سائینس اور مذہب: کیا ضد ضروری ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

غامدی صاحب فرماتے ہیں:

“ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جا سکتے، اُنھیں انسان محض عقلی دلائل کی بنا پر مان لے۔ ذات خداوندی کو ہم دیکھ نہیں سکتے؛ قیامت ابھی ہماری آنکھوں سے چھپی ہوئی ہے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبریل امین کو وحی کرتے ہم نے نہیں دیکھا، لیکن اِس کے باوجود ہم اِن سب باتوں کو مانتے ہیں۔”

یہ ایمان باالغیب ہی مذہب کی اساس ہے۔ یہ ہے حقیقت۔

سائینس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سائینس کی اساس اس اقرار پر کھڑی ہے کہ ہم ہر بات نہیں جانتے۔ جو ہم نہیں جانتے وہ ہم نے جاننا ہے۔ جو معلومات ہم جانتے ہیں انہیں ثابت کرنا ہے اور جو ثابت ہوجائے اس کے رد میں ثبوت ڈھونڈتے رہنا ہے تاکہ غلط ثابت ہونے پر نیا علم مل جائے۔ بنیادی طور پر سائینس بھی ایک واضح معلومات کا مجموعہ ہے جو اتنی آسانی سے بدلتی نہیں، کافی حد تک واضح ہے اور ہزاروں لاکھوں تجربات کی بنیاد پر ثابت ہے۔ مذہب کی طرح سائینس کے بیشتر اصول بھی طے شدہ ہیں تاہم مذہب کے برخلاف کئی مقامات پر ثابت شدہ ہیں۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انسانی وجود کے سائینسی ثبوت موجودہ مذاہب کے وجود سے کہیں پہلے کے ادوار سے ملتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذہب انسانیت کے آغاز میں موجود نہ تھا۔ اتنا ضرور ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت نہیں۔ ثبوت نہ ہونا کسی چیز یا عمل کے وقوع پذیر نہ ہونے کی دلیل ہرگز نہیں۔ عین ممکن ہے باشعور انسانیت کے آغاز میں بھی مذہب کا وجود ہوتا ہو مگر لکھت پڑھت کے عدم کی بنا پر ہم اس وجود سے مجہول ہوں۔ 

سائینس بذات خود ایک ارتقائی عمل سے ہوکر آج کے مقام تک پہنچی ہے۔ پہیہ جسے عموماً انسان کی پہلی ایجاد کہا جاتا ہے، تقریباً چھ ہزار سال سے کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اس سے پہلے پہیہ ایجاد نہیں ہوا تھا یہ کہنا نامناسب ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اب تک ہمارے پاس پہیے کی اس سے پہلے موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں۔ یوں یہ بیان کہ “انسانی شعور کو حقیقی ترقی گزشتہ سو سال میں ملی” شعور کی ترقی کی ذاتی وضاحت تو ہوسکتی ہے تاہم کوئی ایسی بات نہیں جس پر سائنس کا اجماع ہو۔ گزشتہ سو سالوں میں مواصلاتی نظام دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے معلومات ہر جگہ نسبتاً آسانی سے دستیاب ضرور ہے۔ 

اگر آپ ایمان باالغیب پر یقین رکھتے ہیں اور ساتھ ہی سائینس کے شیدائی بھی ہیں تو سائینس آپ کو کئی جگہوں پر مذہب حق میں محسوس ہوگی لیکن ضروری نہیں کہ یہ اشارے پوری دنیا کو بھی دکھائی دیں۔ مثال کے طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجینس کے تحت آج سافٹ وئیرز سے لے کر روبوٹس تک کو مصنوعی شعور دینے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ ڈی این اے کی سطح پر نیچرل الیکشن کی شکل میں ایک قسم کا شعور لاکھوں سالوں سے موجود ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کا خلیہ ماحول کے ردعمل میں ہمیشہ وہی تبدیلیاں اپناتا ہے جو اس کی بقاء اور ترویج میں مددگار ثابت ہو۔ ہم بیماریاں پھیلانے والے وائرس سے لڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وائرس ہماری حکمت عملی کی بنیاد پر اپنی ہئیت کو تبدیل کرنے میں مصروف رہتی ہے تاکہ وہ اپنی بقاء، ترویج اور نشونما کو قائم رکھے۔ 

ذاتی حیثیت میں کم سے کم میں سائینس اور مذہب کو ٹکراؤ میں نہیں پاتا۔ سائینس جستجو کا نام ہے۔ مذہب ایمان باالغیب کا۔ جستجو کا حکم مذہب کی طرف سے دیا گیا ہے جبکہ جستجو بذات خود یقین کی جانب سفر کی تحریک ہے۔ آج ہم سائینس کے دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم علم کامل کے حامل نہیں لیکن اس کے حصول میں لگے رہیں گے تاکہ ہر نئے علم کو بنی نوع انسان کی خدمت میں استعمال کیا جاسکے۔ مذہب کب سے یہ باور کرا رہا ہے کہ کامل علم انسان کے پاس نہیں بلکہ خدا کے پاس ہے۔ یعنی مذہب جو باور کرا رہا ہے اس کا پہلا حصہ ہم مانتے ہیں، دوسرا ماننے کے ثبوت ڈھونڈ رہے ہیں۔ سائینس اب تک خدا کی کامل ذات کا ثبوت نہیں ڈھونڈ پائی مگر وہ اس تلاش کی تحریک ضرور دیتی ہے۔ نیچرل سلیکشن ہو یا طبیعات کے قوانین، سائینس قدم قدم پر خدا کی ذات کے اشارے ضرور دیتی ہے۔

ایسے میں آپ مذہبی ہونے کے ناطے سائینس کو دشمن اور مقابل سمجھیں گے تو بھی متعصب کہلائیں گے۔ سائینس کے حق میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنیں گے تب بھی بے جا جانبداری کے مرتکب ہوں گے۔ ان دونوں دونوں طرح کا طرزعمل اکابرین سوشل میڈیا کے یہاں دکھائی دے رہا ہے۔ اور آپ سوچتے ہیں شدت پسند صرف ملا ہی ہوتا ہے؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *