شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

سیاسی جدوجہد کے مواقع جب مسدود اور محدود کیے جاتے ہیں تو ایک انتہائی مجبوری کا عمل سرفروشانہ کردار کی انجام دہی بن جاتا ہے مگر اس میں جب تک انسانی اور اخلاقی حدود کو قدم قدم پر ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو اس کے فساد میں بدل جانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اس لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دینے کے عزائم رکھنے والوں پر لازم آجاتا ہے کہ وہ کسی مرحلے پر بھی اپنی جائز اور مقدس جدوجہد کو انسانی اور اخلاقی اقدار کی پامالی سے پراگندہ کر کے اپنی دنیا اور آخرت برباد نہ کریں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف افراد اور کچھ گروپوں کی تگ ودو رائیگاں جاتی ہے بلکہ جن ارفع واعلی مقاصد کے لیے کوئی قوم ایسا راستہ اختیار کر لیتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور تائید سے محروم ہو جاتی ہے اور اپنے مقاصد کے حصول میں کبھی کامیاب وکامران نہیں ہو پاتی۔

مقبوضہ کشمیر میں جب سیاسی طور پر راستے بند کر دیے گئے تو یہاں کی نوجوان نسل نے اسی سرفروشی کی راہ اختیار کر لی، تاہم آج لگ بھگ تیس سال گزرنے کے بعد اتار چڑھاؤ کے مختلف ادوار سے گزرنے کے بعد اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دینے کے باوجود یہ ڈٹے ہوئے ہیں، اس دوران سرفروشی کی راہ اختیار کیے ہوئے نوجوانوں نے راستے بدل بدل کر کام کیا لیکن قدم رکے نہیں اور نہ ہی جھکے، بلکہ قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھتے رہے۔۔ تاہم اس دوران بھارت کی حکومت بھی خاموشی کیسے اختیار کر لیتی اس نے بھی کھیل میں نئی نئی راہیں تلاش کیں، کبھی کیچ اینڈ کل تو کبھی آپریشن ٹائیگر، کبھی آپریشن توڑ پھوڑ تو کبھی آپریشن پکڑ دھکڑ جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ البتہ اب سازشوں میں اس قدر رنگ لایا جا رہا ہے کہ جیسے سازش نہیں بلکہ ہمدردی ہے۔ آپس میں ہی تفریق کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ کسی حد تک اگرچہ کامیابی بھی دکھائی دے رہی ہے لیکن ایں خیال است ومحال ست۔

تاہم سرفروشی کی راہ اختیار کرنے والوں کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور اگر ان کے درمیان دوریاں پیدا کی گئیں تو بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ حق اور ناحق کی بحث چھیڑ کر آج تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ وہ حق پر ہیں اور یہ ناحق، وہ اسلام کے لیے اور یہ غیر اسلام کے لیے۔ فی الوقت یہ ایسی سازش کی جارہی ہے جس سے ان کا مقصد ایک دوسرے کے دشمن بنانا ہے، اس سلسلے میں قیادت کو راہنمائی کے لیے کمر بستہ ہو کر جلد از جلد کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،ورنہ اگر اس وقت خاموشی اختیار کر لی گئی تو بہت خطرناک نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ہماری مذہبی قیادت، آزادی پسند سیاسی قیادت، مزاحمتی قیادت اور باشعور وذی حس لوگوں پر مشتمل قیادت و اشخاص کا تماشائی بننے کے بجائے قوم اور ملت کے اس حصے کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے اور یہ ایسا وقت ہے جب دور اندیشی کی ضرورت زیادہ ہے۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *