رہائی۔۔۔۔۔۔۔ فہد احمد

پاکستان میں گذشتہ ایک ہفتے سے Hot Topic آسیہ مسیح کی رہائی ہے  ،  عدالتی فیصلے کے بعد سے ہی  ملک میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا ،

آسیہ مسیح تو شائد دوبارہ اپیل میں رہا ہویا نہ ہو، لیکن اس فیصلے کے خلاف اٹھنے والے طوفان نے کئی پابند سلاسل موضوعات کو رہائی دلا دی ہے

وہ  مراحل جنہیں طے کرنے میں ہمیں شائید دہائیاں لگتیں  چند دنوں میں ہو گئے ہیں با وجود اسکے کہ انکی قیمت ہمیں خون سے چکانی پڑی ہے ، جہاں  یہ مراحل سیاسی ہیں وہی نظریاتی بھی ،   جن کو ایک عام پاکستانی نے بھی سمجھ اور محسوس کر لیا ہے ،  جس نے ایک صبح روشن کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔  چند  نکات پہ نظر ڈالیئے

1۔  حالیہ دھرنے نے سب سے پہلا کام  لبرل و  بائیں بازوکی جماعتوں کو جو اس سے قبل فوج مخالف  و  عدلیہ مخالف تھیں  فوج کے ساتھ لا کھڑا  کیا۔

کہ تنقید اپنی جگہ مگر ہم کسی صورت کسی بھی گروہ کو فوج میں کسی طرح کی بغاوت و عالی عدلیہ کے ججز کی جان لینے کی اجازت نہیں دیں گے اور  ریاست و ریاستی رٹ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ، اور اسکا عملی نمونہ دیا بھی گیا۔

2۔ اداروں  کی  پالیسیوں   کو من و عن تسلیم کرنے والوں و  غیر ریاستی عناصر سے نظریں چرانے  پہ خاموشی اختیار کرنے والوں نے  بھی  آخر ببانگ دہل کہا ہے کہ اب مزید یہ برداشت نہیں ہو گا ، کسی  بھی ایک گروہ یا فرد کو منظم طور پہ  قانون سے ماورا ہو کر اس حد تک جانے کی اجازت نہیں  دی جانی چاہیئے  کہ کل کو  وہ ریاست کے لیے ہی خطرہ بن جائے ، اور یہ  سلسلہ ختم ہونا چاہیئے۔

3۔  حساس مذہبی معاملات پہ حقائق تک رسائی کے بغیر ان سے  متعلق  مذہبی رہنماوں کی آراء و فتوی کو خاموشی سے تسلیم کرنے کی بجائے عوام نے ان معاملات کی شفافیت کو سامنے لانے اور دلائل کے ساتھ  بات پہ قائل کرنے کی  خواہش کا اظہار بھی کیا اور اس کے بغیر صرف جذباتی طور پہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیئے  تسلیم کرنے سے انکا ر بھی کیا ، اور  بغیر تحقیق حق ناحق کسی کو بھی قتل کرنے  کی مذمت کی۔

4۔ سب اہم پیشرفت وہ نظریاتی  تبدیلی ہے کہ عوام کو احساس ہوا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جب احتجاج کے نام پہ  عوام کو تکلیف دیتی ہے راستے بند کرتی ہے ، سرکاری املاک و نجی املاک کو نقصان پہنچاتی ہے اور نا حق بدلے میں عوام کچلی جاتی ہے یا دکانیں لوٹی جاتی ہیں یہ سب غلط ہے ۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے اور جو بھی کرے غلط ہے ، اس بار سب نے یک زبان ہو کر اس عمل کو رد کیا، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ آ ئندہ سیاسی جماعتیں احتجاج کے اس طریقہ کار کو نہیں دہرائیں گی ۔ عدلیہ کے فیصلہ کو نا پسند ہونے پہ بھی تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔

وہیں شر پسند عناصر کی پردہ پوشی کی بجائے اس بار انکی ویڈیوز کے ذریعے نشاندہی کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں جس   پہ کامیابی اور سختی سے  سزا دی جائے تو  آئندہ کے لیئے شہری علاقوں میں مسلح  انتشار کا خاتمہ ہو گا اور ریاست کی رٹ بحال ہو گی۔

5۔  اسی دوران ہونے والے دلخراش واقعات جس میں مختلف مسالک  کے لوگوں  کا ،  دھرنے کے دوران  سڑک پہ منتشر بلوائیوں کے ہاتھوں  تبلیغی جماعت کے چند ارکان  و مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ   مسلک سے بالا تر ہو  کر مذمت کرنا اور حمایت کرنا  فرقہ وارانہ سوچ کو کمزور کرنے میں اہم ثابت ہوا ہے ، وہیں بین المسالک رابطہ کاری میں بہتری آئی ہے اور  تعلیم یافتہ نوجوان نسل نے ہر طرح کی مسلکی شدت پسندی و منافرت کو رد کیا ہے ۔  ایک ایسی نسل کی تیاری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جو دین سے محبت کرتی ہے مگر مسلک پرستی ، شخصیت پرستی ،  نفرت انگیزی و شر پسندی سے بالا تر ہو چکی ہے ۔  مزاج میں نرمی آئی ہے۔ وہیں بعض عناصر میں   شدت پسندی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے مگر میرا خیال ہے یہ وقتی ہے اور جلد نوجوان نسل اس سے متنفر ہو جائے گی۔

جہاں اس دھرنے میں دلخراش واقعات نے اس   پورے  مرحلے کو تکلیف دہ  بنایا ہے وہیں اس کے مثبت پہلو بھی ہیں۔  بہت کچھ ہے لکھا جا سکتا ہے ، بحث ہو سکتی ہے ، مگر میں ان پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ میرے لیئے یہ درد بے شمار بیماریوں کے لیئے کیئے  جانے والے آپریشن کا درد ہے جس سے مجھے امید ہے کہ ہمیں کئی تکالیف سے رہائی ملے گی ،کہ۔۔۔

خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔۔

پاکستان زندہ باد ، پاکستانی قوم پائندہ آباد۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *