• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لُٹنا میرا استنبول کے کیپلی کارسی میں۔۔۔۔سلمٰی اعوان(سفر نامہ)قسط 6

لُٹنا میرا استنبول کے کیپلی کارسی میں۔۔۔۔سلمٰی اعوان(سفر نامہ)قسط 6

استنبول کا لینڈ مارک توپ کپی میوزیم۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط5

دوسو چوراسی لیرے تین دن چلے تھے۔چوتھے دن توپ کپی سرائے میوزیم کی آرمینیائی طرز تعمیر کی خوبصورتیوں،پچی کاری و تزئین کاری کی ہوش رُبا رنگینیوں سے طلسم زدہ سے باہر آئے تو ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب تھیں اور کسی بینک کو کھوجنے کی ہمت نہ تھی۔ یوں بھی ترک انگریزی بولنا پسند نہیں کرتے۔ آتی بھی ہو تو غُچّہ دے جاتے ہیں۔ مونڈھے مار کر چہرے پر ایسے تا ثرات بکھیرتے ہیں کہ بندہ حیران سا ہو جاتا ہے۔

اُس وقت (body language) کے استعمال پر میری طبیعت قطعی آمادہ نہ تھی۔ اور گرینڈ بازار سے ملحقہ منی چینج آفس کا لڑکا انگریزی سمجھتا تھا۔ ا س لیئے وہیں پہنچے۔
پیارا سا خوش شکل لڑکا دیکھ کر ہنسا۔ سو ڈالر کا نوٹ سوراخ سے اندر گیا۔پیسے لئیے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ہو ٹل آ گئے۔
ہوٹل کے سامنے رُک کر جب ادائیگی کیلئے میں نے پرس کھولا تو تہہ کیے ہوئے سارے لیرے ہاتھ میں آگئے۔ میں نے انہیں کھولا۔ٹیکسی ڈرائیور نے ہلکے نیلے رنگ کے ایک نوٹ کو چھونا چا ہا تو میں نے بھی اسکا نوٹس لیا۔ یہ نا مانوس سا نوٹ تھا۔ میں نے نوٹوں کو مُٹھی میں بند کر لیا۔ سیما  کو ادائیگی کیلئے کہا اور بد حواس سی دروازہ کھول کر باہر آگئی۔ خوشگوار ٹھنڈی ہوانے میرے اڑتے حواسوں کو ذرا معتدل کیا۔ ہوٹل کے ریسپشن پر کھڑے لڑکے کو نوٹ دکھائے۔ اس نے نیلے نوٹ کی طرف اشارہ کیا۔
”یہ تو متروک ہو چکا ہے۔“
”ہیں“
میں نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں اور یہ سوچنا چاہا کہ کاونٹر پر پیسے لیتے وقت میں نے انہیں دیکھا تھاکیا؟
اور یہ کس قدر حیرت انگیز بات تھی کہ مجھے اپنی ذہنی سکرین پر اپنے چیسٹ بینک سے سو ڈالر کا نوٹ نکالنے کا عمل اپنی پوری جزئیات کے ساتھ یاد تھا۔منی چینج آفس سے ملحقہ وہ چھوٹی سی خالی جگہ، کیش کاونٹر تک جانے، لڑکے کے ہنسنے، نوٹ دینے اور لینے کے سب مراحل متحرک تصویروں کی مانند سامنے تھے۔
پراگلے منظر پر دبیز دُھند تھی۔
اب بہت سے سوال تھے جو میرے ذہن میں اُبھرے۔
میں نے نوٹوں کو ہاتھ میں پکڑا۔ کیا گنا تھا؟ کیا مجھے اُن میں کوئی خاص چیز نظر آئی؟ لیروں سے تو میں پہلے ہی دن شناسا ہو گئی تھی۔
عجیب بات تھی میری ذہنی سلیٹ صاف تھی اور اُس پر ان میں سے کسی کا جواب نہیں تھا۔ میں گُم صم سی کھڑی تھی۔ ایک سو تیس لیروں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا تھا۔گویا تقریباً پانچ ہزار پاکستانی روپے کو تُھک لگ گیا تھا۔ جاپان اور تائیوان کے سیاح لاؤنج میں میرے قریب ہی کھڑے اس مسئلہ کو خاصی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ اُن میں سے کسی نے کہا۔ ”فوراً پولیس اسٹیشن رپورٹ کریں۔“
”میں اگر لڑکے کے پاس جاؤں تو“۔۔۔۔۔ میں نے ریسپشنسٹ کی رائے لی۔ اس کا بڑا حتمی جواب تھا۔
”یہ زیادہ مناسب ہے پولیس کو رپورٹ کریں۔“

اس استفسار پر کہ پولیس اسٹیشن کہاں ہے؟ تائیوانی نے چھوٹا سا بازو پھیلا کر لاؤنج کے کونے کی طرف یوں اشارہ دیا جیسے پولیس اسٹیشن تو یہیں اِسی کونے میں ہی ڈیرے ڈالے بیٹھا ہے۔ میں بھی حد درجہ احمق اور گھامڑ عورت کہ ساتھ چلنے کی درخواست کر بیٹھی۔ اُس نے تو بھڑا سا چہرہ فی الفور نفی میں ہلا دیا۔
میں اور سیما اب اس نئی مہم پر نکلیں۔ پوچھتے پُچھاتے جب جائے مقررہ پر پہنچیں۔ اس وقت ایا صوفیہ اورجامع (مسجد) سلطان احمد کے نوکیلے مینار زرفشاں کرنوں میں چمک رہے تھے اور دونوں تاریخی جگہوں کے درمیان پارکوں میں ٹورسٹوں کے پُرے مست خرام تھے۔ پولیس اسٹیشن میں سناٹا تھا اور ایک بے حد خوبصورت نوجوان ایک کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔
سلام کے جواب میں تپاک تھا۔ پاکستان کا جان کر لہجے میں محبت کا اظہار تھا۔ میں نے مسئلہ گوش گزار کیا تو سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔
”کیا وصولی کی کوئی رسید لی تھی۔“ میں نے ہونقوں کی طرح دیکھا اور سر نفی میں ہلایا۔
دوسرا سوال ہوا۔”جگہ پہچانتی ہیں۔ آدمی کو شناخت کر لیں گی؟ دونوں سوال ظاہر ہے ایسے تھے کہ میرا جواب جوشیلی قسم کی ”ہاں“ میں تھا۔
”گھبرائیے نہیں آپ کے پیسے ضرور آپ کو ملیں گے۔“
پُر یقین لہجے سے چھلکتی اُمید کی آس نے مجھے تازہ دم کر دیا تھا۔
”مگر“
میں نے گھبرا کر اُسے دیکھا۔
”چوں کہ یہcriminal case ہے۔ آ پ کو کرمینل پولیس اسٹیشن جانا ہو گا۔ یہ تو ٹورازم پولیس اسٹیشن ہے۔ بیازت یہاں سے زیادہ دور نہیں۔قریب ہی ہے۔“
اور جب وہ واکی ٹاکی پر غالباً بیازت والوں کو میرے بارے میں بتا رہا تھا میں نے اپنے آپ سے پوچھا تھا۔
”ارے میں کون ہوں؟ٹورسٹ نہیں۔“
اس وقت مجھے یہ بھی احساس ہوا تھا کہ جیسے میں لاہور کے نولکھا پولیس اسٹیشن میں بیٹھی ہوں اور مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ محترمہ یہ کیس تو رنگ محل پولیس کا ہے۔ وہاں جائیے۔
گاڑی کے لیے معذرت ہوئی۔ ٹیکسی منگوا دی گئی اور یہ بھی تاکید ہوئی کہ اسے صرف پانچ لیرے دینے ہیں۔ اس وقت مجھے پھر اپنی پولیس اس گمان کے ساتھ یاد آئی تھی کہ وہ یقیناً ایک غیر ملکی خاتون کو ٹیکسی میں رولنے کی بجائے گاڑی میں بھیجتی۔

ماشاء اللہ سے ٹیکسی ڈرائیور نے ہیرا پھیری میں پاکستانیوں کو بھی مات کر دیا تھا۔ اللہ جانے کن کن راستوں پر بگٹٹ بھاگا اور میٹر بڑھائے چلا جاتا تھا۔جونہی ایک چوک پر گاڑی رُکی۔ ”تاکسیمTaksim“ پر نظر پڑی۔ سیماں نے بے اختیار اپنے گھٹنے پر دو ہتڑ مارا۔
”دیکھو تو ذرا تاکسیم پر لے آیا ہے۔یہاں بیازت کہاں؟“وہ غُصے سے چلائی تھی۔
تاکسیم بیاگلوBeyoglu کا مرکزی چوک ہے جہاں سے مختلف جگہوں کو راستے نکلتے ہیں۔ ہاتھوں میں نقشے پکڑ کر صبح سے شام تک بسوں اور ٹراموں میں خجل خواریوں سے ہمیں شہر کے چہرے مہرے سے خاصی جان پہچان ہو گئی تھی۔ میٹر پچیس لیروں کی نشاندہی کر رہا تھا۔
پر اس کا فائدہ۔ وہ انگریزی نہیں جانتا تھا۔ ہماری بکوا س کااس پر کچھ اثر نہیں تھا۔ باہر رات تاریک اور بتیاں روشن تھیں۔
پھر ایک جگہ گاڑی روک کر اُس نے سامنے بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا۔ اس وقت 34لیرے روز روشن کی طرح میٹر پر جگمگا رہے تھے۔ ہم ٹیکسی سے اُترے۔ پانچ لیرے کا نوٹ میں نے فرنٹ سیٹ پر پھینکا اور جی داری سے کہا۔
تم ہم پاکستانی عورتوں کو ہرگز بیوقوف نہیں بناسکتے ہو۔ہمیں یہی دینے کو کہا گیا تھا۔“
بعد کے برسوں میں جب میں کہیں پیٹرزبرگ میں روسی بوڑھی عورتوں کے ہاتھوں لٹی۔جنہوں نے میرا ایک طرح مل کر گھیراؤ کرلیا تھا۔اُس دن مجھے بے اختیار وہ ترک ڈرائیور یاد آیا تھا۔شریف تھا بے چارہ۔اُتر کر ہمیں گاٹے سے پکڑ لیتا تو چونتیس 34لیرے کیا سو لیرے دے کر جان چُھڑاتے۔
سیما کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے میں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔

سیڑھیاں شیطان کی آنت کی طرح لمبی تھیں۔ استنبول کا سارا شہر کم بلندی والی ڈھلانی پہاڑیوں پر ایک مربوط اور خوبصورت ترتیبی صورت میں بکھرا ہوا ہے۔
برآمدوں اور راہداریوں کے چکر کاٹتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچے۔
پولیس افسر نوجوان تھا۔خوبصورت تھا۔ اب میری داستانِ امیر حمزہ پھر شروع ہوئی۔ یہ بھی مقام شکر تھا کہ اُس کے پاس انگریزی کا تھوڑا سا دال دلیہ تھا۔ تفتیشی سوالات ہوئے۔ ماشاء اللہ سے ہاتھ، آنکھیں، زبان سب چلیں۔ یوں معاملے نے فہم وفراست کی منزلیں طے کیں۔ نتیجہ جو سُنایا گیا وہ کچھ یوں تھا کہ چونکہ اب رات کے آٹھ بج رہے ہیں اور آفس بند ہو گیا ہے۔ لہٰذا کل نو بجے تشریف لائیے۔ ہر طرح کی مدد کی جائے گی۔
اُترائی کی مشقت اور ٹرام اسٹیشن تک پیدل چلنے کی صعوبت جھیل کر ہوٹل پہنچنے تک کے وقفے میں مجھے دو تین بار یہ خیال آیا کہ دفع کرو۔گولی مارو اس قضیے کو۔
پر بستر پر لیٹنے اور تھوڑا سا سستا لینے کے بعد میرے اندر کا کہانی کا ر اور سیاح اسے حتمی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
”بھئی دیکھو تو ہوتا کیا ہے؟“

صبح ناشتے کے بعد میں نے بالوں میں کنگھا چلایا۔ جُوتا پہنا۔ رات کے پہنے ہوئے کپڑوں کی سلوٹوں اور شکنوں کو ہاتھوں سے قدرے صاف کیا۔ بیگ کندھے سے لٹکایا اور سیما سے یہ کہتے ہوئے ”کہ میں ذرا پولیس اسٹیشن بھگتا آؤں تب تک تم تیار ہو جانا۔“
سیما پوری بیگم ہے۔ نِک سک سے آراستہ ہوئے بغیر باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
نو بجے جب میں مطلوبہ جگہ پہنچی۔ماشاء اللہ سے سیٹ پر ایک نیا چہرہ بیٹھا تھا۔ دو نوجوان لڑکے کسی بات پر زور زور سے بول رہے تھے۔ تھانے والا تو ماحول ہی نہیں تھا۔ اُن سے فارغ ہو کر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
اب میرا بیان شروع ہوا۔ حفظِ ما تقدم کے طور پر ممکنہ سوالوں کے جواب بھی اس میں شامل کر دئیے کہ فضول کی تفتیشی تکرار سے جان چھُٹے۔
پر جونہی خطابت کے عمل سے فارغ ہو کر میں نے اُسے گہری نظروں سے دیکھا۔ میرا جی اپنا سر پیٹ لینے کو چاہا کہ میں اتنی دیر سے بھینس کے آگے بین بجا رہی تھی۔ وہ چہرے کے بائیں رُخ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹکائے بٹر بٹر میرا منہ دیکھتا تھا۔”ہائے وے میریا ربّا“ اس وقت جی تو چاہا کہ یا تو اُسے ایک تگڑی قسم کا جھانپڑ دوں یا پھر ایک زور دار اپنے سر پر ماروں۔ اور میں نے مارا پر سر پر نہیں پاؤں پر۔ اٹینشن والے انداز میں پاؤں نے فرش بجایا اور گلے سے نکلتی کرخت آواز نے چھت پھاڑی۔
”ہے یہاں کوئی جو میری بات سُنے۔“
فوراً ہی سامنے والے بند دروازوں میں سے ایک دروازہ قدرے زوردار آواز میں کھُلا اور ایک لڑکی بھاگنے کے سے انداز میں میرے سامنے آ کر بہت شُستہ انگریزی میں بولی۔
”بتائیے کیا بات ہے؟“
میری بولتی کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ آنکھیں، ناک،ہونٹ، صراحی دار گردن سے نیچے لشکارے مارتا اُس کا قدرے عریاں سینہ، ننگے سڈول بازو اور سرو جیسا قد میری آنکھوں میں فٹ ایکسرے مشین میں سے ہو کر گزرا۔
”اللہ یہ کمبخت اِس حُسنِ جہاں سوز کے ساتھ پولیس اسٹیشن پر کیا کر رہی ہے۔اسے تو کہیں کسی بغداد کوشک،کسی مجید کوشک میں ہونا چاہیے تھا۔“ میں نے اپنے آپ سے کہاتھا۔
لڑکی پھر بولی۔
”بتائیے کیا مسئلہ ہے؟“
”مسئلہ تو بعد میں بتاؤں گی پہلے تمہارے حُسن کو سراہ تو لوں۔“
لڑکی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اور مجھے یوں لگا جیسے بند کلیوں نے چٹک کر اپنے منہ کھول لیے ہوں۔
حُسن کی فسوں خیزی سے نکلی تو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہوئی۔ چلیے جناب کہانی پھر دہرا دی گئی۔
اُس نے یوں چٹکی بجائی جیسے انگلیوں کی پوروں میں طلسماتی جن مقید ہو۔
”ابھی یہ پولیس مین آپ کے ساتھ جائے گا اور سارا مسئلہ حل کر آئے گا۔ ذرا بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“
میں نے پولیس مین کو دیکھا جو ہمارے پاس ہی کھڑا تھا اور جس کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ چُوچہ سا، میرے سکول کے دسویں جماعت میں پڑھنے والے لڑکوں جیسا جن کی مسیں ابھی بھیگتی ہی ہیں کہ وہ جوان دکھنے کے چکر میں گالوں اور ہونٹوں کے بالائی حصوں کو بلیڈ سے چھیل ڈالتے ہیں۔
میں نے بہت لمبی سانس بھری تھی جس میں میری کل شام سے لے کر اب تک کی مشقت کا درد رچا ہوا تھا۔

قہر درویش بر جان درویش اس کے ساتھ چلنے کے سوا کوئی اور چارہ کار تھا کیا؟سو چلی۔ بلڈنگ کی سیڑھیاں اُترنے کے بعد جب وہ مجھے اُس کھُلی جگہ پر لایا جہاں گاڑیاں کھڑی تھیں مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ مجھے گاڑی میں بٹھائے گا اور گاڑی شور مچاتی، ہوٹر بجاتی، ہٹو ترکوں راستہ دو، کا عملی مظاہرہ کرتی گرینڈ بازار میں داخل ہو کر منی چینج آفس کے سامنے رُکے گی۔
”واللہ کس قدر مسرُور کُن نظارہ ہو گا۔“ میں نے تصور میں اس منظر سے حظ اُٹھاتے ہوئے آنکھیں نچائیں۔
پر جب بڑا سا پُختہ میدان کراس کرنے کے بعد وہ اگلے ڈھلانی راستے پر اُترنے
لگا تو بے اختیار میں رُک گئی۔
”گاڑی کدھر ہے؟“ میں نے ہوا میں ہاتھ لہرائے۔
وہ ہونقوں کی طرح میری صورت دیکھتا تھا اور میں اپنے آپ سے کہتی تھی۔
”میرے ملک کی پولیس کبھی ایسی بے مروّتی کا اظہار نہ کرتی۔“
میں نے اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا۔ اپنے پاؤں کو چھُوا اور اشاروں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان میں درد ہے اور چلنا دُشوار ہے۔
اُس نے اشاروں کی اس زبان کو سمجھا اور اچھے بیٹے کی طرح مجھے بازو سے تھام کر چلانا چاہا۔
مجھے ہنسی آگئی تھی۔
”چلو میاں چلو“ میں نے خود کو تھپکی دی بلا وجہ ہی گاڑی کی آس میں پاؤں بھاری کر لیے تھے۔ بھگاؤ دردوں وردوں کو اور بندوں کی طرح قدم اُٹھاؤ۔
استنبول کے سلطان احمت ایریا کی گلیاں تھیں۔چھوٹے چھوٹے بازار تھے۔پھر وہ ایک جگہ آکر رُک گیا۔میں خوابیدہ سی گلیوں کو دیکھتی تھی۔بازار ابھی انگڑائیاں لے رہے تھے۔
گرینڈ بازار۔ اُس نے سامنے بازار کی طرف اشارہ کیا۔
بازار چہرے مہرے سے تو ویسا ہی تھا۔ پر میں نے بھونچکی سی ہو کر اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا۔ نہ وہاں کوئی منی چینج آفس، نہ دوسری سمت خوبصورت مسجد جس میں ہم نے عصر کی نماز پڑھی تھی۔
میں نے نفی میں سر ہلایا۔ اشاروں سے منی چینج آفس کی بائیں رُخ پر جائے وقوع کی وضاحت کی اور نور عثمانیہ مسجد دائیں ہاتھ۔ خوب اشارے بھی دئیے اور زبان بھی چلائی۔ چلو خیر کسی نے رہنمائی کی اور پھر چل پڑے۔
ہو بہو گرینڈ بازار جیسے ایک اور بڑی سی سرنگ نما دروازے کے نمودار ہونے پر بھی یہی صورت حال پیش آئی۔پر اب اُس سُن وٹے کی بجائے میں خود بھاگی۔ نور عثمانیہ جامع (مسجد) چلاّ چلاّ کر کہا۔ پھر کسی نے اُسے سمجھایا۔
ٹانگیں پھر چلیں۔ اب جس بازار میں داخلہ ہوا۔تھوڑا سا ہی چلنے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہم صحیح راستے پر ہیں۔ اور جائے وقوعہ بس آنے ہی والی ہے۔
میرا قیافہ درست تھا۔ جونہی بازار کا اختتام ہوا۔نور عثمانیہ مسجد اور منی چینج آفس دونوں نظر آ گئے تھے۔ میں نے فوراً اُسے بازو سے تھاما۔ اندر لے گئی اور لڑکے کی سمت اشارہ کر دیا اور خود کونے میں بنے چھوٹے سے زینے کے دوسرے پوڈے پر کھڑی ہو کر کارروائی کے جائزے میں مصروف ہو گئی۔
ایک عجیب سی بات مجھے محسوس ہوئی۔ لڑکے نے صرف ایک چھلچھلتی نگاہ سے مجھے دیکھا اور چہرہ جُھکا لیا۔
اور جب پولیس مین اُس سے بات کر نے لگا تو وہیں کونے سے ایک اونچا لمبا خوش شکل تیس کے ہیر پھیر میں نوجوان کھڑا ہو کر اُس سے اُلجھنے لگا۔ یقیناً وہ آفس کا انچارج ہو گا۔ اونچائی پر کھڑے ہونے سے ایک اور بات میرے مشاہدے میں آئی۔ اس کی گردن میں صلیبی کراس والی چین تھی۔ مجھے تھوڑا سا ذہنی جھٹکا لگا۔ یہ عیسائی ہے اور دوسرا لڑکا بھی یقیناً یا عیسائی ہوگا یا یہودی۔
استنبول میں یونانی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی بھی خاصی تعداد ہے۔ سپین پر کیتھولک عیسائی غلبے کے بعد جب یہودیوں اور مسلمانوں کو دیس نکالا دیا گیا تو عثمانی ترکوں نے کھُلے دل سے یہودیوں پر اپنی مملکت کے دروازے وا کیے۔ تب سے آج تک وہ یہیں آباد ہیں۔

ذاتی طور پر میں بنی نوع انسان کے بشری تقاضوں، اُس کی فطری کمزوریوں اور بلند ظرفیوں کو مذہبی، لسانی اور تہذیبی خانوں میں بٹے ہوئے نہیں دیکھتی ہوں۔ ہر قوم، ہر مذہب ہر فرقے اور ہر گروہ میں اچھے بُرے عناصر ازل سے موجود ہیں اور ابد تک رہیں گے
کہ کائنات ہستی کا توازن اسی اصول میں مُضمر ہے۔ دھوکہ دہی کے اس کیس میں انہیں اس حوالے سے دیکھنا مناسب ہی نہیں تھا پر جو بات مجھے اُس لمحے کلِک ہوئی تھی وہ لڑکے کے وہ الفاظ تھے جب میں نے اُسے اپنے پاکستان سے تعلق کا حوالہ دیا تھا۔ اسکی طنزیہ ہنسی بھی مجھے یاد آئی تھی۔
”تو کیا ان کے ذہن اُس عالمی پروپیگنڈے سے متاثر ہیں جو اسلامی، عیسائی اور یہودی دنیا میں اس وقت جاری ہے؟“
میرے پاس ا س سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
تھوڑی سی گرما گرمی اور تُو تُو میں میں کے بعد پولیس مین مجھے باہر لے آیا۔ گرینڈ بازار کے باہر ڈیوٹی دیتے وردی والے سپاہی اکٹھے ہو گئے تھے۔ انہیں وہ مختصراً کچھ بتا کر سامنے والی دوکان سے مترجم لے کر آیا جس نے مجھے بتایا کہ وہ یکسر انکاری ہیں۔
اپنے دفاع میں میں نے دلیل دی کہ میں تین ستمبر کو استنبول میں داخل ہوئی ہوں۔ میرے پاس یہ متروک شدہ اتنا بڑا نوٹ کہاں سے آ سکتا ہے؟“
یہ بات پولیس مین کو سمجھائی گئی۔ وہ پھر اندر گیا۔ میں بھی ساتھ تھی۔ اب پھر زوردار گفتگو شروع ہوگئی۔ مزے کی بات کہ لڑکے نے اس بار بھی مجھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ چپ چاپ کھڑا سب دیکھتا تھا۔ پولیس مین بے چارہ بھیگی بلی اوراُسکا باس بُل ٹیرئیر۔

پھر ہم دونوں باہر آ گئے۔ مترجم آیا جس نے مجھے کہا کہ میں پولیس اسٹیشن جا کر تحریری درخواست دوں تاکہ اس پر ایکشن ہو۔
اتنی مشقت بھری خجل خواری کے باوجود میری ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ ہونٹوں اور آنکھوں میں بکھری اس ہنسی میں میں نے بہت دور تک گرینڈ بازار کے نقش و نگار کی شوخیاں دیکھیں اور پھر دونوں ہاتھ مترجم کے سامنے جوڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
”جناب میں کیس کو ڈراپ کرتی ہوں۔ استنبول پولیس کی شاندار کارکردگی کو سیلوٹ مارتی ہوں۔ جو کچھ جاننے کی خواہش مند تھی وہ جان گئی ہوں اور مزید جان کاری کی ہر گز متمنی نہیں۔ہماری پنجابی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ پنڈ کا پتہ روڑیوں سے لگ جاتا ہے۔“
میں نے پولیس مین کے سینے پر محبت بھرا ہاتھ پھیرا اور کہا۔
”جاؤ بیٹا۔“
اور جب مجمع بکھر گیا پھر پتہ نہیں مجھے کیا ہوا اورمیں کیوں منی چینج آفس میں چلی گئی۔ اُسی جگہ جا کر کھڑی ہو ئی۔ اِس بار دونوں نے مجھے دیکھا پر میں صرف لڑکے سے مخاطب ہوئی۔
”تم تو بالکل مجھے اپنے بیٹے جیسے لگے تھے۔ پیارے سے، چمکتی آنکھوں والے۔ عورتیں جو مائیں ہوتی ہیں انہیں تو دنیا بھر کے بچے اپنے بچوں جیسے ہی لگتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہیرا پھیری نہیں کرتے اور جو کرنے کو دل مچلے تو پھر تمہارے آفس کے باہر کھڑے یہ بانکی سجیلی لڑکیوں کے پُرے کیا کم ہیں اس کام کے لیے۔
اپنی کسی بھی بات کا ردّ ِعمل دیکھنے کے لیے میں رُکی نہیں تیزی سے باہر آ گئی۔سُورج کی آب و تاب ابھی اپنے جوبن پر نہیں آئی تھی۔ بازار کی رونقیں ابھی پہلو بدل بدل کر بیدار ہو رہی تھیں۔ ملحقہ سڑک پر چلتی میں گرینڈ بازار کے دوسرے دروازے کیپلی کارسی کے سامنے نفیس اور شاندار سے ریسٹورنٹ کے سامنے دھری کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر پُرتکال (مالٹوں) کا جوس گھونٹ گھونٹ پیتے ہوئے اپنے آپ سے کہتی تھی۔
چلو اچھی ایکٹویٹی رہی۔ 5200 پاکستانی روپوں میں پڑنے والی یہ کہانی کچھ ایسی بُری بھی نہیں۔
پھر دفعتاً ایک خیال آیا۔میری آنکھیں چمکنے لگیں۔ہونٹ مسکرانے لگے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *