قومیت پرستی (نیشنلزم)۔۔۔۔ملک فیصل اعوان

امریکہ:
ساری دنیا کو لبرل لولی پاپ بانٹ کے اپنے ملکی معاملات میں قومیت پرستی کا بطور ہتھیار استعمال ( حالیہ مثال چائنہ کے ساتھ ٹریڈوار اور اس تجارتی جنگ سے پوری دنیا کی مارکیٹس میں اتھل پتھل مچاتے وقت اپنے انٹرنیشنل امیج کا نہیں سوچا، کوئی فیس سیونگ نہیں کی)
چائنہ:
سوشلسٹ ماڈل سے بڑی تیزی سے اپنے آپ کو لبرل اور ڈیموکریٹک ماڈل کی طرف لاتی مستقبل کی سوپر پاور، ملکی مفاد میں کٹر قومیت پرست (حالیہ مثال امریکہ کے ساتھ ہونے والی تجارتی جنگ میں امریکی مصنوعات کاعوامی سطح پر بائیکاٹ، نا انٹرنیشنل امیج کو ملحوظِ خاطر رکھا نا ہی فیس سیونگ کو ترجیح بنایا)
روس:
سوشلی ڈیموکریٹک اور اک کٹر قومیت پرست صدر جو ہر معاملے میں رشیا فرسٹ کی بات کرتا ہے۔ انٹرنیشنل امیج فیس سیونگ اس کے لیے بھی بے معنی۔
انڈیا:
مودی سرکار نے دنیا کا سب سے بڑا الیکشن قومیت پسندی کا نعرہ لگا کر جیتا، مذہبی انتہاپسندی اور ریاستی دہشت گردی جیسے نوکیلے خنجروں کا استعمال کر، مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کے بارے میں بولتے ہوۓ کبھی بھی انٹرنیشنل امیج اور فیس سیونگ کو اہمیت نہیں دی۔
اس سب کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جب قومیت، مذہب یا نسل پرستی پر اکھٹا ہوتے ہیں تو وہ قوم کبھی بھی انٹرنیشنل امیج یا فیس سیونگ کا نہیں سوچتی۔ اتحاد سے سرشار ایسی قومیں ہی اپنے مفادات کا تحفظ کر پاتی ہیں۔
ذات پات، فرقہ بندیوں، علاقائی صوبائی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہونے کے باوجود پاکستان کی قوم کی اک خاصیت یہ بھی ہے کہ ملک اور مذہب کے نام پر ہم اک جسم اک جان بن جاتے ہیں تو مکمل نہ سہی  پر کہیں نا کہیں تو یہ قومیت پرستی کا مادہ ہم میں موجود ہے۔ مگر افسوس کہ اس مادے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے سے ہمارے حکمران ڈرتے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر ان تک ہم دفاعی حکمتِ عملی اپنا کر صرف اور صرف اپنے انٹرنیشنل امیج اور فیس سیونگ کے چکروں میں پڑے رہے ہیں اور اسکے ثمرات ہمیں یہ ملے ہیں کہ  ہمیں  دہشت گرد قوم جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ انتہاپسند قوم بنیاد پرست قوم جیسےالقابات ہم سے مستقل طور پر جوڑ دئیے گئے۔
کنفرنٹیشن کرنے سے ہم کیوں کتراتے ہیں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے، سات دہائیوں سے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور بھارتی دراندازی کو کیوں ہم صرف سفارتی سطح پر ہی مذمتی قراردادوں کے ذریعے سے، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے اداروں کو خط لکھ کر ہی اپنا فرض ادا کرکے چپ ہو جاتے ہیں؟
مذمتی ٹوئیٹس کر دینے سے کیا ان شہدا کی قربانیوں کے ساتھ انصاف ہو جاتا ہے؟
جانے کتنے ہی برہان اپنی جانوں کا نذرانہ دے گئے اور ہم ان سب پہ خارجہ امور کے دفتر میں بیٹھ کے مذمتی بیانیے دے کر اپنا فرض ادا کرتے آ رہے ہیں۔۔ آخر کب تک؟
آخر کب تک ہم صرف دوسرے ممالک کی طرف تکتے رہیں گے؟
عالمی برادری نوٹس لے
اقوامِ متحدہ نوٹس لے
سکیورٹی کونسل کچھ کرے
سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟؟؟ کیا مودی سرکار یا ان سے پہلے آنے والی حکومتیں عالمی برادری سے اجازت لے کر کشمیر میں مظالم کی انتہا کرتی رہی ہیں؟ کیا حالیہ بیس ہزار نئے فوجی دستے اقوامِ متحدہ کی اجازت سے ڈیپلائی کیے جارے ہیں؟ حالیہ کلسٹر بم جو نہتے لوگوں پر استعمال ہورے ہیں وہ سکیورٹی کونسل سے منظور شدہ تھے؟
جب تلک بحیثیت  ملک ہم خود اس معاملے پر آگے بڑھ کے بیان بازی سے مذمتی قراردادوں سے اور عالمی برادری سے توجہ دلاؤ نوٹسز سے ہٹ کے خود ایگریسیو اور کنفرنٹیشنل پالیسی نہیں اپنائیں گے اس مسئلے کا حل ناممکن ہے۔
عرض یہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اب باتوں کی بجاۓ ایکشن لیا جاۓ۔ ہم کیوں نہیں اپنی فوج وہاں بھیج سکتے؟ انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ اب اس کو للکارا جاۓ کہ جنگ چاہتے ہو تو چلو آؤ اب جنگ کر کے ہی اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ انڈیا گیدڑ بھبھکیاں دیتا ہی اسی وجہ سے ہے کہ وہ جانتا ہے کہ انٹرنیشنل پاورز کے مفادات اس خطے سے جڑے ہوۓ ہیں تو ماس سکیل کی جنگ انٹرنیشنل برادری ہونے ہی نہیں  دے گی تو ہم کیوں نہیں اس بات کو استعمال کر کے دفاعی پالیسی سے نکل کر ایگریسیو پالیسی اختیار کرتے؟
عوامی طاقت کا استعمال کریں اور خدارا مسئلہ  کشمیر پر اک واضح سٹینڈ لیں۔ صرف بیان بازی والے کھیل سے نکل آئیں۔ اپنی جیو سٹریجیکل  لوکیشن اور خطے میں اپنی اہمیت کو کیش کریں، امیج بلڈنگ اور فیس سیونگ سے نکل کر آگے آ کر کھل کر کھیلنے کا وقت ہے۔ وگرنہ وہ وقت دور نئیں کہ جب کشمیری دوسرے سٹیک ہولڈرز کی طرف مدد کے لیے دیکھنا شروع کردیں گے۔یہ میری ذاتی رائے ہے۔میں جہاں غلط ہوں آپ میری رہنمائی کرسکتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *