• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سوشل میڈیا پہ انعام رانا کے خلاف خطرناک شرانگیزی۔۔۔۔۔محمد رفیق مغل

سوشل میڈیا پہ انعام رانا کے خلاف خطرناک شرانگیزی۔۔۔۔۔محمد رفیق مغل

انگلستان کے شہرِ اقتدار لندن میں مقیم انعام رانا نہ صرف ممتاز قانون دان ہیں بلکہ علم و ادب سے آشنا مثبت روشِ فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ہمارا ان سے تعارف کا سبب بھی ان کا فہم و ادراک زور قلم ہی ہے جو ایک طویل ذہنی ہم آہنگی کے بعد بلمشافہ ملاقات پر منتج ہوا اور پھر ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چل نکلا۔ فیس بک پر ہمیں سبوح سید سے قاری حنیف ڈار صاحب ملے اور قاری صاحب سے انعام رانا، ان اصحاب کی جگر کھروچ کر لکھی گئی تحریروں سے تا دم تحریر ہم مستفید ہو رہے ہیں۔ انعام رانا سچے کھرے انسان، صاف گو متکلم اور نڈر و بےباک لکھاری ہیں جس پہ ان کی زیرِ ادارت وجود پانے والا مکالمہ دلالت کرتا ہے۔

گزشتہ  دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد جہاں فیصلے کی مخالفت کرنے والوں اور اس کی حمایت کرنے والوں پہ جذبات کی طوفانی کیفیت طاری ہے وہیں ہمارے یہ لائق فائق دوست انعام رانا بھی موجِ حوادث کے تھپیڑوں کی زد میں اس وقت آئے جب سوشل میڈیا پہ انھیں آسیہ بی بی کا وکیل کہہ کر ان پہ لعن طعن شروع کی گئی۔ “یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی” کے مصداق خیبر پختون خوا  کے ایک شخص قمر نقیب جو کہ حالِ مقیم راولپنڈی ہیں نے “آنچل خان” نامی ایک جعلی فیس بک آئی ڈی سے انعام رانا صاحب کی تصویر لگا کر انھیں آسیہ بی بی کا وکیل لکھ دیا۔ پھر کیا تھا، تحقیق  ِ حقائق حق سے نابلد، عقل و شعور سے عاری علم اور جستجو سے تہی دست و تہی دامن پاکستان کے جہلاء و علماء نما نے آناً فاناً اس من گھڑت اور جھوٹی خبر کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا۔ بات لعن طعن سے گالم گلوچ اور گالم گلوچ سے کفر کے فتووں اور قتل کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔ ایک اچھے خاصے شریف آدمی، محبت رسول خدا اور اسیرِ الفتِ اہل بیت کو ملعون کر کے کربناک کیفیت میں مبتلا کر دیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ انعام رانا نہ تو آسیہ بی بی کے وکیل ہیں۔ نہ یہ کیس کی سماعت کے دوران پاکستان گئے اور نہ کسی اعتبار سے آسیہ بی بی کے کیس  کے معاملات میں شامل ہیں۔ یہ ان پہ الزام سو فیصد دروغ گوئی پہ مبنی ہے۔ اب قمر نقیب اپنے ویڈیو پیغام میں انعام رانا سے معافی مانگ رہے ہیں لیکن اس حقیقت کو کیونکر نظر انداز کیا سکتا ہے کہ ان کی یہ معافی اور وضاحت پہ کوئی کان نہیں دھرے گا۔ جن جاہلوں نے یہ جاننے کی سعی نہیں کی کہ ملزم پہ الزام غلط ہے یا درست وہ یہ کب جان پائیں گے کہ انعام رانا کے ساتھ کیا گیا یہ سنگین اور جان لیوا عمل مزاح تھا۔ جس عوام نے انعام رانا کے خلاف جھوٹی بات کو جانے انجانے میں شیئر کیا انھیں تو دعائے قنوت بھی نہیں آتی ہوگی اصل ذمہ دار وہ علماء نما ہیں جنھیں سورت الحجرات کی آیت مبارکہ کا علم ہی نہیں جس اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے کہ “ اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی (گروہ) کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر اپنے کیئے پر تمہیں شرمندہ ہونا پڑے۔” (القرآن )

اگر آپ اپنے آپ کو عالم بھی کہیں اور کفر کے فتوے بھی بات بے بات بے بھاؤ نکالتے رہیں اور ارشاداتِ ربانی سے نابلد ہوں یا جانیں تو عمل پیرا نہ ہوں تو آپ عشق رسول سے سرشار نہیں بلکہ اپنے اندر کے خناس میں مبتلاء ہیں۔ نبی رحمت کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے” انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو بات سنے وہ بغیر تحقیق لوگوں سے کہہ دے” جن لوگوں نے انعام رانا کے خلاف جھوٹ پر مبنی پرپیگنڈہ کیا۔ جھوٹی بات شیئر کی وہ نہ صرف تائب ہوں بلکہ انعام رانا سے معافی کے بھی طلب گار ہوں وگرنہ کِل بروزِ حشر رُوبروئے مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی رحمت کے عاشق صادق انعام کا ہاتھ ہوگا بہتان لگانے والوں کے گریبان۔۔۔
بچیے اس وقت سے جب آپ کعب بن اشرف اور عبداللہ ابن ابئی کے ساتھ کھڑے کر دیے جائیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *