میلاد النبی ﷺ پر امت کا رویہ۔۔۔۔عمیر ارشد بٹ

SHOPPING

آج عید میلاد النبی ﷺ منایا گیا۔ نبی پاک ﷺ کا متفقہ یوم پیدائش کیا ہے؟ میلاد کا مقصد کیا ہے؟ کیا میلاد منانا چاہیے؟ میلاد منانا بدعت ہے یا عبادت؟ یہ عبادت کیسے کی جاۓ؟ ان سوالوں پر غور کرنے کی بجاۓ میلاد کے اثرات و عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم سب بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں جیسے ہی ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے، تب سے ہی بارہ تاریخ کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ صرف انتظار ہی نہیں بلکہ اس کی تیاری بھی پورے جوش و خروش سے شروع ہو جاتی ہیں۔ مساجد، گھر، گلیاں، بازار سجانے کی ساتھ ساتھ بیت اللہ، روضہ رسولﷺ، نعلین مبارک، روضہ نواسہءرسول حضرت امامِ حسین، شہر مکہ و مدینہ کے علاوہ اور اسلام سے جڑے ہوۓ ورثے کے نمونے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ نمونے تیار کرنے کے علاوہ لنگر کا وسیع تر انتظام کیا جاتا ہے۔ مساجد، گھروں، مقامی مقامات پر محافل منعقد کی جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ دو جہاں کے سردار محمد ﷺ کی آمد کی خوشی میں اپنا مال اور وقت نثار کیا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ جب اس عظیم موقع پر مسلمانوں کے  جذبات قابلِ دید ہوتے تھے۔ لیکن صد افسوس آج مسلمان ان جذبات کو پسِ پشت ڈال کر معاشرے کے لئے خطرناک صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں۔ وہ محافل جن میں نبیﷺ کی سیرت کو بیان کرنا تھا، جن میں نبیﷺ سے محبت کرنے کا درس دینا تھا، جن میں بتانا تھا کہ عاشقِ رسول کیسا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک بھی مقصد پورا نہیں کیا جا رہا۔ ان محافِل میں دوسری راۓ رکھنے والوں کو گستاخ کہا جاتا ہے۔ ایسے ایسے جذباتی احساس جگانے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا اسلام سے سرے ہی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ احساسات معاشرے کی شانتی کو ختم کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ شہروں کے اکثر حصے بند کر دئیے جاتے ہیں، کچھ حصے ریلیوں کی نظر ہو جاتے، لوگ اپنے نظامِ زندگی معطل کر دیتے ہیں ۔ جس سے صرف مسلمان شہری ہی متاثر نہیں ہوتےبلکہ اس دھرتی میں رہنے والا ہر انسان متاثر ہوتا ہے۔ بلکہ اس قوم کا ہر وہ فرد متاثر ہوتا ہے اور محتاط ہو جاتا ہے جس نے سفر کرنا ہوتا ہے،جس نے مزدوری تلاش کرنی ہوتی ہے۔ کیا ہمارے آقاﷺ کا یہی حکم تھا کہ میرے ہستی سے جڑ کر دوسروں کی جانوں پر ظلم کرنا؟ افسوس ہم اپنے آقا کا نام لے کر دوسروں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہوتے ہیں۔

وہ نمونے جو ہم نے محبت میں تیار کئے ہوتے ہیں۔ جن سے مسلمان اپنی تاریخ سے کسی حد تک آشنا ہوتے ہیں۔ وہاں کا ماحول اس خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے کہ کوئی بھی باعزت شہری اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اس ماحول میں نہیں جانے دے گا۔مستورات کو روکنے  کی وجہ بالکل سادہ سی ہے۔ اس مقام پر آنے والے نوجوانوں کا مقصد زیارتیں نہیں بلکہ بنتِ حوا کے دیدار سے آنکھوں کی تسکیں ہوتی ہے۔ اس جگہ پر آنکھوں کا زِنا نہیں بلکہ لمس کرنے کا موقع بھی نہیں گنوایا جاتا۔ اس موقع پر ہونے والی ان غلط حرکات کا ذمہ دار کون ہے؟ان کا ازالہ کون کرے گا؟ ان کا ازالہ کرنا علماء کی ذمہ داری تھی۔ لیکن علماء تو اس موقع پر امت کی اصلاح کرنے کی بجاۓ کفر و گستاخی کے فتویٰ صادر فرما رہے ہوتے ہیں۔

جو مکاتب فکر جو میلاد کو مذہبی حیثیت نہیں دیتے۔ ان کے کئی علماء اس کی مخالفت میں پوری یکسوئی کے ساتھ میلاد منانے والوں کو بدعتی اور جہنمی قرار دینے پر تلے ہوۓ ہوتے ہیں۔ کردار کشی اور الزام تراشی کو اس ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہے ہوتے ہیں جیسا کہ ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ اگر آج انجام نہ دیا تو ان کی بخشش نہ ہو پاۓ گی۔ اس دنیا میں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ خاندان دوسروں کا تحفہ قبول نہ کر کے ناراضگی مول لیتے ہیں، جلوسوں کے راستے روک کر مقامی سطح پر لڑائیاں جنم لیتی ہیں۔ ان سب اختلافات کا سہرا دوسرے مکاتبِ فکر کے علماء کے سر سجتا ہے۔

اس امت کے سپوت اگر نبیﷺ کی آمد کے دن بھی اس کردار کا مظاہرہ کریں گے تو امت کا مستقبل بہت تاریک ہو جاۓ گا۔ سب مسلمانوں کو اس دن یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اس عظیم ہستی کے اخلاق کو اپنائیں گے۔ جس سے دینا پر ہمارے آقاﷺ کی صداقت سراجاّ منیرا کی طرح عیاں ہو گی۔ غیر مسلم بھی ہمارے کردار سے اس بات کو تسلیم کریں کہ یہ عظیم نبی کے امتی ہیں۔ اگر ہم اپنے مولا و آقاﷺ کی سنتوں سے اپنی زندگیوں کو منور کریں گے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے مستقبل سے نہیں کھیل سکے گی۔آج  دنیا میں تو ذلت ہمارا مقدر بن چکی ہے اب امت کو اشد ضروت ہے کہ نبیﷺ کی سنتوں کو اپناۓ۔ اگر امت نبی ﷺ کی سنتوں کو نہ اپنا سکی تو آخرت بھی ہاتھ سے نکل جاۓ گی۔ اللہ ہمیں آج اس عظیم موقع پر یہ عہد کرنے کی توفیق دے۔ آمین

میلاد کے انتظامات،  انتظامیہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل

مقاصد کا اہداف بدل گیا

SHOPPING

ہمیں اپنے کردار پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی آخرت کی بھی!

SHOPPING

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *