نقل مافیہ اور ہمارے حکمران

سندھ کو ویسے تو اللہ پاک نے ہر چیز سے نوازا ہے۔ تیل ہو یا قدرتی گیس کی بات ہو یا ہو کوئلے کی بات ،کیا چیز نہیں ہے جو سندھ کو اللہ پاک نے عطا نہ کی ہو۔ اگر نہیں ہے تو ادھر کے حکمرانوں کو عقل عطا نہیں کی ہے۔ اتنے قیمتی وسائل ہونے کے باوجود سندھ آج بھی ترقی نہیں کر رہا ۔کیونکہ اس کی اصل وجہ یہاں کا تعلیمی نظام ہے. ایک تو یہاں تعلیم کا کوئی معقول نظام نہیں ہے پرائمری سے لے کر انٹر تک جتنے بھی سرکاری اسکول یا کالجز ہیں اس میں سے زیادہ تر یہاں کے وڈیروں کی اوطاقیں بنیں ہوئیں ہیں اگر کچھ اسکول یا کالج کھلے ہیں تو وہاں پر استاد نہیں ہے۔ اگر استاد ہیں تو بلڈنگ نہیں ہے مطلب کوئی نا کوئی مسئلہ ضرور ہے ۔
اگر پڑھائی کے معیار کی بات کی جائے تو باقی صوبوں کی نسبت وہ بھی بہت کم ہے۔ بلوچستان صوبہ بھی تعلیمی معیار میں سندھ سے آگے جا رہا ہے. ایک طرف تو ہمارا تعلیمی نظامم بہت خراب ہے اوپر سے یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ کاپی کلچر کا ہے جس نے اب ایک ناسور کی صورت اختیار کر لی ہے۔اب تو اس ناسور سے چھٹکارا پانا مشکل ہی نہیں تقریبا ًناممکن نظر آرہا ہے کیوں کہ اب یہ بوٹی مافیہ ایک گینگ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور ہر پیپر کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں ۔ایک پیپر کے دو سے تین تک ایڈوانس بکنگ کی جاتی ہے جس میں وہ حل شدہ پیپر اس شاگرد کو پہنچاتے ہیں جس میں کالج یا اسکول کا پورا اسٹاف ملوث ہوتا ہے۔. یہ مافیا اب اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ سوالیہ پیپر تقسیم ہونے سے پہلے ان بوٹی مافیا تک پہنچ جاتا ہے اور سرکار ان کے آگے اتنی بے بس ہے کہ تعلیم کا وزیر یہ کہتا ہے کہ ہم مجبور ہیں کہ ہم کاپی نہیں روک سکتے۔
بھائی جب آپ کو ایک منصب دیا گیا ہےاور آپ اس پر پورا نہیں اترسکتے ہیں یا وہ کام نھیں کر سکتےہیں تو چھوڑ دیں۔ خدارا ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ میڈیا ہر پیپر میں براہ راست یہ کاپی کے مناظر دکھا رہا ہوتا ہےکہ کس طرح سرعام کاپی کی جاتی ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن نہیں دیکھتے تو حکام بالا نہیں دیکھتے۔ کاپی کلچر اب اتنا سنگین مسئلہ بن چکا ہےکہ لگتا ہے اب اس ناسور سے چھٹکارا حاصل کرنامشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن سا ہے، اور سرکار بھی کیوں چاہے گی کہ یہ کاپی کلچر ختم ہو ۔۔
کراچی،اندرون سندھ 11 اور 12 جماعت کے امتحانات میں نقل کا بازار گرم رہا۔ اردو کا پرچہ ہو یا سندھی کا پیپر طلباء کیلئے وبال جان بن گیا۔ بورڈ کے امتحان میں کتابیں کھول کر خوب نقل ہوئی۔ طلباء کی جانب سے امتحانی مراکز میں موبائل فونز کا بھی بے دریغ استعمال کیا گیا جبکہ کئی مقامات پر پرچے پہلے ہی آؤٹ ہو گئے۔ سندھ حکومت نے نقل روکنے کی بجائے میڈیا کے امتحانی مراکز میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے –
اب اوپر والے کے آسرے، باقی کٹی ہوئی زندگی گزاریں اور دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی کارروائی ہوتی ہے یا یہ کام یوں ہی چلتا رہے گا-

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *