مزاحمت کی ایک سچی کہانی

ہم گزشتہ پندرہ سالوں سے ہر تعطیلات کے دوران اپنے ہم خیال دوست احباب سے مل کر اپنی بساط کے مطابق بلتستان میں کچھ تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ سن 2010 کی تعطیلات کے لیے بلتستان کے سب سے بڑے نجی تعلیمی نظام ’’ اسوہ ایجوکیشن سسٹم‘‘ کے تعلیمی نظام کو مزید معیاری بنانے کے لیے ایک مختصر المدت ایویلویشن پراجیکٹ لیا تھا۔ اس سلسلے میں ہم سکردو شہر میں تھے۔ ۶ اگست ۲۰۱۰ کی رات تھی، میں سکردو میں مدرسہ حفاظ القرآن میں ٹھہرا ہوا تھا۔ میرے گھر سے فون پر چھوٹے بھائی نے بتایا کہ ابو کی طبیعت اچانک خراب ہوئی ہے، اس لیے ہم انہیں تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور طولتی ہسپتال لے کر جا رہے ہیں، اگر کوئی زیادہ مسئلہ ہوا تو ہم انہیں سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال لے کر آئیں گے، لہذا آپ وہیں رکیں۔ ساری رات پریشانی کے عالم میں گزرا، فون کا نظام بھی کچھ خاص نہ تھا چنانچہ بار بار رابطہ بھی نہ ہو سکا۔ صبح سویرے سکردو میں مقیم ابو کے کزن اور ہمارے تایا حاجی عباس مدرسہ حفاظ القرآن کے مہمان خانے میں پہنچے اور ان کے ساتھ ہی مدرسہ کے پرنسپل برادرم غلام محمد اعظمی بھی، میرے سب سے چھوٹے بھائی حافظ جواد ہادی جو مدرسہ حفاظ کے ہی طالب تھے کو بھی مہمان خان میں بلایا گیا، چائے کا ایک ایک کپ پینے کے بعد ہم چاروں لوگ سکردو شہر سے ہمارے گاؤں ’’مادھوپور‘‘ کے لیے نکل گئے۔ جو وادی کھرمنگ میں سکردو شہر سے مشرق کی جانب ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ حاجی عباس اور برادرم اعظمی کی اس ہل چل سے مجھے اندازاہ ہو گیا تھا کہ صورت حال کچھ ٹھیک نہیں ہے اور یقینا ابو کو کچھ ہو گیا ہے، گاڑی میں حاجی عباس اور غلام محمد اعظمی دونوں کوشش کرتے رہے کہ وہ ہمیں باتوں میں مشغول رکھیں۔صبح سات بجے ہم گھر پہنچ گئے تو گھر میں ہر طرف خاموشی نظر آئی، پھر جیسے ہی کمرے میں بیٹھ گئے، آس پاس چھپے ہوئے سارے لوگ بیک وقت کمرے میں داخل ہو گئے اور مرثیہ پڑھ لیا گیا۔

بلتستان کی ثقافت کا یہ حصہ ہے کہ جب بھی کہیں فوتگی ہو تو اس کی اطلاع دینے کے خاص آداب ہیں، چنانچہ خونی رشتہ داروں کو کسی فوتگی کی اطلاع یوں اچانک نہیں دی جاتی بلکہ انہیں گھر بلایا جاتا ہے، پہلے سارے رشتہ دار اور محلہ دار اکھٹے ہوتے ہیں پھر انہیں بٹھا کر بلتی زبان میں مرثیہ پڑھ لیا جاتا ہے اور اس دوران اسے فوتگی سے متعلق بتادیا جاتا ہے۔

گھر میں ہمیں بتایا گیا کہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی ابو کی موت واقع ہو چکی تھی۔ گھر میں مرثیہ خوانی کے بعد پھر کچھ ہی دیر میں ہمیں مسجد لے جایا گیا جہاں والد مرحوم کی لاش غسل کے بعد قرآن خوانی اور آخری دیدار کے لیے رکھی گئی تھی۔ ایک دو گھنٹوں بعد ان کی نمازہ جنازہ اور تدفین کا عمل مکمل ہوا۔ یوں ۲۰۱۰ میں سات اگست کو ہارٹ اٹیک کے باعث ۴۸ سال کی عمر میں ہمیں آزمائشوں کی ایک نئی دنیا کے حوالے کر کے ہمارے سب سے بڑے مربی ہمارے شفیق والد دکاندار ’’محمد علی‘‘ مرحوم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بڑا بیٹا ہونے کے لحاظ سے باقی سب سے زیادہ میری ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔
سن دو ہزار کے آغاز میں ان کو معدے کی شدید تکلیف کے باعث سی ایم ایچ سکردو سے پمز ہسپتال اسلام آباد میں ریفر کیا گیا تھا جہاں چار مہینے وہ زیر علاج رہے۔ دوران علاج رہائش کے لیے جو مختصر سا گھر انہوں نے خرید لیا تھا وہی بعد میں ہمارا مسکن ٹھہرا۔ اپریل ۲۰۱۰ میں وہ مکمل صحت یاب ہو کر واپس گاؤں چلے گئے تھے۔
ہمارے والد مرحوم نے اپنا بچپن گاؤں میں اپنے و پرائے کے کاموں میں سخت مشقت کرتے گزاری، جب ان کو سکول جانے سے روکا گیا اور ہر وقت بامشقت کام پر مجبور ہونا پڑا تو چودہ سال کی عمر میں بھاگ کر کراچی نکل گئے، یوں وہ چار جماعتوں سے زیادہ رسمی تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ کراچی میں مختلف فیکٹریوں میں مزدوری کرتے رہے پھر گاؤں آئے جہاں دادا اور دادی کی خدمت کرتے رہے، اس دوران شادی کی، گاؤں میں آکر مختلف طرح کے کام کیے، ان میں کے ٹو کے کوہ پیماؤں کے سامان پہنچانے کا کام بھی شامل ہے۔ مال مویشی اور اپنی محدود زراعت کے ذریعے گزر بسر کرتے رہے۔ اسی دوران دادا اور دادی دونوں وفات پا گئے۔
۱۹۸۰ کی دہائی میں گاؤں میں موجود دو محلوں کے درمیان ایک میدان کی حق ملکیت کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوا، جس پر مختلف مقامی علماء نے مختلف بلکہ متضاد طرح کے فیصلے کیے (بلتستان میں تنازعات پر مبنی کم و بیش ستر فیصد کیسز کو مقامی علماء ہی چند ہفتوں کے اندر حل کرتے ہیں، جبکہ سکردو میں باقاعدہ طور پر محکمہ شرعیہ کے نام سے ادارہ قائم ہے جہاں بعض اوقات ڈسٹرکٹ کورٹ بھی اپنے کیسز ریفر کرتی ہے)۔ مذکورہ بالا کیس میں علماء کے متضاد فیصلے کے باعث کیس ڈسٹرکٹ کورٹ میں لے جایا گیا جو تقریبا ۴۰ سال بعد اب بھی حل نہ ہو سکا۔ اس تنازع میں والد صاحب نے اپنے محلہ والوں سے مختلف رائے اختیار کی اور کورٹ میں موجود کیس میں محلہ والوں کے ہمراہ فریق بننے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ میرے پاس کیس لڑنے کے لیے اضافی وسائل نہیں ہیں، جس کی بنیاد پر محلے میں ان کی مخالفت کا آغاز ہوا، اسی تناؤ کے دور میں ہی نوے کی دہائی میں کچھ درخت اور مال مویشی بیچ کر محلے میں ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ کاروبار پر توجہ دینے کے لیے والد مرحوم نے باقی زرعی سرگرمیوں کو کافی حد تک محدود کر دیا تھا۔ چنانچہ محلے کی چھوٹی سی دکان سے شروع ہونے ولا ہمارا کاروبار اگرچہ محلے سے باہر نہ نکل سکا مگر یہی ہمارا واحد ذریعہ معاش بن چکا تھا۔
سکردو شہر میں والد صاحب نے کاروباری حلقوں میں اپنا اعتماد اس حد تک بڑھا دیا تھا کہ جس ہول سیلر سے کہتا وہ بغیر چوں و چراں کے کافی مقدار میں سامان ادھار پر بھی دے دیتا تھا، شہر میں مختلف مسالک اور علاقوں کے کاروباری لوگوں سے بھی بہت گہرا تعلق قائم کر لیا تھا جس سے میں بہت متاثر ہوتا، کئی دفعہ اعتراض کیا کہ ’’وہابیوں‘‘، ’’نوربخشیوں‘ ‘، ’’پٹھانوں‘‘ اور ’’پنجابیوں‘‘ سے بھی آپ نے اتنا اچھا تعلق رکھا ہوا ہے اور ان سے اتنا زیادہ سامان لیتے ہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں‘‘ تو والد مرحوم جواب دیتے کہ بطور کاروباری ہمیں دو چیزیں دیکھنی ہوتی ہیں، ایک دیانت داری اور دوسری چیز مناسب قیمت، یہ دو چیزیں جس سے بھی ملیں کاروبار کے لحاظ سے یہی اچھا ہے، جہاں تک ان کے دشمن ہونے کی بات ہے وہ درست نہیں ہیں، ہر اچھے کردار کا مالک انسان ہمارا دوست ہے چاہے اس کا مسلک مختلف ہو اور برے لوگوں سے ہم دوستی نہیں کرتے چاہے وہ ہمارے مسلک کا یا ہمارے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، ایسے موقع پر وہ بار بار برادران یوسف کی مثال دیتے رہتے تھے۔
اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں جب میں لاہور میں تھا تو لاہور سے اور جب میں اسلام آباد آیا تو راولپنڈی سے ہول سیل پر سودا منگواتے تھے اور سکردو شہر کے ہول سیل ریٹ پر گاؤں میں سودا بیچتے تھے جس سے ہمارا بھی فائدہ ہوجاتا اور عوام کو بھی سکردو شہر سے بھی زیادہ سستا سودا گاؤں میں ہی مل جاتا جس کے باعث دکان اچھی چلتی، دُور دراز سے لوگ سودا خریدنے ہماری دکان پر آجاتے تھے۔
اسی کاروبار کے توسط سے انہوں نے ہمیں بہترین ممکنہ تعلیم و تربیت دلائی، سکردو، لاہور اور اسلام آباد میں ہماری اعلیٰ تعلیم کے لیے اخراجات کا کافی حصہ اسی دکان سے پورا کیا جاتا رہا۔ ہماری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے غیر معمولی مشقت کی اور بے پناہ قربانیاں دیں۔ ہمیں انہوں نے مختلف طرح کی صحبتوں اور تعصبات سے بچائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کا ہماری سوچ و کردار پر گہرا اثر ہے۔
جب نوے کی دہائی میں گلگت بلتستان میں مقامی انتخابات ہوئے تو سارا محلہ تحریک جعفریہ پاکستان کے امیدوار کی حمایت میں پُرجوش تھے جبکہ اکیلے ہمارے والد مرحوم نے ان کی مخالفت کر دی اور گلگت بلتستان کے معروف لیڈر اور آزاد امیدوار بیرسٹر سید اسد شاہ زیدی کا کھل کر ساتھ دیا۔ سید اسد شاہ زیدی فقید المثال سیاست دان تھے اور ناردرن ایریاز قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کے عہدے کے دوران انہیں ۲۱ اپریل ۲۰۰۹ کو گلگت میں قتل کیا گیا۔ مقامی انتخابات کے ہر مرحلے میں محلہ والوں کے مخالف لیڈر یعنی سید اسد شاہ زیدی کی حمایت کرتے رہے مگر ان کے قتل کے بعد والد مرحوم نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔ وہ یہی کہتے تھے کہ اسد زیدی سے زیادہ کوئی قابل جس پارٹی سے آئے اس کی حمایت کروں گا مگر حلقے میں ان کے مقابلے کا کوئی بھی سیاست دان کسی بھی پارٹی کے پاس نہیں تھا۔ اس لیے وہ کہتے کہ میں کس طرح سیاسی میدان میں ایک زیادہ اہلیت رکھنے والے امیدوار کو چھوڑ کر اس سے کم اہلیت والے امیدوار کی صرف اس کی عبا قباء یا نعروں کی بنیاد پر حمایت کروں۔
مقامی سطح پر مذہبی سیاست کے حوالے سے والد مرحوم کا موقف تھا کہ یہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا استعمال کر کے لوگوں میں منافرت پھیلا رہے ہیں، ورنہ وادی کھرمنگ جو آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک ہی مسلک یعنی شیعہ اثنا عشری ہے، سے اٹھنے والا ہر امیدوار اسی مکتب فکر سے ہی ہوتا ہے اور امیدوار جس بھی سیاسی پلیٹ فارم سے سامنے آئے ہر ایک کو اپنا مذہب اتنا عزیز ہے۔

ایک طرف والد صاحب کے اصولوں اور مزاحمتی کردار اور دوسری طرف کانوں کو وقتا فوقتا ٹکراتی آوازیں اور نعرے، انہی تضادات کی گہری لہروں میں ہم نے اپنا بچپن گزار دیا۔ مزاحمت کی زندگی گزار تے ہوئے علاقے کے تنازعات و رسومات سے لے کر کھرمنگ کی سیاست تک انہوں نے ہمیشہ پاپولر بیانیے کو چیلنج کیا بلکہ اس کے خلاف مزاحمت کی جس کی قیمت انہیں سماجی طور پر قطع تعلقات، مخالفتوں و منافرت کا نشانہ بننے کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ ان کے اپنے اصول تھے جن پر وہ سختی سے کاربند رہتے تھے، باد مخالف سے وہ کبھی نہیں گھبراتے تھے۔
سماجی زندگی میں انصاف پسندی، غریب پروری، حق گوئی اور بے باکی ان کی عادت تھی، جس بات کو درست سمجھتے وہ مصلحتوں اور ملامتوں کی پروا کیے بغیر کہہ دیتے، مقامی سطح پر بڑے مضبوط لوگوں کی مخالفت کی جرات کرنے کی عام طور پر کسی کو ہمت نہ ہوتی مگر والد مرحوم ان کی منافقانہ روش کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کی سرعام مخالفت و مزاحمت کر لیتے تھے۔ زندگی کے آخری ایک دو سالوں میں کافی حد تک گوشہ نشین ہو چکے تھے اور ان کا مزاج اپنے مخالفین کے ساتھ بھی کافی نرم ہوگیا تھا۔
علم دوستی کا یہ عالم تھا کہ سکول کے طلبہ و اساتذہ کا خاص خیال رکھتے اور ان کے لیے رعایتی قیمتوں پر سودا دیتے۔ نادار طلبہ کو مفت میں سکول کتابیں، کاپیاں اور وردیاں دیدیتے ہیں۔ وہ مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے، ان میں زیادہ تر مذہبی کتابیں ہوتی تھیں، دوران تعلیم میں، جب چھٹیوں پر جاتا تو والد مرحوم کے لیے ان کے ذوق کے مطابق کتابیں لے کر جاتا تھا۔ علاقے کے اور بھی لوگ ان کو کتابیں لے کر جاتے تھے، کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد والد مرحوم علاقے کے دیگر علم دوست لوگوں کو وہ کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیا کرتے تھے، علاقے کے علم دوست لوگ اور سماجی فکر رکھنے والے نوجوان ان کے پاس آتے اور گھنٹوں تک علمی مکالمہ کرتے رہتے۔ جتنا وہ مخالفین کے لیے سخت مزاج تھے عام انسانوں خاص طور پر ضرورت مندوں، معذوروں اور مسافر لوگوں کے ساتھ خصوصی انکساری سے پیش آتے اور ان کا بھرپور خیال رکھتے اور ان کی گھر میں بھی بلا کر خدمت کرتے تھے۔
علاقے کی پسماندگی سے متعلق وہ یہ جملہ بھی بار بار دہراتے تھے کہ ’’ہمیں ہمارے گزارے نے پیچھے رکھا ہے‘‘ جن لوگوں کے لیے غربت اور سختی کے باعث گزارہ مشکل ہو گیا وہ لوگ باہر نکلے اور اور انہوں نے بہت ترقی کی۔ ہمیں اپنا گزارہ یہیں ہو رہا ہے اس لیے ہم یہیں تک محدود رہ گئے اور آگے نہ بڑھ سکے۔‘‘
نجی زندگی میں سحر خیزی ان کاشیوہ تھا، صبح شام گھنٹوں تک دعا و مناجات کرتے رہتے تھے، بہت زیادہ کفایت شعار تھے۔ کبھی بھی انہوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے، پُرانے کپڑوں پر پیوند کر کے پہنتے تھے، جب ہم کچھ زیادہ اعتراض کرتے تو بازار سے ہمارے لیے نئے اور اپنے لیے پُرانے کپڑے خرید لاتے تھے۔ کوئی نئے کپڑے ان کو بطور تحفہ بھی لے آتے تو وہ اسے کسی ضرورت مند کو دیدیتے تھے، وہ یہی کہتے میں اس عمر میں نئے کپڑے پہن کر کیا کروں گا، نئے کپڑے اس وقت پہنوں گا جب آپ لوگ کامیاب ہو کر اپنے پیسوں سے مجھے لے کر دیں گے، مگر ان کی خود داری نے انہیں اتنی بھی فرصت نہ دی اور دنیا سے رخصت ہو گئے کہ کہیں بیٹوں کے ہاتھ سے بھی نئے کپڑے لینے نہ پڑے۔ ہمارے ساتھ کھیل کود خود کرتے، ہر کام میں ہمیں اپنے ساتھ رکھتے، اپنے تمام بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم خود نے دی، وہ قرآن مجید ہمیشہ ترجمے کے ساتھ پڑھتے تھے، جبکہ حضرت علی علیہ السلام کے فرامین اور علامہ اقبال کے اشعار خاص طور پر بہت یاد کیے ہوئے تھے جو ہمیں نصیحت کرتے وقت اور مشورہ دیتے وقت سناتے تھے۔
ہمیں بار بار کہتے کہ سیاسی و سماجی معاملات میں تم لوگ میری تقلید نہ کیا کریں بلکہ تم لوگ خود غور و فکر کیا کریں اور جو تمہیں اچھا لگے وہی کیا کریں کیونکہ تم لوگ ایک نئے زمانے کے لیے ہیں، نئی سوچ رکھتے ہیں، ہماری سوچ و فکر محدود اور پُرانی ہو چکی ہیں، ہم اس سے زیادہ نہیں سوچ سکتے، تم بڑے پیمانے پر سوچا کریں، دنیا میں کچھ بڑا کام کرنے کے لیے سوچا کریں۔ قراقرم اور ہمالیہ کے تنگ پہاڑی افق سے باہر نکل کر سوچیں، میرے کام میں کہیں غلطی یا خرابی ہے تو کھل کر بتا دیا کریں مجھے سمجھایا کریں۔خود جس طرح اخلاقی جرأت رکھتے تھے اسی طرح ہمیں بھی اس کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔

تین باتوں کی نصیحت وہ آخری دم تک کرتے رہے: ’’منافقت نہ کرنا، کسی پر ظلم نہ کرنا اور اپنی عزت نفس کو نہ بیچنا۔‘‘

بہت سی یادیں واقعات اور باتیں ہیں مگر فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اور ان کے لیے دعا گو ہوں کہ رب کریم ان کی جملہ لغزشوں کو معاف فرما کر ان کے لیے اخروی نجات و راحت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کی نصیحتوں پر عمل پیرا رہنے کی ہمت و توفیق عنایت رمائے! اور رب رحیم میری والدہ کی صحت و عمر میں برکت و درازی عطا فرمائے!

محمد حسین
محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مزاحمت کی ایک سچی کہانی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *