• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • داعش پر عراقی افواج کی فتح میں پاکستان کے لیے اسباق (آخری قسط)

داعش پر عراقی افواج کی فتح میں پاکستان کے لیے اسباق (آخری قسط)

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق اور پاکستان کا تقابلی جائزہ: چیلنجز اور اسباق
عراق و پاکستان کے مابین کے سیاسی نظام اور مسائل میں مماثلت:
وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام حکومت ہو، دستور میں‌ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا کردار ہو، کثیر الجماعتی انتخابی نظام ہو، سیاست میں سیکولر اور مذہبی جماعتوں کی کھینچاتانی ہو، سکیورٹی سٹیٹ کی کیفیت ہو، تمام قومی وسائل کا رخ دفاع پر ہونا ہو، آئین و قانون میں اسلام کی بالا دستی کا سوال ہو، اسی طرح کثیر العقائد اور کثیر النسل معاشرہ ہونے کی بات ہو، پاکستان اور عراق کے کم و بیش سارے سیاسی معاملات بھی کافی حد تک یکساں ہیں۔
عراق اور پاکستان دونوں ممالک میں‌مختلف مذاہب کے لحاظ سے آبادی کا تناسب تقریبا یکساں ہے، دونوں ملکوں میں ۹۵ فیصد سے زائد مسلم اور کم و بیش پانچ فیصد غیر مسلم آبادی موجود ہے، غیر مسلموں کی مذہبی آزادی اور عدم تحفظ سے متعلق نیز اکثریتی مسلم مسلک کی جانب سے اقلیتی مسلم مسلک کو درپیش امتیازی سلوک یعنی عراق میں‌ کم و بیش 35 فیصد سنی اقلیت کو کو اکثریتی شیعہ آبادی سے اور پاکستان میں‌ کم و بیش 20 فیصد پر مشتمل شیعہ آبادی کو سنی اکثریتی آبادی سے شکایتیں بھی قدر مشترک ہیں، اس سلسلے میں یہ بات بھی دل چسپ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کی مقامی یہودی اقلیتی آبادی کا انخلا بھی قدر مشترک ہے۔ عدم تحفظ اور (فلسطین میں عرب مسلمانوں کو بے دخل کر کے اسرائیل کے قیام کے بعد ) مسلم معاشروں میں یہودیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی منافرت کے نتیجے میں دونوں ممالک سے مقامی یہودی آبادی مکمل طور پر خالی ہو گئی۔
حکمرانوں اور بیوروکریسی کی بدعنوانی کی کہانیاں ہوں، سیاسی حقوق اور قومی وسائل کی غیر منصفانہ و طبقاتی تقسیم کا مسئلہ ہو، صحت عامہ کی ابتر صورت حال ہو ، نکاسی کا نظام ہو، صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ ہو، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو، تعمیرات اور ہاوسنگ کا غیر معیاری ہونا ہو، یا معیار زندگی میں دگرگوں صورت حال، مختلف صوبوں، یا نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کا مرکزی حکومت سے شکایت کا معاملہ ہو، مذہبی مسلح عسکری تنظیموں کا ظہور پذیر ہونا ہو اور ان کا درس گاہوں، عبادت خانوں، عوامی مقامات اور حکومتی اہل کاروں پر پے در پے حملے کرنا، فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتہاپسندی کا رجحان ہو، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تناؤ اور مداخلت پر مبنی پالیسی کا مسئلہ ہو، نسلی گروہوں (عراق کے علیحدگی پسند کرد اورپاکستان کے علیحدگی پسند بلوچ) کی ناراضی ہو نیز ان ناراض عناصر کی مختلف بیرونی طاقتوں کی سرپرستی ہو، دلچسپ امر یہ ہے کہ ان سارے معاملات میں پاکستان اور عراق کم و بیش ایک صفحے پر ہیں، مگر ایک فرق ضرور ہے کہ اتنے بحرانوں سے گزرنے والے عراق کی شرح خواندگی ۸۵ فیصد سے زائد ہے جبکہ پاکستان ستر سالوں میں ساٹھ فیصد شرح خؤاندگی تک بھی نہ پہنچ سکا ہے۔ نیز عراق نے ۱۵ سے بیس فیصد آبادی پر مشتمل کردستان کو داخلی خود مختاری دینے کے ساتھ ساتھ مرکزی دھارے میں کُردوں کو شامل کرنے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں ، چنانچہ جمہوری دور میں دوسری مرتبہ ایک کرد کو ملک کی صدارت سونپی ہے
(جلال طالبانی اور اب فواد معصوم) اور کرد زبان کو عربی کے ساتھ عراق کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے ۔ ان اقدامات سے ان کا اعتماد کافی حد تک بحال ہو گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ کردستان کی مقامی فورس ’’پیش مرگہ‘‘ بھی داعش کے خلاف جنگ میں عراقی فوج کی شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ جبکہ پاکستان کی تاریخ قدرے مختلف ہے، بنگالیوں کے احساس محرومیوں کو دور کرنے اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین اعتماد اور تعاون کے باہمی رشتے کو قائم رکھنے میں متحدہ پاکستان کامیاب نہ رہا. باہمی اعتماد کے ققدان اور احساس محرومی کا بھارت نے فائدہ اٹھایا اور جنگ چھیڑ دی، سن اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں اپنی نوے ہزار فوجیوں کو بھارت میں جنگی قیدی بنوا کر پاکستان نے بھارت سے جنگ ہاری اور مشرقی پاکستان ٹوٹ کر الگ ملک “بنگلہ دیش” بن گیا ۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے پاکستان ابھی بھی سب سے بڑے اور پسماندہ بلوچستان کی شکایتوں کو چند سرداروں کو قابو میں رکھ کر طاقت کے زور پر ہی حل کرنے پر تلا ہوا ہے، جس کے باعث بلوچستان میں‌ سکیورٹی اور ترقی دونوں‌کی صورت بہت ہی ناگفتہ بہ ہے، جبکہ فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کو بھی یکساں ترقی کے ثمرات نہ ملنے کے باعث مرکز سے کافی شکایتیں ہیں ۔ قومی وسائل کا چند شہروں میں ارتکاز بڑے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے مگر اس کا قومی سطح پر کوئی ادراک نہیں کیا جا رہا۔ یاد رہے قومیں طاقت کے زور پر باقی نہیں رہتی بلکہ ان کی بقا قومی اعتماد ، یکجہتی اور سماجی انصاف میں مضمر ہے۔
قریباً نصف صدی پر محیط پان عربیت کی دعویدار بعث سوشلسٹ پارٹی کی فوجی آمرانہ حکومتیں، طویل اور مسلسل جنگوں، داخلی سطح پر صدام کی کُرد اور شیعہ آبادی سے اٹھنے والی مزاحمتی تحریکوں کو برزور طاقت کچلنے کے لیے ان کا قتل عام، سن ۲۰۰۳ میں امریکی حملے کے نتیجے میں فوجی آمر صدام حسین کی پچیس سالہ حکومت کے سقوط، امریکی حملے اور قبضے کے خلاف مزاحتمی تحریکوں، عام انتخابات سے پہلے ایاد علوی کی عبوری حکومت پھر جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم نوری المالکی کے دور میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی اور نیز عرب بہار کے نتیجے میں آنے والی سیاسی تحریکوں اور تبدیلیوں کی کھوکھ سے جنم لینے والی پُرتشدد لہر اور القاعدہ عراق کی پُرتشدد انٹری اور اس کے نقطہ عروج کے طور پر عراق اور شام کی سرزمین میں سامنے آنے والی خطرناک اور تشدد کی نئی مثالیں قائم کرنے والی تنظیم داعش کے مسلسل حملوں اور ملک کے مختلف صوبوں و علاقوں پر ان کے بڑھتے ہوئے قبضے نے عراق کو کھنڈر بنا ڈالا اور یوں لاکھوں عراقیوں کو آگ و خون کے کھیل میں لقمہ اجل بنایا گیا۔ جنگ زدہ عراق کی صورت حال اندرونی مہاجرت، پناہ گزینوں کی حالت زار، عسکریت پسندی، تباہ حال انفراسٹرکچر، غربت ، قحط سالی اور مختلف امراض کے باعث ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ ( جنگ زدہ علاقوں میں سویلین لوگوں کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے سمیت مسلسل جنگ کے حالات اور ان کے اثرات کا جائزہ الگ اور تفصیلی مضمون کا متقاضی ہے)
موجودہ عراق کو پاکستان سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ، ہمہ جہت، خطرناک اور طاقتور دہشت گردی سمیت دیگر بحرانوں کا سامنا ہے جبکہ عراق بظاہر پاکستان کی بہ نسبت اقتصادی، عسکری اور تزویراتی لحاظ سے بہت کمزور ہے مگر اس نے کم وقت میں دنیا کی خطرناک ترین اور پیچیدہ ترین دہشت گردی کو مات دینے میں اہم سنگ میل طے کر لیا۔ تقریباً چار کروڑ کے ملک عراق میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران تشدد، ظلم اورخانہ جنگی اور بیرونی حملوں کے کھیل میں (مختلف رپوٹوں اور اعداد و شمار کے مطابق) ساٹھ لاکھ سے ایک کروڑ تک لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں یعنی آبادی کا کم و بیش پانچواں حصہ جنگوں اور قتل و غارت کی نذر ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان نے ( تقسیم کے وقت کے بحران کے علاوہ) اس کے دسویں حصے کا بھی نقصان نہیں اٹھایا، پاکستان میں اگرچہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات پیش آئے اور فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے کئی علاقوں پر طالبان نے قبضہ کر لیا مگر وہ فاٹا اور سوات سے ملحقہ کچھ علاقوں سے آگے نہ بڑھ سکے، جس کے باعث ملک میں کسی قسم کی خانہ جنگی کا ماحول پیدا نہیں ہوا، پاکستان نے کم و بیش اسی ہزار سرکاری اور سویلین لوگ اس دہشت گردی کی نذر ہو گئے اور اربوں کے انفراسٹراکچر کے نقصانات بھی اٹھائے مگر عراق میں جنگ کی قیمت اور اقتصادی نقصانات کا حساب ہزاروں کھرب ڈالر تک جا پہنچتا ہے ۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ عراق نے داعش کے تنظیمی وجود کو ملک سے مکمل خٹم کر کے اس دہشت گردی کو یکسوئی اور قومی یکجہتی سے شکست دینے میں اہم مرحلہ طے کر لیا۔
عراق میں پروان چڑھتی سیاسی بلوغت کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ابھی سیاسی طور پر، مسلسل بحرانوں کے شکار عراق جتنا بالغ بھی نہیں ہوا۔ اگرچہ مثالی صورت حال عراق کی بھی نہیں‌ہے مگر عراقی حکمران اور قائدین سلگتے اور سنجیدہ مسائل پر پردہ ڈال کر ’’نان ایشوز‘‘ میں قوم کو الجھا کر رکھنے، سیاسی حقوق اور نا انصافیوں کے شکار طبقات و علاقوں کو طاقت کے زور پر خاموش کرنے کے بجائے لوگوں کو سنتے ہیں، حتی الامکان انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی دانستہ کوششیں کر رہے ہیں اور قومی وسائل اور اختیارات کے چند خاندانوں یا شہروں میں ارتکاز کے بجائے ملک کے طول و عرض اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے اور باہمی تعاون و تعامل کی فضا کو پروان چڑھانے کی ہمہ جہت کاوش کر رہے ہیں۔ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے ذریعے پارلیمینٹ کی بالادستی کا واضح مظاہرہ کر رہا ہے ،ملک سے عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت مکمل باہمی تعان کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک بنیادی نقطہ یہ بھی کہ وہ اپنے استقلال اور خودمختاری کو چیلنج کرنے والی بیرونی طاقتوں کے ساتھ بہت محتاط طریقے سے نمٹ رہا ہے اور انہیں آہستہ آہستہ برابری ، باہمی احترام و وقار اور تعاون پر مبنی تعلقات کی طرف لے کر آ رہا ہے ۔ اس سلسلے میں امریکی افواج کی تدریجاً بے دخلی اور ہمسایہ ممالک کے رسوخ کو کم کرنے کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔
مشترکہ چیلینجز
جنگی صورت حال سے باہر آتے ہوئے دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے بعد کی تباہ حال معیشت کو مستحکم کرنا ہے اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ داخلی مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری، انفراسٹرکچر کی تعمیرَنو جیسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا ہے۔ سیاسی استحکام، امن و ہم آہنگی، سماجی سطح پر تعلیم و تربیت کے ذریعے انسانی پیداوار کو بڑھانے، صنعت و تجارت کو فروغ دینے ، ہمسایہ ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری ، استقلال، عدم مداخلت اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کو بڑھانے اور اقتصادی و سیاسی میدانوں میں آگے بڑھنا ہے۔ صحت عامہ، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبہ جات میں بہت سے کام کرنے ہیں۔ رقابتوں، تعصبات، منافرتوں کو مذہبی، نسلی اور سیاسی و سماجی تعاون اور باہمی تعامل میں تبدیل کر کے باہمی ہم آہنگی و ترقی کی راہوں کو ہموار کرنا ہے۔ اپنی عوام کو تحفظ، انصاف اور امن کی فراہمی کا اعتماد دلا کر عسکریت پسندوں اور مسلح جتھوں کو وسیع پالیسی کی مدد سے بہ تدریج غیر مسلح کرنا، سیاسی محرومیوں کا ازالہ کرنا ، تمام طبقات کو قومی دھارے میں ساتھ لے کر چلنا اور قوموں کی ترقی اور جدید عالمی معیارات اور تقاضوں کے مطابق قوم کی تعمیر و ترقی ، انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانا عراق اور پاکستان دونوں کے لیے اہم چیلنچز ہیں۔
آگے کا راستہ
جس طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے (ان مع العسر یسراً)، اسی طرح بدھ مت فلاسفی میں بھی ایک اصول ہے کہ تاریکی میں روشنی اور روشنی میں تاریکی ہوتی ہے۔ یعنی بحرانوں میں ترقی کے مواقع ڈھونڈے جا سکتے ہیں اور ترقی، امن اور ہم آہنگی کا دور اس خدشہ سے خالی نہیں ہوتا کہ وہ غربت، جہالت، فسادات اور جنگ کی نذر ہو جائے۔ اس اصول کے تحت ہمیں اپنے بحرانوں کو اپنی قوت میں بدلنے اور تنازعات کو ترقی کے مواقع اور اختلافات کو آگے بڑھنے کا سامان بنانے کی ضرورت ہے۔ تنوع کی قوت کو لڑائی کے بجائے مثبت عمل اور توانائی میں بدل لینا ہے۔ رنگ، نسل، زبان، قومیت، مذہب ہر چیز میں اختلاف رکھنے والے یورپی ممالک کی یورپی یونین اس کی ایک بہترین مثال ہے جس نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ ہمارے مفادات کے ٹکراؤ کی نوعیت و شدت جو کچھ بھی مگر ہم اپنی سرزمین پر جنگ کسی صورت میں نہیں لڑیں گے۔ انہوں نے اس بات پر پُر عزم اتفاق کیا ہوا ہے کہ جنگ کو بر اعظم یورپ سے دور ہی رکھا جائے کیونکہ کروڑوں لوگوں کے جنگوں میں مرنے کے بعد جنگ کی تلخیوں اور نقصانات کا ادراک انہوں نے کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنے دفاع کا بجٹ باہمی ترقی اور تعاون پر خرچ کیا ہے جس کی بدولت ان ممالک میں معیار زندگی باقی براعظموں کے ممالک کی بہ نسبت کافی بہتر ہے۔

محمد حسین
محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *