مہندی۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

تیسرے روز بھی وہی حال تھا اس نے اپنی  گود میں رکھی  کدال کو فٹ پاتھ کے ایک طرف رکھ دیا اور اپنے شانوں پر موجود چادر سے  ماتھے کو صاف کرنے لگا جو سڑک پر چلتی  گاڑیوں کے دھوئیں سے اور تیز گرمی کی شدت سے جل رہا تھا.

اس کی جیب میں دس روپے بچے تھے جو کہ آج کے لئے ناکافی تھے وہ اٹھا اور کچھ دور رکھے ایک مٹی کے مٹکے سے گلاس میں پانی نکالنے لگا پانی نکال کر پیتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ خوف اس پر حاوی ہوتا چلا گیا جس کا اس کو تجربہ تھا ایک بار سوچا سامنے سے آتی گاڑی کے سامنے خود کو پھینک دے اور چھٹکارہ پائے لیکن پھر نظروں کے سامنے اس کو اپنی جنت کا خیال آیا جو آج اس انتظار میں تھی کہ بابا آج اس کے لئے مہندی لے کر آئے گا اور وہ اپنے ہاتھوں پر نئے ڈیزائن کے پھول بنا سکے گی۔

دن آدھا گزر گیا اس کی حالت اتنی بدل گئی کہ  وہ اس جگہ سے اٹھ کر دو فرلانگ کے فاصلے پر دوسری طرف بیٹھ گیا دھوپ کی تیزی انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے ماتھے پر پسینے کی  لکیریں  کھنچ گئیں۔۔ پل پل گزرتے لمحوں کے ساتھ اس کی دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی گئی گھر میں آج دو ہی روٹیاں بنی تھیں۔
جس کی وجہ آٹے کی وہ  پیٹی تھی جو خالی ہوچکی تھی یہی حال گھر کے دوسرے ڈبوں کا بھی تھا۔

اماں آج ابا جلدی نہیں آئے چھوٹی جنت نے ماں کے پاوں سے لگ کر ہلا کر پوچھا!
آجائیں گے بس یہی وقت ہے اس کے آنے کا وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھے جارہی تھی بہت عجلت میں۔

اس کو دیر ہو رہی تھی کچھ پکانے کو شاید اسی سوچ نے اسے بے چین کر دیا تھا کہ  آج اس نے بہت دیر کر دی تھی گھر آنے میں۔

دھوپ ڈھلنے لگی تو وہ بے چینی میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور سڑک کے دونوں اطراف میں دیکھنے لگا کدال اس نے کندھے پر رکھا اور ایک ہاتھ سے پکڑ لیا اس کی نگاہوں کا محور وہ سڑک تھی جن پر چل کر لوگ اس طرف آتے تھے گھڑے کا پانی ختم ہو چکا تھا سامنے ہی ایک دوسرا گھڑا تھا سڑک کے اس پار۔

اماں یہ ابا کیوں نہیں آتے میرے لئے مہندی لے کر!
جنت کی آواز ایک بار پھر سے ابھری جو اس نے بمشکل سنی۔۔ باہر بہت شور تھا گلی محلے والوں کا،راہگیروں کا ،سائیکل کا، کبھی کبھی کوئی ٹانگہ بھی گزر جاتا جس کی سموں کی ٹک ٹک صاف سنائی دیتی تھی شام کے سائے لہرانے لگے تو صاف آسمان میں آتش بازی کے نظاروں ن   رنگ بھر دیے۔ہر طرف ایک غوغاں کا عالم تھا لمحہ بہ لمحہ اس میں تیزی آتی رہی آس پڑوس میں کبھی کبھی کسی جانور کی ہنکارنے کی آواز بھی مسلسل   سنائی دے رہی تھی جو کہ آج اپنی آخری رات گزارنے والے تھے کل ان سب کو جنت میں جانا تھا قربان ہوکر۔

سڑک پر گاڑیوں کا بے پناہ ہجوم تھا ہر کوئی جلد  ہی گھر پہنچنا چاہتا تھا شام کے سائے رات کے گہرے اندھیرے میں تبدیل ہو رہے تھے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس کے نوٹ کو اپنے ہاتھوں میں مسلتے ہوئے باہر نکالا اس نے مہندی لینی تھی اپنی جنت کے لئے سڑک کے اس پار ایک سٹال بنا ہوا تھا جس پر مہندی ملنا عین ممکن تھا وہ پار ہوا اور ایک مہندی کی کون خرید کر اپنے کوٹ کی  جیب میں رکھ کر واپس آنے لگا اپنے خشک ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ یک دم سے سڑک کے بیچ رک گیا اور اپنی جنت کے سوکھے ہونٹوں کے بارے میں سوچنے لگا اس کے خیال میں وہ مہندی کی بجائے کچھ کھانے کو  لے جاتا تو اچھا تھا اسی سوچ کے حصار میں وہ مڑا ایک قدم ہی لیا کہ  کھدال اس کے ہاتھوں سے اڑ کر دور جا پڑی جو کے اکیلی نہیں تھی ساتھ میں اس کا وجود بھی تھا فٹ پاتھ کے کنارے پر اس کے وجود کا گھسٹتے ہوئے   جانا اس بات کی گواہی دیتا رہا کہ آج وہ اس سے گلے مل رہی ہے۔ اس کو اس طرح سے فٹ پاتھ پر پٹخنے والی گاڑی بہت دور جا چکی تھی.

گھٹاٹوپ اندھیرا گھر کے ایک کونے میں ایک موم بتی کی روشنی جو کہ اپنے آخری جوبن پر تھی کہ اچانک گھر کے دروازے کے دونوں چوپٹ کھلے اور کچھ لوگ اپنے کندھوں پر ایک بوجھ اٹھائے داخل ہوئے اس کو صحن میں رکھی چارپائی پر رکھ کر ایک طرف کھڑے ہوئے وہ دوڑ کر موم بتی ہاتھ میں لے کر آئی اور چارپائی پر جھک گئی

چہرے پر خون کی لالی جو سر کی طرف سے ایک لکیر بناتی ہوئی عین چہرے پر سے گزرتی ہوئی اس کی داڑھی میں جذب ہو رہی تھی اس کا ایک ہاتھ ابھی تک کوٹ کی ایک سایڈ جیب میں پھنسا تھا جنت کی اماں نے آہستہ سے اس کے ہاتھ کو کوٹ سے نکالا اور ہاتھ میں مہندی کا کون موجود پاکر اپنی جنت کے ہاتھوں کی طرف دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جو مہندی کا کون دیکھ کر اسی کی طرف آنے لگی تھی، جنت کے ہاتھ کافی لال دکھائی دے رہے تھے اس نے اپنے بابا کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے جو پکڑا تھا…

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ہمم دشتِ جنوں کے سودائی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *