• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ٹرمپ کی کامیابی اور ایرانی جوہری معاہدے کا مسقبل

ٹرمپ کی کامیابی اور ایرانی جوہری معاہدے کا مسقبل

میخائل ایکسورتھی کا یہ تجزیہ "دی گارڈین" میں شائع ہوا جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش خدمت ہے:

حال ہی میں صدر منتخب ہونے والے ری پبلیکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس مارچ کے مہینے میں امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی (AIPAC)کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدر بننے کی صورت میں اسرائیل کی بھرپور حمایت کا واضح وعدہ کیا تھا۔ پوری انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ایران کے معاملے پر سخت گیر موقف اپنائے رکھا، خصوصاً ایران کے ساتھ اوباما کی نیوکلئیر ڈیل کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بطور صدر ان کی پہلی ترجیح ایران کے ساتھ اس ڈیل کو ختم کرنا ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے دعوے کچھ بھی رہے ہوں لیکن ایران کے ساتھ ڈیل کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ایران اور امریکہ کے علاوہ اس ڈیل میں چار اور ممالک بھی شامل ہیں؛ برطانیہ، فرانس، چین اور روس جو سبھی متفق تھے اور ہیں کہ یہ ڈیل نہایت اہم ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب بھی اس خیال کے قریب پہنچ رہا ہے کہ ڈیل کو قائم رکھنا، اسے ختم کرنے سے بہتر ہو گا۔ اگر ٹرمپ اس معاہدے کے خلاف براہ راست کوئی قدم اٹھاتے ہیں یا خود پس منظر میں رہتے ہوے اس کے خلاف کسی قانون سازی کی اجازت دیتے ہیں تو یہ اظہر من الشمس ہے کہ ایران اس معاہدے سے الگ ہو کراپنی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہو جاے گا اور یورینیم جو ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہو سکتا ہے، اس کے ایک بار پھر افزودگی شروع کردے گا۔ اس لیے یہ عمل نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کے لیے بھی بہت برا ہو گا اور اس کے نتائج ٹرمپ کے لیے بھی رسوائی کا باعث ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مذکورہ تقریر میں ایک اور اہم پہلوبھی تھا جو بظاہر نظروں سے پوشیدہ رہا، لیکن ان کی ممکنہ پالیسی کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہایت برا تھا اور ہم نے اس کے عوض کچھ حاصل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اور کچھ نہیں تو اس معاہدے کے ذریعے ایران کو قابل احتساب تو بنایا جا سکتا تھا لیکن اوبامہ حکومت اس میں ناکام رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال یہ اندازہ لگانا کافی مشکل ہے کہ آیا ٹرمپ کا دور اقتدار نیوکلیر ڈیل کے حوالے سے کلنٹن کے دور سے زیادہ برا ثابت ہو گا یا نہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ شام میں داعش کو ختم کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی نہ کسی صورت ہاتھ ملانا ہوگا۔

AIPAC میں تقریر کے بعد سے ٹرمپ نے مسلسل خود کو ایک کامیاب ڈیل میکر کے طور پر پیش کیا اور تاثر دیا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ان تمام عالمی معاہدوں کو درست کیں گے جو بقول ان کے غیر متوازن ہیں اور امریکہ کے لیے زیادہ مفید نہیں ثابت ہوئے۔ ممکن ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے کرنے کی کوشش کریں جس میں نیوکلئیر ڈیل کو چھیڑے بغیر تجارتی مفادات کے تحفظ کی کوشش کی جاسکے۔ پھر وہ اس نئےمعاہدے کو بجا طور پر امریکی عوام کے لیے نئی ملازمتوں اور صنعتوں کے مفاد کے طور پر پیش کریں گے۔

ایسے کسی بھی معاہدے بلکہ ایران کے حوالے سے کوئی بھی کامیاب پالیسی بنانے کے لیے ٹرمپ کو خارجہ پالیسی پر اچھے مشیروں کی ضرورت ہو گی جنہیں تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک متوقع وزیر خارجہ جان بولٹن کی ایران کے بارے میں رائے ہے کہ اسے ملیامیٹ کر دیا جائے۔ دوسرے دو متوقع امیدوار، نیوٹ گینگریچ اور روڈی گیولیانی ہیں۔ ان تینوں میں ایک قدر مشترک ہے، یہ تینوں MKO کے حامی ہیں جو ایران کے جلاوطن لوگوں کا ایک گروپ ہے۔ یہ گروپ مشاہیر کو ایرانی حکومت کے خلاف بولنے کے لیے فنڈز بھی فراہم کرتا ہے جو ان کی لابنگ کا ایک حصہ ہے۔

MKO ایک ایسی تنظیم ہے جو کسی شدت پسند مذہبی گروہ کے مانند اپنے معتقدین کی ذہن سازی کرتی ہے، ان سے رقم اور جائیداد کی صورت میں عطیات حاصل کرتی ہے اور ان کو ان کے اہل خانہ سے جدا کرتی ہے۔ 2012 سے قبل یہ تنظیم سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل تھی۔ اس کا آغاز ایران میں شدت پسند مارکسسٹ اسلام پسندوں نے 1960میں کیا تھا۔ 1970میں اس نے ایران میں مقیم امریکی ملازمین سمیت کئی لوگوں کو قتل کیا۔ انہوں نے 1979کے انقلاب میں کافی مسلح امداد بھی فراہم کی لیکن خمینی کے حامیوں کے ساتھ ان کی اقتدار اور قوت میں حصہ داری کی لڑائی شروع ہونے کے باعث انہیں ایران سے ملک بدر ہوکر عراق جانا پڑا۔ عراق ایران جنگ میں انہوں نے صدام کی حمایت کی اس لیے ایران میں ان کی رتی بھر حمایت باقی نہیں رہی۔ اب ایوان اقتدار ہی نہیں بلکہ کسی بھی سطح پر کوئی معقول انسان ان کی حمایت نہیں کرتا۔

وزارت خارجہ کے لیے ایک اور امکان باب پراکر کا ہے جو ریپبلکن سینیٹر ہے اور سینٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کا چیرمین ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اس عہدے کے لیے بہترین انتخاب ہو گا۔ ٹرمپ کے الیکشن اور لیونارڈو کوہن کی وفات کی اتفاقی مطابقت نے مجھے لیونارڈو کوہن کا مشہور نغمہ "دی فیوچر" یاد دلا دیا ہے جس کے بول ہیں، جب چیزیں پھسل جائیں۔۔۔اور ہر سمت پھسلتی جائیں۔ مشرق وسطی ٰمیں بہت سی چیزوں کے پھسلنے کا وقت آن پہنچاہے لیکن ان پھسلنے والی چیزوں میں ایران کی نیوکلئیرڈیل شامل نہیں ہونی چاہیے۔

Avatar
میاں ارشد
لاہور میں مقیم، پیشہ وکالت سے وابستہ۔ بے ضرر ہونے کو انسان کی معراج سمجھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *