توہین رسالت کے اصل مجرم۔۔۔۔آصف منہاس

خاتم النبین حضرت محمد مصطفیﷺ نام تھا، نام ہے اور نام رہے گا۔۔۔۔
رحم کا،شفقت ،عفو،درگزر،عدل،خوبصورتی کا،راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کا،دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا،دشمن کی بھی املاک کی حفاظت کا۔۔۔

اس کے مقابل پر اپنا ردعمل دیکھو۔۔۔تم ایک مجبور مسیحی عورت پر رحم نہیں کرنا چاہتے۔تم اس کی شفقت مادری کے نو سال کھا گئے۔بالفرض محال اس نے کوئی گستاخی کی بھی تو معافی کی طالب ہوئی  اور تم معاف کرنا نہیں چاہتے۔وہ کمزوربہانے سے درگزر کردیا کرتےتھے تم کمزوربہانوں سےپھنسانا چاہتے ہو۔اعلی عدلیہ کے مسلمان ججوں کے فیصلے کو تم چیلنج کرتے ہو، عدل سے کوسوں دور ہو۔
تم نے ملک کی تمام شاہراہوں ، سڑکوں، چوکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں ۔تمہاری وجہ سےعورتیں بچے، بوڑھے، مریض ، طالبعلم مشکلات کا شکار  رہے،تم غریبوں کی سواریوں سے لے کر ملک  کےوسائل تک کے درپے ہو۔

کہا گیا کہ” اگر اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ پر جس کی محبت کا تمہیں دعویٰ  ہے اس کے احکام اور سنت کی تمہیں ذرہ برابر بھی پروا نہیں۔ محض زبانی جمع خرچ سے تم دعوی ٰ حُبِ  نبی کرتے ہو لیکن عملی طور پر اس کی تعلیمات سے کوسوں دور بلکہ مخالف ہو۔

فرمایا “ نہیں ہے سنی سنائی بات خود دیکھنے کی طرح” ۔تم محض مفروضوں کی وجہ سے ایک گورنر اور ایک وفاقی وزیر کھا گئے تمہیں آج بھی علم نہیں کہ سلمان تاثیر نے کہا کیا تھا۔

فرمایا”اپنے بھائی کو کافر نہ کہو “ تم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سپہ سالار کو ہی کافر بنا دیا۔

حکم ہوا کہ “اپنے مسلمان بھائی کو قتل نہ کرو”، تم نے ملک کی اعلی عدلیہ کے قاضیوں کے قتل کے فتوے جاری کردیئے۔

فرمایا “ زمین پر فساد نہ پھیلاؤ ” تم نے بغاوت تک کو ہوا دے دی۔

فرمایا “تمہاری زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے”۔ تمہاری نہ زبان سے کوئی محفوظ نہ ہاتھ سے۔

غور کرو اگر توہین رسالت کوئی چیز ہے تو سب سے زیادہ تم اس کے مرتکب ہوئے ہو، اگر اس کی کوئی سزا ہے تو تم اس کے حقدار ہو۔اگر کہیں گردن زنی کی سزا کی گنجائش نکل سکے تو تمہاری گردن سب سے زیادہ اس کی اہل ہے۔ اگر ارتداد کی کوئی سزا ہے تو غور کرو تم ہی تو سزا وار نہیں ٹھہرتے؟ یاد رکھو توہین رسالت کے بے شمار مجرموں کو معاف کیا گیا لیکن باغیوں کی اور بغاوت پر اکسانے والوں کی سرکوبی ہمیشہ کی گئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”توہین رسالت کے اصل مجرم۔۔۔۔آصف منہاس

  1. آصف منھاس صاحب ۔ ماشااللہء اچھی تحریر ھے۔ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں بتائی جو ایک عقل مند انسان نہ سمجھ سکے۔ ھمارا مسلئہ یہ ہے کہ اس انسان نما جانور جس کو آج کل مولوی کہاجاتا ھے کو انسانوں کے ساتھ کھلا نھیں جاسکتا لیکن۔واپس بند کرنے کی جرآت بھی کسی ادارے میں نھیں ۔ اس کے لئے ایک حکمت عملی چاھئے ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *