی طاقت کے بنیادی سرچشمے ہیں۔اور یہ بنت کاری ہمیں مارکس ازم اور فیمن ازم کو ایک دوسرے سے ویسے مربوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جیسے یہ عام طور پہ ایک دوسرے سے مربوط نظر نہیں آتے۔

ریخ کا یہ جو “مطلق العنان خاندان” کا تصور ہے یہ عمودی کارخانہ ہے رجعت پسند آئیڈیالوجی اور ڈھانچے کا اور ایسے ہی یہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ریاست کی طاقت کا اہم ستون بھی ہے۔لیکن فاشزم میں خاص طور پہ ان دونوں کے درمیان یہ رشتہ صاف اور واضح طور پہ سامنے آجاتا ہے۔

تیسرا تصور جسے فاشزم کے تیسرے جزو کے طور پہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ ہے سارتر کا تصور جسے
Manipulated Seriality
کہتے ہیں۔
نوٹ: سیریلٹی ایک ایسا سماجی بنت کاری (سوشل کنسٹرکٹ ) ہے جو افراد کے گروہ سے الگ ہوتا ہے اور ایسی سماجی بنت کاری میں افراد پہ یا تو زبردستی کچھ لیبل تھونپے جاتے ہیں یا افراد خود ہی رضاکارانہ طور پہ ان کو اپنالیتے ہیں۔
میں اس کی وضاحت بعد میں کروں گا کہ اس سے میری مراد کیا ہے؟

فاشسٹ سیاست بنیادی طور پہ سارتر کے نزدیک ایسی درجہ بندی ہے جو کہ ہیراپھیری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ہمیں اس ٹرم “سیریلیٹی /درجہ بندی کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں کسی بھی سرمایہ دارانہ ریاست میں سیاست کی حرکیات سمجھ میں آسکے۔

تو استدلال کے یہ تین دھاگے یا تین جوڑ ہیں جن پہ میں آج مختصر بات کرنا چاہتا ہوں۔

فاشزم اور نیشن کا فسانہ

پہلے فاشزم اور متھ آف نیشن پہ بات کرتے ہیں جوکہ نیشنلزم کا ایک بناوٹی/ساختہ فطرت پہ بات کرنا ہے۔اس بارے جرمن مارکسی دانشور آرتھر روزنبرگ نے 1934ء میں اپنی شایع ہونے والی کتاب میں بات کی اور اس کتاب کے شائع ہونے کے فوری بعد اسے جرمنی سے بھاگنا پڑا تھا۔

روزنبرگ کمیونسٹ پارٹی آف جرمنی کی جانب سے جرمن پارلیمنٹ ریستاخ میں ڈپٹی تھا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ انڈین لوک سبھا/قومی اسمبلی کی طرح جرمنی کی لوک سبھا کا رکن تھا کیونکہ جرمنی میں ہماری طرح کا وفاقی پارلیمانی نظام تھا۔

وہ نہ صرف کیمونسٹ تھا بلکہ جرمن کمیونسٹ پارٹی کے پی ڈی کا لیفٹ ونگ کا ممبر بھی تھا اور اسے برلن لیفٹ کہا جاتا تھا اور فلسفی کارل کروخ بھی اس کا رکن تھا۔1927ء میں اس نے کے پی ڈی سے استعفا دے ڈالا کیونکہ یہ جرمن پارٹی میں روس کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ناراض تھا۔

روزنبرگ کے مضمون کا عنوان تھا ” فاشزم: ایک ماس موومنٹ/بڑی عوامی تحریک ”
اور یہ عنوان ہی فاشزم کو سمجھنے میں لیفٹ ونگ کے کردار کی وضاحت کرنے کے لئے کافی ہے۔انٹرنیشنل کمیونسٹ تحریک کامنٹرن کا خیال تھا کہ فاشزم بطور ایک تحریک کے کھڑا نہیں رہ سکے گا۔وہ اس کی جڑوں کو گہرائی میں اندر تک پیوست نہیں سمجھتے تھے۔

کامنٹرن کا خیال یہ تھا کہ یہ فنانشل سرمایہ/مالیاتی سرمایہ کی ایک سازش ہے۔ گویا ان کا خیال تھا کہ جرمن بینکار کسی جگہ بیٹھ کر فاشزم کو واقعہ بناسکتے ہیں۔گویا ہٹلر فنانس سرمایہ/مالیاتی سرمایہ کی ایک کٹھ پتلی تھا۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ان کی نظر میں نازی پارٹی کے لئے اتنے بڑے پیمانے پہ پیدا ہونے والی سیاسی کشش اور ہمدردی جو 1920ء اور 1930ء کے درمیان پیدا ہوئی اس کی جڑیں صرف فنانس سرمایہ میں تھیں معاشرے کے اندر پیوست نہ تھیں۔

جاری ہے

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *