نہ میں مومن وچ مسیت آں ۔۔۔ محمد اشتیاق

نہ میں مومن وچ مسیت آں

نہ میں وچ کفر دی ریت آں

نہ میں پاکاں وچ پلیت آں

جب سے شعور نے آنکھ کھولی اپنے ارد گرد انتہا پسندی دیکھی ہے، عدم برداشت، نفرت، اور ڈپریشن کا چین ری ایکشن ( chain reaction) ۔ دل ودماغ تلاش میں ہے کہ کہیں سے کوئی مثبت روئے نظر آئیں ۔ زندگی کے ہر شعبے میں ہم نے انتہا پسندی کو اپناشعار بنا لیا ہے ۔ ہمارا ہر فقرہناںسے شروع ہوتا ہے اور ہمردکے لئے بات سن رہے ہوتے ہیں ۔ ہم دوسروں سے لامحدود اطاعت چاہتے ہیں ۔ ہم دوسروں کو اختلافی رائے رکھنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ ہم کسی کی بات پہ غور کرنے کو تیارنہیں اور اپنی بات ہر ایک سے منوانا چاہتے ہیں ۔ ہم شخصیت پرستی کے ایک اونچے مینار پہ بیٹھے ہیں جہاں سے باقی ہمیں حقیر لگرہے ہیں ۔ ہم اختلاف پہ جان لینے کو تیار ہیں ۔

آج انڈیا کے مشہور اداکار، فن اداکاری میں الگ اسلوب رکھنے والے عرفان خان کی وفات ہو گئی ۔ میرا پسندیدہ ایکٹر تھا۔گھاتکے دنوں سے ۔ جب منوج باجپائی کے لئے دیکھی جانے والی فلم میں سے ایک اور لیجنڈ ملا ۔ وہ مسلسل میری اسلسٹ میں رہا جن کا نام فلم کی کاسٹ میں شامل ہو تو وہ قابل دید ہوتی ہے ۔ اس کی ناگہانی موت کا سن کے ایک فنکار کھونے کادکھ ہوا کہ اب اس فنکار کو دوبارہ نہیں دیکھ سکیں گے ۔ اس کی تعزیت ، ایصال ثواب، اپنی پسندیدگی کا اظہار، اس کے فن کیتصدیق کے لئے دوسطری پوسٹ لگا دی ۔ کوئی غیر مسلم ہوتا تو (RIP) لکھ دیتا، مسلمان تھا تو بخشش کی دعا کردی ۔ یہ کوئی ایسیحرکت نہین تھی جس پہ اعتراض کیا جاتا ۔ لیکن ایک دفعہ پھر وہی تجربہ ہوا جو بہت عرصے سے ہوتا آرہا تھا کہ ہم ہر چیز کو زندگیموت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، ہم کسی کو گنجائش دینے کو تیار نہٰیں ہوتے ۔ ایک مسلمان کے لئے بخشش کی دعا کرنا جرم کب سے ہو گیا۔

اعتراضات سنئیے اور سر دھنیے۔

وہ شرابی تھا

خدا کے وجود کو نہیں مانتا

اس نے ہندو عورت سے شادی کی تھی

ہمارے ملک کے خلاف بننے والی فلموں میں کام کرتا تھا

وہ ایک انڈین تھا

اس کے لئے دعا کی امان اللہ کے لئے کیوں نہیں کی

ہمیں اس کے ایمان کا کیا پتہ

ان سب اعتراضات کو کشید کر کے نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اس کے لئے بخشش کے لئے دعا نہیں کر سکتے ۔ خیر کی دعا بھی پانی کیبوندہوگئی،  اس کربلا میں شمر کی طرح روک کے ان کو پیاسا مار دینا چاہتے ہیں ۔ ہم وہ فرعون ہیں جو اپنے اختیار کو استعمال کرنا چاہتےہیں بھلائی کے لئے نہیں، کسی کو جہنم میں پہنچانے کے لئے ۔ ہم اس کی امت ہیں جو پتھر کھا کے بھی ہدائت اور بخشش کے لئےدعا مانگتا تھا۔ جو عین حالت جنگ میں، تلوار کے نیچے آئے ہوئے دشمن کے  جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھنے پہ بھی یہ کہےتم کونہوتے ہو اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے۔ آج ہم نے اپنی اپنی عدالتیں لگائی ہیں، ہم بیٹھ کے کسی کے ایمان پہ فیصلے دیتےہیں ۔ خدائی فیصلوں میں تو کسی کی مجال نہیں کہ وہ سفارش بھی کر سکے تو پھر کیوں ہم اپنی نیت کا بھی ثواب پانے کے خواہشمندنہیں ۔

اگر کسی کے گناہوں کی فہرست دیکھ کے ہم نے بخشش کی دعا دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کےفیصلہ کریں کیا ہمارے لئے کسی کو بخشش کی دعا کرنی چاہیے کسی کو ۔ کیا ہم بھی ایسے ہی شفاعت کے لئے ترسیں گے ۔جھرجھری نہیں آجاتی ؟؟؟ پھر کیا یاد آتا ہے ؟؟ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے ۔ وہ تو ہے، کوئی شک نہیں ۔ وہ تو اپنے بندوں کی بخششکے لئے بے تاب ہے ۔ تم کیوں بخیل بنے بیٹھے ہو۔ بخشش کرنے کا تو تمہیں اختیارنہیں رکھتے ۔ جس کی قدرت رکھتے ہو وہ تو دےدو۔ دعا کے چند لفظ، نیت کے چند پھول تو اس کی قبر پہ چڑھا دو۔ تمہیں تمہاری نیت کا ثواب ملے گا۔ ثواب اور نیکی کا تصورنیتکے سوا کیا ہے ؟؟؟ اگر ہم ایکنیتبھی درست نہیں رکھ سکتے اس میں بھی نفرت گھول دیتے ہیں اور دعوی ہے رحمتہاللعالمین کا امتی ہونے کا  تو ضرورت ہے ہمیں اپنے محاسبے کی ۔

ہم اس کائنات میں ایک پرزے کی بھی حیثیت نہیں رکھتے، شائد زرہ بھی نہیں ۔ نہ ہم کسی کی بخشش کر سکتے ہیں اور نہ شفاعت کیطاقت رکھتے ہیں۔ چلیں تھوڑی دیر کے لئے فرض کئے لیتے ہیں کہعرفان خانمیری یا آپ کی دعا کی بنیاد پہبخشاجائے گا ۔ توکیا کریں گے ؟ اس کی اٹھنی پہ پاوں رکھ دیں کہ نہ بھائی تو نہیں جا سکتا جنت میں ۔ تجھ میں تو فلاں فلاں برائی تھی ۔ اور اگرہماری اٹھنی پہ کسی نے پاوں رکھ دیا تو ؟؟؟ کوئی اڑ گیا کہ نہیں بھائی، تم نہیں جا سکتے ۔ اگر ہم اس کے رحم وکرم پہ ہوئے اور وہشمر بن گیا ہماری شفاعت کے چشموں پہ اس نے قدغن لگا دی تو ؟؟

چلیں، ہم دعا کر دیتے ہیں اس کی بخشش پھر بھی نہیں ہوتی ۔ تو کیا اس دعا کرنے کا پہ ہم گناہ گار ہو جائیں گے ؟؟ زیادہ سے زیادہقبول نہیں ہو گی، یہ تو مالک کی مرضی ہے کہ وہ ہماری سنتا ہے یا نہیں ۔ پر دعا مانگنے پہ تو ناراض نہیں ہوگا ۔ پھر بھی کنجوسی، پھربھی بخیلی ۔ اور اپنے لئے امید کہ وہ غفورالرحیم ہے ۔ وہ تو ہے مسئلہ تو ہمارا ہے، ہم کتنے ظالم، کنجوس اور بخیل ہیں کہ دعائےخیر بھی روک کے رکھنا چاہتے ہیں۔

Avatar
محمد اشتیاق
Muhammad Ishtiaq is a passionate writer who has been associated with literature for many years. He writes for Mukaalma and other blogs/websites. He is a cricket addict and runs his own platform ( Club Info)where he writes about cricket news and updates, his website has the biggest database of Domestic Clubs, teams and players in Pakistan. His association with cricket is remarkable. By profession, he is a Software Engineer and has been working as Data Base Architect in a Private It company.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *