جمہوریت – انتخاب اور موازنہ

پاکستانی قوم جس کو الیکشن سمجھ کر امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کرتی ہے دراصل وہ دو کرپٹ امیداواروں کے درمیان ووٹر کا موازنہ ہوتا ہے۔جیتا ہوا امیدوار ووٹر کاموازنہ جیت کر آتا ہے اس کا انتخاب بن کر نہیں۔ جس دن اس قوم کو موازنے اور انتخاب کا فرق معلوم ہوگا اس دن مغربی اقوام کے طرز کی جمہوریت یہاں بھی پنپ جائے گی۔اور جس دن اصل مغربی جمہوریت یہاں پر ٹھہری تو اصل اسلام , اصل خدمت اصل, اصل نظام اور الغرض اصل خلافت بھی ٹھہر جائے گی۔وہ کیسے؟اور کیوں؟
جی وہ ایسے اور اس لیئے کہ مغربی جمہوریت کی 90% فیصد اساس مسلمان سلف صالحین کی سوچ, عمل, حقائق اور اسلام پر منطبق و منتج ہے۔آپ مغربی ممالک کے کسی بھی ملک کا آئین اٹھا کر پڑھ لیں۔ان کےشہری و دیہی علاقوں کا دورہ کرلیں۔انکے ساتھ وقت گزار کر دیکھ لیں۔آپ کو حیرت کے شدید دورے پڑیں گے کہ جو خوبیاں اور جو معاشرتی اقدار و اخلاقیات آپ کو ان میں نظر آرہی ہونگی وہ آپ نے کہیں پڑھی, سنی یا کہی ہونگی۔کہاں؟کب؟ارے ہاں یہ خوبی یہ عادت یہ قانون یہ اخلاقیات تو نبی محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی ہیں۔ارے یہ ادا تو ابو بکر رض کی درج ہےتاریخ میں۔اور ہاں یہ عمل تو عمر رض کا تاریخ میں درج ہے۔یہ سخاوت و ایثار تو عثمان کا پڑھا تھا۔یہ فی البدیہہ علمی جواب اور معلومات کا ذخیرہ تو علی رض سے منسوب ہے۔غرض حضور ص سے لیکر قرون اولا تک کے سلف صالحین کی اقدار مغربی جمہوریت میں جھلکے گی بلا مبالغہ۔
پھر ہم کس نظام اور جمہوریت کی مار کھارہے ہیں؟کس نظریےکا تاوان چکا رہے ہیں؟کس سمت کو جا رہے ہیں؟اگر خود مغربی ہمارے سلف صالحین کے نظام سے جڑ کر بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہمیں وہ سب کیوں فرسودہ اور بوسیدہ دکھائی دیتا ہے؟یا وہ ہمیں اس نظام کو اپنانے کیوں نہیں دیتے؟کیا واقعی انکا نظام ہمارے سلف صالحین سے مستعار لیا ہوا ہے؟توپھر بھی وہ منتشر اور تباہ حال معاشرہ کیوں کہلائے جاتے ہیں؟کیونکہ وہ معاشرے کو دو حصوں, دو قِسموں میں تقسیم کرکے رہ رہے ہیں۔ایک انکی ذاتیات ہے اور دوسری اجتماعیت۔ذاتی حیثیت میں وہ انتہائی لِچر اور خود سر ہیں۔مگر جب اجتماعیت میں ہوں تو ان کا وجود پس پردہ رہ جاتا ہے اور نظام کی جھلک نمایاں ہوتی ہیں۔
وہ کامیاب اسی لیئے ہیں کہ انہوں نے وہ اپنایا جس کو اپنانے کا حکم ہمیں ملا تھا۔مگر وہ چالاک نکلے, انکے آباؤ اجداد چالاک اور بصیر نکلے۔انہوں نے بے تحاشا فضول جنگیں اور مہم جوئیاں کرکے اندازہ لگالیا تھا کہ معاشرے کا ٹھہراؤ, پھیلاؤ اور بقا کا راز اسلامی الہامی قوانین اور اسلامی شخصیات کی اقدار پر مشتمل نظام میں ہے۔مگر ایک مشکل تھی۔کیا؟اسلام کی حقانیت کی تسلیمات۔لیکن یہ کیا؟اس کا حل مل گیا۔ تاریخ میں یہ درج ہے کہ مغربی اقوام نے نہانے دھونے کے مسائل و اہمیت سے لیکر ہتھیاروں کی ایجاد اور حکومتی قوانین کے نافذ العمل کرنے تک صدیوں میں اسلامی نظام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار کو اپنی جمہوریت میں مدغم کیا۔اب وہ چند ایک خود ساختہ قوانین اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جمہوریت کہلائی جارہی ہے ورنہ دراصل تو وہ اسلام اور اسلامی قوانین ہی ہیں۔پھر ہم کس جمہوریت کاغلغلہ مچا کر دکان چلا رہے ہیں؟جی دراصل ہمیں انہوں نے جمہوریت کے نام پر وہ طاغوتی و کفریہ نظام دان کردیا جو انکے ہاں اب فرسودہ اور بوسیدہ تھا۔
وجہ؟وجہ نا ہماری اسلام سے دوری اور نہ ہی انکا کفر۔بلکہ ہماری نظام سے دوری اور انکا نظام سے قُرب۔نظام کونسا؟وہی جس کی اساس اسلام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار ہیں۔پھر ہماری ناکامی تو ہماری خود کی کمائی ہوئی ہے۔اس میں کسی کا کیا لینا دینا اور کسی کا کیا قصور؟اس لیئے انتخاب اور موازنہ کرکے بندے بدلنا چھوڑو۔نظام بدلو نظام۔وہی نظام لاؤ جس کی اساس اسلام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار ہوں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *