شدت پسندی کا منطقی تجزیہ ۔۔۔۔۔عارف کاشمیری

شدت پسندی کیا ہے ؟ اور کیسے پیدا ہوتی ہے؟
جب تک ہم شدت پسندی کی تعریف کا تعین نہیں کریں گے تب تک اس کے اسباب کو تلاش کرنا یا اس کا حل پیش کرنا ممکن نہیں۔ میرے مطابق شدت پسندی بنیادی طور پر ایک انسانی رویہ ہے جس میں شدت پسند بزور طاقت اختلاف کو کچل دینے کی خواہش رکھتا ہے ۔ یعنی ہر وہ شخص یا گروہ جو طاقت کے ذریعے اپنے خیال یا ایجنڈے کی تنفیذ چاہتا ہے وہ شدت پسند ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ اس کا خیال یا ایجنڈا کیا ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو شدت پسندی اپنی اصل میں مکالمے سے انحراف یا بلفظ دیگر مکالمے کے خلاف مزاحمت کو کہا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک انسان کیوں کر شدت پسندانہ رجحان رکھتا ہے؟

آپ نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے افراد دیکھے ہوں گے جو شدت پسندانہ ذہنی رجحان رکھتے ہیں۔ آپ اگر ان سب میں قدر مشترک تلاش کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام شدت پسند بہت سے حوالوں سے یکساں سوچ کے حامل ہوتے ہیں ۔ پہلی یہ کہ اس کے پاس علم کم اور انفارمیشن / معلومات زیادہ ہوتی ہیں اور عام طور پر یہ معلومات بھی یکطرفہ ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ہر شدت پسند اپنے مفروضے یا نظرئیے یا خیال کو حتمیت اور قطعیت کے درجے پر رکھتا ہے۔

شدت پسندی خواہ مذہبی ہو یا سیاسی اس کا نقطہ آغاز کسی نہ کسی نوع کے تعصب سے ہوتا ہے۔ مذہبی شدت پسندی کا آغاز مذہبی تعصب سے ہوتا ہے۔ مسلکی تعصب مسلکی شدت پسندی پر منتج ہوتا ہے تو لسانی یا گروہی تعصب لسانی یا گروہی شدت پسندی کا باعث بنتا ہے۔ اس اعتبار سے ہم شدت پسندی کی تعریف کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ متعصبانہ سوچ جسے جبرا معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے فی الاصل شدت پسندی ہے۔

لغوی اعتبار سے شدت پسندی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ انسانی رویہ جس میں سختی ہو ۔ یعنی کوئی فرد یا گروہ اپنے نظرئیے یا مفروضے پر مکالمے کی بجائے مجادلے کو فوقیت دے تو اسے شدت پسندانہ رجحان کہا جائے گا۔ شدت سے مراد سختی،مضبوطی، یا تیزی ہے۔ اس کا تعلق براہ راست انسان کے ذہنی رجحانات سے ہے اس کو انتہا پسندی بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ چیزیں اپنی اضداد کی وجہ سے اپنا مفہوم واضح کرتی ہیں اس لئیے جب ہم شدت پسندی کا اندرونی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کا ایسا متضاد نہیں ملتا جو اس کی قدر کے تعین میں معاون ثابت ہو۔

ہم اعتدال پسندی، عدم تشدد، روشن خیالی، رواداری، برداشت، صبر و تحمل، رحم و نرمی  جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار و تصورات کو اس کے بالمقابل پاتے ہیں۔ شدت پسندی کے جملہ متضادات اپنے بطن میں خیر کا عنصر لئیے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ اخلاقی آدرشوں پر مشتمل ان صفات کی موجودگی میں معاشرے پر شدت پسندی کا غلبہ بہت مشکل ہے۔ پھر کیوں ہمیں ہر گام پر شدت پسندانہ رویوں سے واسطہ پڑتا ہے؟ اس ضمن میں شدت پسند اذہان کے نفسیاتی تجزئیے سے مسئلے کو سمجھا جا سکتا ہے۔

انفرادی طور پر شدت پسندی افراد کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ افراد عام طور پر مختلف ذہنی رجحانات کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی کسی ایک فعل کے مختلف انسانوں پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ اسے ہم ایک تمثیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لال مسجد آپریشن ایک واقعہ تھا اس واقعے کے رد عمل میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں خودکش بمبار تیار ہوئے۔ بہت سوں نے اس واقعہ کو درست اقدام قرار دے کر اس کی حمایت کی۔ بہت سوں کا خیال تھا کہ اس واقعے سے بچا جا سکتا تھا لیکن مناسب کوشش نہیں کی گئی۔ بہت سوں نے اس واقعے کے پس پردہ سازشی تھیوریاں ڈھونڈ نکالیں۔ الغرض درجنوں اقسام کے ردعمل سامنے آئے۔ جن میں شدت پسندانہ ردعمل بھی موجود تھے ۔

ثابت یہ ہوا کہ شدت پسندی بالعموم کسی عمل کے اس رد عمل کا نام ہے جس کی شدت عمل کے کم از کم مساوی یا اس سے زیادہ ہو۔اس زاوئیے سے ہم شدت پسندی کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ ’’ہر وہ ردعمل جس کی شدت عمل کے مساوی یا اس سے کہیں زیادہ ہو شدت پسندی کہلائے گی‘‘

پاکستان میں شدت پسندی کے فروغ کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ یہ بھی بنی کہ  میڈیا پر شدت پسندی کی اصطلاح کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور مخصوص طبقات فکر کو نامزد کر کے ان پر شدت پسندی کا الزام دھر دیا گیا ۔ اگرچہ ان کے ہاں شدت پسندی اس سطح پر موجود نہیں تھی کہ اس کے استیصال کے لیئے ریاستی قوت کو بروئے کار لایا جاتا ۔ بطور مثال ہم بلوچستان کے سردار اکبر بگٹی کا واقعہ بیان کر سکتے ہیں ۔ اس اصطلاح کا غلط استعمال یا مخصوص مقاصد کے حصول کے لئیے استعمال کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہوا ۔

میڈیا کے ذریعے خاص طور پر مغربی میڈیا نے شدت پسندی کے اپنے الگ معیار مقرر کر لئیے۔ اور ہر اس فرد کو جو مغربی یلغار سے خائف تھا یا اس کی راہ میں مزاحم تھا اسے شدت پسند قرار دے کر اس اصطلاح کو مشکوک بنا دیا۔ جس کے رد عمل میں شدت پسندانہ سوچ ابھر کر سامنے آئی ۔ بلکہ بعض شدت پسند گروہوں نے شدت پسندی کے الزام کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب شدت پسندی نے معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔

جیسا کہ شدت پسندی کے ابتدائی تجزئیے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ شدت پسندی ازخود کسی شخص کا فکری و ذہنی رجحان نہیں بلکہ کسی مخصوص واقعے کے نتیجے یا رد عمل میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ اس کے تدارک کے لئیے ضروری تھا کہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جاتا تا کہ ہر انسان اس کے مقابلے میں خیر پر مشتمل اخلاقی اقدار کی جانب راغب ہوتا۔ بدقسمتی سے نائن الیون کے بعد اس اصطلاح کا بہت زیادہ غلط استعمال اس کے فروغ کا باعث بنا۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ رواں صدی کی پہلی دہائی میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیئے مقتدر قوتوں نے ایسا کوئی متبادل بیانیہ تشکیل نہیں دیا جو کارگر ہو سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کے ابتدائی دس پندرہ سال ہم قومی سطح پر شدت پسندی کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے ۔میرا کہنے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ اس سے قبل یہاں شدت پسندی موجود ہی نہیں تھی بلکہ یہ ہے کہ شدت پسندی کو معاشرے پر اس نوع کا غلبہ حاصل نہیں تھا جیسا کہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران دیکھنے میں آیا ۔ اب ایک بار پھر الحمد اللہ صورت حال بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ اب یہ امید پیدا ہو رہی ہے کہ ہم آنیوالے وقتوں میں مکالمے کے ذریعے شدت پسندانہ سوچ کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *