پہلی محبت۔۔۔اسامہ ریاض

جب میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تو مجھے اُس سے پیار ہو گیا۔ ہاں وہی پیار جس کا ذکر فلموں میں ہوتا ہے، پہلی نظر والا پیار۔ اُس کی دلکش ادائیں اور چاند کی روشنی کو ماند کر دینے والا حسن میری روح میں اُتر گیا۔ میں بس اُسے دیکھتا ہی چلا گیا اور اپنے اردگرد سے بےخبر ہو گیا۔
وہ میری پہلی محبت تھی اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میں محبت سے عشق تک پہنچ گیا۔ ہر وقت وہ میرے ساتھ رہتی۔ بلکل مومن خاں مومن کے شعر کی طرح لیکن اُن سے تھوڑی معذرت کے ساتھ
تم مرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
میں ہر وقت اُسے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ ایک لمحہ کی جدائی بھی مجھے قیدِ تنہائی لگتی تھی۔ اُس کی موجودگی میں مجھے دنیا کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔ باہر جاتے ہوئے جب وہ میرے ساتھ ہوتی اور یہ ظالم معاشرہ اُسے اپنی ہوس بھری نظروں سے دیکھتا تو میرا جی چاہتا کہ اِن درندوں کی آنکھیں نکال دوں۔ میرا جی چاہتا کہ میں اُسے اِس ظالم سماج سے کہیں دور لے جاوں جہاں ہماری محبت کو کسی کی نظر نہ لگے۔
میرے برسوں پرانے ایک دوست کی اُس پر نظر پڑی اور اُسے بھی پہلی نگاہ میں اُس سے پیار ہو گیا مگر میں نے اپنے عشق پر دوستی قربان کر دی۔ میں نے اُس بےوفا دوست کو دھکے مار کر گھر سے نکال دیا جو ہم دونوں کے درمیان آنا چاہتا تھا۔ اُس سے مل کر مجھے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ عشق سچ میں آگ کا دریا ہے۔ میں  اُس کی محبت  میں دیوانہ ہوتا جا رہا تھا اور میری دیوانگی روز با روز بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ وہ دن تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا یا وہ کوئی اماوس کی رات تھی جس روز ہم بچھڑے۔ جس روز یہ ظالم معاشرے ہمارے درمیان اپنے خونخوار پنجرے گاڑ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ دن آج بھی یاد کرتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے، میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔
میں اُسے آخری بعد محبت بھری نظروں سے اُسے الوداع بھی نہیں کر سکا۔ وہ جمعہ کا دن تھا جب ہم ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ میں اُسے اپنے ساتھ لے کر جمعہ کی نماز پڑھنے گیا تھا اور کسی ظالم نے وہاں سے میری گلابی ہوائی چپل اُٹھا لی اور دو محبت کرنے والے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *