• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • مون لینڈنگ:صدیوں پرانے بت یکدم نہیں ٹوٹا کرتے۔۔۔۔۔ضعیغم قدیر

مون لینڈنگ:صدیوں پرانے بت یکدم نہیں ٹوٹا کرتے۔۔۔۔۔ضعیغم قدیر

ہم انسان چاند پہ گئے اس بات کو بہت سے انسان نہیں مانتے کیونکہ اگر وہ اس بات کو سچ مان لیں تو انکو اپنے اندر موجود بت توڑنا پڑتے ہیں۔چاند پر جانے کی سب سے زیادہ مخالفت وہ لوگ کرتے ہیں جو فلیٹ ارتھ پہ یقین رکھتے ہیں لیکن جب ان سے زمین کے آخری کنارے کا پوچھا جاۓ تو یہ جواب دینے کی بجاۓ بھاگ جاتے ہیں۔لیکن وہیں مون لینڈنگ کو ثبوتوں سمیت ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔

”جبکہ امریکی خلاء بازوں کے چاند پر جانے کے ثبوت کے لیے صرف روس کی ہی گواہی کافی ہے۔“

تھوڑا ماضی میں جائیے سرد جنگ اپنے عروج پر ہے امریکہ اور روس آمنے سامنے ہیں ہر دن ایٹمی جنگ کے ڈر سے شروع ہوکر اسی ڈر پر ختم ہوتا ہے۔ایسے میں امریکی دعوی کرتے ہیں کہ انکا مشن چاند پر لینڈ کر گیا ہے نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھ دیا ہے۔تو ایسے میں اس مون لینڈنگ کی سب سے زیادہ مخالفت کس کو کرنی چاہیۓ؟ روس کو کرنی چاہیے نا؟ اور ایسا ہونا بھی چاہیے مگر معاملہ اس سب کے برعکس جاتا ہے۔روس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سگنلز چاند سے ہی آۓ تھے۔امریکہ چاند پہ گیا تھا۔

پتا ہے روس نے ایسا کیوں کیا؟

کیونکہ روس جانتا تھا کہ انکی امریکہ سے دشمنی صرف زمینی ہے زمین سے باہر ہم بطور انسان ہی جانے جاتے ہیں۔اور سائنسی تحقیق و مشنز کرنا اور بھیجنا کوئی آسان کام نہیں۔اور سائنس میں بغض نہیں چلتا بلکہ حقائق کی مانی جاتی ہے۔یہی وہ سادہ سی بات ہے جو روس جانتا تھا سو اس نے امریکہ کا سخت ترین دشمن ہونے کے باوجود بھی مون لینڈنگ کی تصدیق کی۔حالانکہ روس کے پاس موقع تھا وہ امریکہ کیخلاف پروپیگنڈہ کرکے امریکہ کے دعوے کی تردید بھی کرسکتا تھا۔مگر انہوں نے ایسا نا کیا اور امریکی انسان کے فخر کو روسی انسان کا بھی فخر جانا۔

جبکہ وہیں کچھ لوگ اپنے اندر کے بتوں کی وجہ سے اس دعوے کو نہیں مانتے اور ان میں سے کچھ مانتے ہیں لیکن اپنے اندر کے بتوں کی چاہ میں آکر۔چاند کی لینڈنگ کے بارے تمام سائنٹفک اور نان سائنٹفک تمام سوالات کے جواب دئیے جا چکے ہیں۔آپ نیٹ پہ سرچ کرسکتے ہیں۔جبکہ وہیں اوپر تحریر میں میں نے ایک جیوگرافیکل،پولیٹیکل اور سٹرٹیجک دعوے کے طور پر بھی کچھ ثبوت دئیے ہیں۔ اب یہ آپکی مرضی ہے کہ ان حقائق کو مانیں یا پھر نا مانیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *