• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • یکم نومبر 2016 گڈانی سانحہ کی دوسری برسی کی یاد میں ریلی‎

یکم نومبر 2016 گڈانی سانحہ کی دوسری برسی کی یاد میں ریلی‎

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جاپانی آئل ٹینکر میں یکم نومبر 2016 کو آگ لگنے کے بدترین سانحہ میں شہید ہونے والے 29 محنت کشوں کی دوسری برسی کے موقع پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے زیر اہتمام ایک ریلی گڈانی میں شہیدوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا. ریلی کی قیادت فیڈریشن کے مرکزی صدر محمد رفیق بلوچ کر رہے تھے. ریلی میں مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی. ریلی کا اختتام یارڈ نمبر 54 پر ہوا جہاں دو برس پہلے ) Fudreal M-T-Aces فیوڈرئیل ایم ٹی اکس نامی جہاز میں آگ لگنے کا المیہ ہوا تھا. اس حادثہ میں 29 مزدور شہید ہوئے جن میں سے 25 کی لاشیں مل گئیں تھی جب کہ 4 مزدوروں کی لاشیں نہیں مل سکیں. اس المناک حادثے میں 50 مزدور شدید زخمی ہوئے تھے.

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے کہا کہ سانحہ کے دو سال گزرنے کے باوجود شپ بریکنگ میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے اوقات کار اور زندگیوں میں کوئی بہتری واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں. اس واقعہ کے بعد وزیر دفاعی پیداوار کی سربراہی میں سینٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران پر اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جب کہ بلوچستان حکومت نے بھی حادثہ کے اسباب معلوم کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن ان دونوں کمیٹیوں کی رپورٹس دو برس گزرنے کے باوجود نہ تو عوام کے سامنے پیش کی گئی اور ہی اس کی سفارشات پر کوئی عمل ہوا. اس سے حکومت کی بے حسی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ شپ بریکنگ میں حادثات کا سلسلہ جاری ہے اور مزدوروں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں. مزدوروں کی جانب سے حکومت کو پیش کیے جانے والے ” شپ بریکنگ بل ” پر بھی قانون سازی کے لیے کوئی سنجیدہ مشاورت نہ کرنا بھی اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ حکام کو اس اہمیت کی حامل صنعت کو ترقی دینے میں کوئی دل چسپی نہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود شپ مالکان اور ان کے حواری جمعہ داروں کے قانون دشمن طرزِ عمل نے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو علاقہ غیر بنا رکھا ہے اور مزدوروں کو غلاموں سے بدتر حالات میں کام کرنے اور زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے.

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے صدر رفیق بلوچ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ میں شہید ہونے والے والے 29 محنت کشوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور جدوجہد کے ذریعے شپ بریکنگ میں لیبر قوانین اور آئینی حقوق کی پاس داری کو یقینی بنانے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا.

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ، بلوچستان ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوٹ، ماحولیات کا ادارہ اور دیگر متعلقہ محکمے مالکان کے ساتھ مل کر لیبر قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور حادثات روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ شپ بریکنگ یارڈ میں لاقانونیت کی بڑی وجہ شپ بریکنگ میں جاری غیر قانونی جمعہ داری (ٹھیکہ داری) نظام ہے جس کی پشت پناہی شپ مالکان کرتے ہیں. یہ مالکان ہی ہیں جن کی مکمل حمایت سے ارب پتی جمعہ دار نے جعلی یونین بنا کر مزدوروں کے نمائندے ہونے کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے. جب کہ مزدوروں کی حقیقی یونین کو آزادانہ کام کرنے مختلف حیلے بہانوں سے روکا جا رہا ہے. حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پچھلے پچاس سالوں سے اجتماعی سوداکاری کے لیے کوئی ریفرنڈم ہی نہیں کرایا گیا ہے.

شپ بریکنگ ورکرز یونین گڈانی کے جنرل سیکریٹری گل رحمان خان نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی گڈانی کے مزدور اور ان کے خاندان صاف پینے کے پانی، اسپتال، رہائش، اسکول اور کینٹین جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. ورکرز اجرت کے ساتھ ہفتہ وار چھٹی اور ڈبل اوور جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں. ٹھیکہ دار جعلی یونین کے نام مزدوروں سے چندہ کے نام پر زبردستی بھتہ وصول کرتے ہیں اور مالکان اس غیر قانونی عمل میں ان کو مکمل معاونت فراہم کرتے ہیں.

مزدور رہنماؤں نے اعلان کیا کہ شپ بریکنگ میں جاری لاقانونیت کے خلاف جاری مزدور مزاحمت کے ساتھ ساتھ دیگر انسانی حقوق اور مزدور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی ایک آئینی درخواست کے ذریعے انصاف کے حصول کی استدعا کی جائے گی. اس سلسلے میں معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بر ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر)؛؛ رشید اے رضوی سے مشاورت جاری ہے.

ریلی کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ مزدوروں کو اجرت کے ساتھ ہفتہ وار تعطیل دی جائے، تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، اوور ٹائم قانون کے مطابق ڈبل دیا جائے، کام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے، شپ بریکنگ کی صنعت میں بہتری کے لیے خصوصی قانون سازی کے لیے مزدوروں کی جانب سے پیش کردہ “شپ بریکنگ بل” پر بامعنی مشاورت کا آغاز کیا جائے، شپ بریکنگ سے متعلق ہانگ کانگ کنونشن کی توثیق کی جائے اور آئی ایل او کی جنوبی ایشیا کے لیے شپ بریکنگ سے متعلق گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، یونین سازی کے آئینی حق کو تسلیم کیا جائے، ورکرز کو سماجی تحفظ کے اداروں سے رجسٹرڈ کیا جائے، پینے کا صاف پانی، کینٹین، اسپتال، رہائشی کالونی اور اسکول جیسی بنیادی سہولیات فی الفور مہیا کی جائیں. غیر قانونی جمعہ داری نظام ختم کیا جائے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *