جوابِ شکوہ۔۔۔عارف خٹک

حسنین جمال بھائی سے کہنے کو تو ایک ملاقات ہوئی ہے۔ مگر بندہ بڑا ہی بیبا ہے۔ میں بہت کم لوگوں سے متاثر ہوتا ہوں۔ حسنین جمال کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی دل میں کہیں “اوئی” کی آواز گونجی۔اور اگلے لمحے حسنین جمال ہماری گود میں کُلبلا رہا تھا۔

دو ماہ بعد پتہ چلا کہ حسنین جمال بہت بڑے رائٹر ہیں۔ تب ہمارے دل میں تھوڑی بہت جو عزت تھی، خاک میں مل گئی۔ کیونکہ ہم نے آج تک پڑھے لکھے لوگوں میں انسان دا پتر نہیں دیکھا ہے۔ اور جس کو دیکھا وہ بھی بدقسمتی سے عقل و فہم والا ملا۔
حسنین جمال نے پچھلے دنوں ایک کالم لکھا “سکس پیک، منشیات اور ہمارے بچے”۔ میری بیگم نے مجھے آج صبح پڑھانا شروع کیا۔میں دنگ کہ حسنین جمال تک بیگم کی رسائی کیسے ہوگئی۔ پوچھا تو، جواب ملا کالم پڑھ لو۔۔اور شرمندہ ہو۔ حسنین بھائی لکھتے ہیں کہ مردوں کے ورزش زدہ جسم لڑکیوں کو متاثر بالکل بھی نہیں کرتے۔ نہ ان کے سکس پیک سے کوئی لڑکی مرعوب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ لڑکیوں کو خود پسند مرد بالکل بھی پسند نہیں ہوتے۔جو روزانہ دو گھنٹے جِم میں خود پر صَرف کرتے ہیں۔ وہ ایسا مرد چاہتی ہیں جو آدھا گھنٹہ ان پر صرف کریں۔

بیگم کو بتایا کہ چھ ماہ قبل اپنے خیالات بھی بالکل وہی تھے۔جو ان لڑکیوں کے تھے۔مگر شکایت بھی آپ کو تھی۔ پیٹ بڑا ہوگیا،اور باقی بہت کچھ چھوٹا ہوگیا۔ سانس پھولنے لگی ہے، کولہے خواتین کی طرح باہر نکلنے لگے ہیں۔ اپنی صحت پر توجہ دو کیونکہ اب آپ مجھ پر  توجہ دینے کے قابل بھی نہیں رہے۔ تب جاکر دن رات جِم میں خود پر توجہ دی۔ 30 کلو وزن گھٹا لیا۔ پیٹ ختم ہوگیا باقی سب کچھ بڑھ گیا۔ اب کہتی ہو، دوسری شادی کرل،میں نہیں سنبھال سکتی۔

حسنین بھائی کان کھول کر سن لو ،مرد کی ہر تباہی کے پیچھے انہی خواتین کا ہاتھ ہوتا ہے،ورنہ میرے اور آپ جیسے جنریشن ایکس کے نوجوانوں کو سکس پیک کا کیا معلوم تھا،کہ عمر کے اس حصے میں آکر ہمیں اپنی شرٹ اتارنی پڑےگی،اور باڈی کریک سے اپنی مردانگی ثابت کرنی پڑے  گی۔۔ورنہ اپنی مرغوب جگہ آج بھی شینواری ہوٹل کے گندے برتن ہیں۔ جس میں دو کلو کڑاہی کھانے کے بعد سگریٹ اور نسوار کے مشترکہ بقایاجات بھی اس برتن کو سونپے جاتے ہیں۔

میرے دادا کو اللہ جنت نصیب فرمائے۔ کہتے تھے کہ میں نے آج تک کسی مولوی اور چرسی کی بیوی کو طلاق لیتے نہیں دیکھا۔ پوچھا کہ، دادا مولوی کی تو چلو سمجھ آتی ہے،کہ اس کا مقام و فغاں شروع ہی یہیں سے ہوتا ہے،خون بہانے کے شوق میں نفس کو خونم خون کردیتا ہے۔۔مگر چرسی کی بیوی چہ معنی دارد؟۔

فرمایا کہ چرسی کی بیوی کی آنکھیں ہمیشہ کم خوابی کی وجہ سے لال ہوتی ہیں،اور آپ جیسے پڑھے لکھوں کی بیویوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے انھیں طلاق لینے پر مجبور کردیتی ہیں۔کیونکہ بیوی کو بستر میں آپ کی پی ایچ ڈی ڈگری مطمئن نہیں کرسکتی بلکہ وہاں آپ کی بھرپور مردانگی ہی کام آتی ہے، اور چرس اس مردانگی کو باہر نکالنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

حسنین بھائی میں آپ سے متفق ہوں۔ پچھلے دنوں میرے گیارہ سالہ بیٹے کو میری بیگم نے دھن کر رکھ دیا تھا۔ پوچھا کہ بچوں کو ایسے  تھوڑی مارتے ہیں، تو آگے سے رونے لگی۔۔ کہ یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو دیکھ کر خود کو مسل رہا تھا،تو مجھے دیکھ کر ٹیب چھپانے لگا۔ میں نے ٹیب دیکھا تو اس میں لڑکا اور لڑکی فرنچ کس کررہے تھے۔۔۔ میں نے بیگم سے پوچھا۔ ٹیب کس کا ہے؟۔ جواب دیا کہ میرا ہے۔رات کو صرف ڈرامے دیکھتی ہوں۔

اپنے بیٹے کو پاس بٹھا کر کہا،کہ بیٹا ابھی تیری یہ عمر نہیں ہے۔ اگر آپ بھی ایسی لڑکی چاہتے ہو،تو پڑھائی مکمل کرکے اور پشاور واپس جاکر خود کو تیار کرلو۔ بچیاں میں پٹاکر دوں گا۔ بس اماں کو مت بتانا۔ کیونکہ خواتین پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا خواہ وہ تیری ماں ہو،یا میری۔۔ ابا آج تک چالیس سالہ ازدواجی زندگی کو رو رہے ہیں اور میرا حال تو ابا سے بھی بُرا ہے۔ پھر بیٹے کو رابی پیرزادہ کی تصویر دکھائی کہ یہ بتاؤ  اس کی عمر کیا ہوگی؟۔ کہنے لگا ،پاپا 20 سال۔ میں نے ہنستے ہوئے اس کے گال پر چٹکی کاٹی کہ بیٹا ابا نے بیس سال پہلے مجھے رابی کی تصویر دکھائی تھی اور میرا بھی یہی جواب تھا۔
آپ کبھی رابی پیرزادہ بننا مگر اس جیسی حرکتیں مت کرنا کیونکہ آپ کے دور میں ابو علیحہ اور عارف خٹک اٹھ کر آپ کیلئے آواز نہیں اٹھائیں گے۔ بیٹے نے  معصومیت سے پوچھا، کہ رابی باجی نے کیا کیا ہے؟۔ اُسے بتایا  بیٹا وہ بھی آپ کی طرح ماں کے  ٹیبلٹ پر ٹوٹے دیکھتی تھی۔

انشاءاللہ اگلے ماہ بیٹے کو ماسکو لیکر جارہا ہوں کہ بیٹا پڑھا لکھا  بنے،انسان بنے اور مرد بنے۔۔ مگر رابی مت بنے۔

حسنین بھائی میں متفق ہوں کہ منشیات فراڈ ہے۔ یہ مردانگی کھو دینے میں کافی مدد کرتی ہے۔ منشیات استعمال کرنیوالے لوگوں کا سارا زور انباکس میں ننگی ویڈیو بنانے پر ہوتا ہے۔ بس آپ سے ایک درخواست ہے کہ چرس کو منشیات نہ کہا جائے!
نسوار کی خیر ہے۔ اس پر دس سال قید بامشقت کی سزا بھی نافذالعمل ہوجائے تو پرواہ نہیں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *