گھٹیا افسانہ نمبر 7۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

کیا تم واقعی ہم جنس پرست ہو”
میں ساجدہ سے ایسے ہی حیران کن سوال کی توقع کر رہا تھا.
“میں بتا تو چکا ہوں”
“پھر مجھ سے شادی کیوں کی؟”
“میری طرف سے کبھی تمہیں محسوس ہوا کہ میں تم میں دلچسپی نہیں رکھتا یا کبھی محبت میں کمی محسوس ہوئی ہے”
“مگر کیوں” ساجدہ درد سے چلا رہی ہے.
“ہم جنس پرست ہونے کی وجہ یا وجوہات کو مکمل طور پر ابھی تک نہیں سمجھا گیا ہے. شاید اس موضوع کے گرد ہمیشہ کچھ ایسی ہی غیر واضح صورتحال رہی ہے”
“یعنی اب تم باقاعدہ اپنی ہم جنس پرستی پہ تحقیق کر رہے ہو اور اس کا تجزیہ کر رہے ہو، تمہیں بیماری کیا ہے، کس بندے کے متھے لگ گئی ہوں، آزمائش ہو تم میرے لیے، قسم سے کسی گناہ کا بدلہ ہو تم، مجھے اپنی اولاد کی فکر نہ ہوتی تو لعنت بھیج کر تم پہ چلی جاتی کہیں بھی منہ کر جاتی”
“تمہارا یہ رویہ عمومی اور روایتی ہے، تم جذبات کے ساتھ اِس معاملے کو سلجھا نہیں سکتی ہو”
“پہلے تم فوٹوگرافی کے شوق میں الجھے، تم نے کہا تمہارا رویہ یہ ہے وہ ہے، کاروبار میں ترقی رک گئی، تم کو شکار کے جنون میں مستی چڑھی لیکن میرا رویہ عمومی ہی کہلایا، شراب شروع کی تو بھی میری سسکیاں روایتی تھیں، لیکن اب تم دوسرے مردوں کے ساتھ ننگے ہو رہے ہو لیکن رویہ پھر بھی میرا ہی عمومی ہے”
“میری جان عمومی رویہ کوئی گناہ یا بری بات نہیں…..”
“میرے روئیے کو گولی مارو اپنی بکواس کرو” ساجدہ میری بات کاٹتے ہوئے باقاعدہ چیخ رہی ہے، مجھے رسول بخش اور طاہرہ کی فکر ہوئی مگر شائد وہ اپنی کمرے میں سکول ورک کر رہے ہیں اور ہماری باتوں سے ناآشنا ہیں. میں نے جان بوجھ کر سارا معاملہ اِس کے سامنے رکھا ہے تاکہ خوف سے چھٹکارا حاصل ہو جائے. میں نے پھر سے بولنے کے لیے منہ کھول دیا ہے.
“ہم جنس پرستی ایک الگ رویہ اور ایک الگ جنسی ساخت ہے، اور لوگ مختلف وجوہات کی بنا ہم جنس پرست ہوسکتے ہیں. یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام ہم جنس پرست ایک ہی وجہ سے ایسے ہیں. زیادہ معتبر تو سائنسی وجہ ہی نظر آتی ہے، ساجدہ تم سائنس کی طالبہ رہی ہو میری بات پہ غور کرو، یہ ہارمونز اور دماغی ساخت کا معاملہ ہے، اِس میں انسان بےبس ہے، یہ ایسے ہی ہےجیسے کسی کے بال سفید ہیں جبکہ کسی کے بھورے اور کسی کے کالے ہیں. جب ایک عورت کسی مرد کی طرف یا جب کوئی مرد کسی عورت کی طرف کشش محسوس کرتا ہے تو سب اُس کو نارمل کہتے ہیں، لیکن ایک عورت دوسری عورت یا ایک مرد دوسرے مرد کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو سب کو مصیبت پڑ جاتی ہے، آخر کیوں؟ کیونکہ یہ صدیوں پرانی نفسیات ہیں، پہلے پہل میں بھی شرمندہ تھا مگر اب مجھے کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ اِس میں میرا کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں. میرا کوئی قصور نہیں. میری انگلیاں کیسی ہیں میرے دانت کیسے ہیں میری جنس کیسی ہے میرا قد کتنا ہے میرے اعضا کیسے ہیں، اس میں میرا کوئی اختیار نہیں”. میں بغیر سانس لیے بولے جا رہا ہوں. ساجدہ میری بات سن کر مجھ سے منہ موڑ گئی، کمرے سے نکلنے سے قبل دوبارہ میری طرف منہ کر کے طلاق کا مطالبہ کرکے کمرے سے نکل چکی ہے. اگلے دن ساجدہ اپنے بھائی کے گھر سے تمام خاندان تک گذشتہ دن کی گفتگو پہنچا چکی ہے. میرے پاس خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے. میں نے دو گھنٹے سے فون بند کر رکھا ہے. میں سوچ رہا ہوں. شام کو ناصرہ اور بچے بھی گھر تک آئے مگر دروازے پر لاک دیکھ کے چلے گئے، مجھے کالز کرتے رہے، مگر میں اندر   کھڑا  دیکھتا رہا. نجانے کتنی دیر سے کھانا بھی نہیں کھایا ہے. رات ہونے کو آ گئی ہے. فیس بک پر بھی تیسرے روز یہ قضیہ آ چکا ہے. گیراج سے کار نکال کر بابر کینال کی طرف رواں ہو گیا ہوں. نہر میں چھلانگ… میرے اوسان خطا… میں نے کیا کر دیا ہے. میں نے اوپر اٹھنے کے لیے زور لگایا ہے مگر پیٹھ پہ بندھے بیس کلو وزنی بیگ نے اوپر اٹھنے کی سکت ہی چھین لی ہے… آنکھیں سانس نہ ہونے کی وجہ سے باہر نکلنے کو آ گئی ہیں مگر گدلے پانی کے دباؤ سے… میرے دماغ پہ اندھیرا…… چھا…. ساجدہ…. رسول بخش… پانی…!

آج بائیس فروری ہے. ہمیشہ کی طرح آج کی صبح اکیلے آنکھ نہیں کھلی. بلکہ میرے بیڈ روم میں میرے ساتھ نگہت لیٹی ہوئی ہے. آج ہمارا ولیمہ ہوا تھا. آج ہماری شادی کو گیارہ سال گزر چکے ہیں. میں یہی حساب کتاب کر رہا ہوں. نگہت کیمپ سے باہر نکلی ہے. مجھے باہر تکیہ کے اوپر بیٹھے دیکھ کر مسکرا کر میرے کندھے پر سر رکھ کر میرے پاس بیٹھ گئی ہے. دیوسائی کی صبح اِسکی شام سے زیادہ معطر نظر آتی ہے. تھوڑے فاصلے پہ ڈرائیوروں اور ملازمین نے کیمپ لگا رکھے ہیں. ڈرائیور دونوں گاڑیوں کی صفائی اور انجن کی دیکھ بھال کر رہے ہیں. ملازمین ناشتہ تیار کر چکے ہیں. آنسہ اور پلوشہ دونوں کسی پرندے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں. دیوسائی میں آکر انسان آزاد اور فطرت کے نزدیک ہو جاتا ہے. آنسہ کی معصومیت اور پلوشہ کی شرارتیں مہمیز ہو گئی ہیں. رات جب آلاؤ کے گِرد بیٹھے ہوئے تھے تو تاروں کی چمکدار گلیکسی نے ہمیں دیوانہ بنا دیا تھا. ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور ہم چاروں گلیکسی کو دیکھ رہے تھے. ناشتہ کے بعد نگہت نے سب ملازمین کو مٹھائی کے پیسے دے کر کیک سجانے کو کہا. ہم ملکر کیک کاٹ رہے ہیں. آنسہ اور پلوشہ تالیاں بجا رہے ہیں. میں نے امریکن ڈائمنڈ سے دمکتا ہوا شاندار ہار پیش کیا تو نگہت نے مجھے دبئی کی مشہور خوشبو امرو نئٹ دان کی ہے. میں نے نگہت کے ماتھے کو چوم لیا ہے. گذشتہ گیارہ سالوں میں شادی کی یہ پہلی سالگرہ ہے جو ہم نے پاکستان میں منائی ہے. موٹرسائیکل پہ کورئیر پیکٹ اٹھائے بادل گروپ آف انڈسٹریز کے دفتر کی رواں دواں شادی کی سالگرہ کے دن ایسے مناظر سوچ رہا ہوں. میں کئی بار ایسے خیالات ذہن سے جھٹکتا رہتا ہوں. لیکن یوٹیوب پہ چڑھی ہوئی ویڈیوز دماغ میں کیڑے پیدا کرتی رہتی ہیں.

مجھے چوتھا دن ہے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا ہوا ہے. کچھ دکھائی نہیں دیتا. کچھ سمجھ نہیں آ رہی. کیا کروں کیا نہ کروں. دماغ گھوم گھوم جاتا ہے. الٹی اور متلی محسوس ہو رہی ہے. ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں. اگر پاکیزہ کو ساری بات پتہ لگ گئی تو بربادی ہی بربادی، دھوبی کے کتے کی طرح نہ گھر کا نہ گھاٹ کا رہوں گا. بتول نے بتایا ہے کہ اُس کو تیسرا ماہ لگ چکا ہے ماہواری نہیں ہو رہی. کتے کی بچی نے پہلے کیوں نہیں بتایا. حرامزادی صبح شام جاتی بھی کہیں نہیں، سارا الزام میرے اوپر ہی آنا ہے. پاکیزہ کے سامنے بتول نے کون سا میرا نام چھپا سکنا ہے. جبکہ پاکیزہ نے اگلے ہفتے سندھ ٹور سے واپس آ جانا ہے. چلتا چلایا گارمنٹس کا کام اور یہ خان گیری سب کی سب ریت ہو جانی ہے. پچھلے ہفتے سارا دن ساری رات ہم اکیلے گھر میں کتے کاریاں کرتے رہے ہیں مگر سور کی اولاد نے اُس وقت بھی نہیں بتایا، اب آکر بہت شرما کر بتا رہی تھی جیسے میں نے اُس کو بیوی بنا لیا ہو. مجھے آخری پناہ گاہ مسجد نظر آ رہی ہے. شہر کی اعلی ترین مسجد کے ہال میں بیٹھ کر جمعے کے لیے آئے خطیب کی بورنگ مذہبی گفتگو سننی پڑ رہی ہے. اچانک ایک صاحب نے ہاتھ کھڑا کرکے مولانا سے اشارتاً سوال کرنے کی اجازت مانگ کر عجیب واہیات سا سوال داغ دیا کہ شیعہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا ٹھیک ہے یا نہیں؟ آفس میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے؟ اور کچھ منع کرتے ہیں۔ شیعہ کے بارے میں آپ کے پاس جتنی معلومات ہوں مجھے فراہم کریں.

مولانا صاحب ہلکا سا مسکرا کر اُس بندے کو بیٹھنے کا اشارہ کر رہا ہے. آگے سے مولانا نے ماموں ستار کی طرح ہوبہو بولنا شروع کر دیا ہے کہ شیعہ کے مختلف فرقے ہیں، جو فرقہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمتِ زنا لگاتا ہے یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا منکر ہے، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اللہ تعالیٰ کا حلول مانتا ہے یا ان کو نبی آخر الزماں اعتقاد کرکے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق وحی پہنچانے میں غلطی کا معتقد ہے یا قرآن کریم میں تحریف مانتا ہے وہ کافر ہے، اس سے تعلقات رکھنا اس کے یہاں کھانا پینا آنا جانا قطعاً ناجائز ہے۔ اور بیٹا اگر آپ اِس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ کی اعلی ترین تصنیف ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت کو پڑھیے. ماموں ستار بھی جب میرے گھر آتے ہیں بتول کو بھی یہی تلقین کہ سُنی ہو جاؤ، شیعہ ہو کر لازمی گناہ کاروں اور کافروں میں نام لکھوانا ہے. آگے سے بتول بھی جواب دیتی ہے. اِس کی یہی ادا تو اپنی طرف مائل کرتی ہے اور بندہ گناہ کر بیٹھتا ہے. بتول ماموں سے کہتی بھی رہتی ہے کہ میرے لیے پریشان نہ ہوا کریں میں آپ سے پہلے جنت میں جاؤں گی، پنج تن پاک کے صدقے سے. ماموں ستار بھی بس ایویں ملازمہ کے ساتھ بحث کرنے لگ جاتے ہیں. پاکیزہ کو بھی یہ سب اچھا نہیں لگتا کہ ٹھیک ہے ہم نے گھر کی ملازمہ کو اچھے سے رکھا ہوا ہے لیکن اب اُس کے ساتھ ایسی نجی بحث کا کیا تُک بنتا ہے.

آج میں بہت عرصے بعد رویا ہوں. دماغ فریش فریش سا ہو گیا ہے. خیر سجدہ میں اللہ سے دعا تو بہت مانگی ہے کہ دوبارہ بتول کو ہاتھ بھی نہ لگاؤں بس کسی طرح یہ تین چار ماہ کا حمل ضائع کرنے پہ یہ کتے کی بچی راضی ہو جائے. لیکن جو دماغ اِس مولانا صاحب نے چاٹا ہے اللہ معاف کرے کیسے کیسے فرقہ پرست اور فرقہ باز مولوی بن گئے ہیں. انہی کی وجہ سے ملک میں فساد ہے اور فرقہ واریت نے قسم سے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے. بندہ کہیں گھومنے پھرنے سے بھی ڈرتا ہے. مجھے تو اب تک سوات جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے. اور گدھے کے بچے کا سوال دیکھو کہ بھئی تجھے کیا پڑی ہے آفس والوں کی سننے کی، جو تیرے لیے فائدہ مند ہے اُس سے تعلق رکھ جو تیرے لیے فائدہ مند نہیں ہے اُس پہ لعنت بھیج. آگے سے تقریریں چیک کرو، جو صحابہ کو گالی دے، بھئی کسی کو کیا دماغ خراب ہے کہ اِن حالات میں کوئی بندہ کسی کے سامنے کسی صحابی کو گالی دینے کی چول مارے گا. اچانک میرے دماغ کی بتی جل اٹھی ہے. میں سیدھا آفس پہنچا ہوں، دو ریکارڈ فائل اٹھا کر آفس میں بتا دیا کہ بوریوالہ جا رہا ہوں. وہاں سے سیدھا گھر آکر دیکھا تو بتول سوئی پڑی تھی. اُس کا موبائل فون چارجنگ پہ کچن میں لگا ہوا تھا. میں نے بتول کے موبائل سے ماموں ستار کے نمبر پر میسج کرکے وہاں سے جلد از جلد نکلنے میں عافیت جانی ہے.

میرے موبائل پہ حاجی نثار کی یہ کوئی چھٹی کال ہے، میں نے ہمت کرکے فون اٹھایا تو انہوں نے مجھ سے کہا بوریوالہ سے فوراً گھر کی طرف پلٹو. گفتگو کے بیچ میں پاکیزہ کی کالز آنا شروع ہو گئی ہیں. میں نے حاجی نثار کی بات تفصیل سے سن کر پاکیزہ کی کال لی تو وہ بہت پریشان ہے. میں نے اُس کو بتایا بھی ہے کہ حاجی نثار ساری کہانی سنا رہا تھا اس لیے فون مصروف تھا. اُس نے فوراً پوچھا کہ ماموں ستار نے ایسا کیوں کیا ہو گا. مجھے جو واقعہ حاجی نثار نے سنایا وہی پاکیزہ کو بتا رہا ہوں کہ بتول نے ماموں ستار کے نمبر پہ حضرت عائشہ اور حضرت ابوبکر کو گالیاں دینے والے میسج بھیجے، اُس وقت ماموں سُو رہے تھے، جب مغرب سے پہلے ماموں جاگے تو موبائل فون پر ملنے والا میسج پڑھ لیا. پستول اٹھا کر موٹرسائیکل پہ ہی ہمارے گھر آ گئے اور بتول کو سر میں گولی مار دی. خود پولیس کو گرفتاری دے دی۔۔۔۔

ایڈیٹر نوٹ:اس کہانی کے  تمام کردار افسانوی ہیں،یہ کہانی معاشرے میں بڑھتی مذہبی شدت پسندی کے تناظر میں لکھی ہے!

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *