گومل یونیورسٹی میں ہلچل کیوں۔۔؟عصمت شاہ گروکی

یو نیورسٹیاں ملکوں کا تھنک ٹینک ہوا کرتی ہیں، یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق نہ صرف ملکی پالیسیوں کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہیں بلکہ اسی تحقیق کی بدولت ملک کی صنعت اور تجارت بھی پروان چڑھتی ہے۔اسی طرح استاد ایک مشعل کی طرح قوم کو روشنی کی طرف لیجاتاہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں استاد اور یونیورسٹی کو وہ مقام حاصل نہیں۔ گومل یونیورسٹی کے اساتذہ اور دیگرسٹاف یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج پر ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف یونیورسٹی پیچھے کی طرف دھکیل جارہی ہے بلکہ طلباء کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوجاتاہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے مین بازار میں جی پی او کے سامنے یونیورسٹی اساتذہ کی جانب سے لگائے احتجاجی کیمپ نہ صرف یونیورسٹی کو بدنام کرنے بلکہ حکومت کے منہ پر بھی بڑاطمانچہ ہے۔ پروفیسرصاحبان احتجاج پراس لئے اترآئے کہ یونیوسٹی کے موجودہ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمدسروراوررجسٹراردلنوازخان کی ملی بھگت سے یونیورسٹی تباہی کی دہانے پرپہنچ گئی ہے،یونیورسٹی کے سینئرپروفیسروں کو ذہنی تناؤ میں ڈالنے کے لیے غیر ضروری وجو ہ ڈھونڈ کر شوکازنوٹس جاری کئے گئے ہیں اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کچھ ایسے اساتذہ جو کافی عرصہ پہلے انتقال کرچکے ہیں کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے ،دوران احتجاج اساتذہ نے بتایا کہ مالی بحران سے دوچار گومل یونیورسٹی میں کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیاجاتا، انتطامیہ اور انکے دیگر ساتھیوں نے کتب میلوں سے لیکر شجرکاری مہم،سکیورٹی اورٹی اے ڈی اے کے نام پرکروڑوں روپوں کی کرپشن کی ہے،سراپا احتجاج اساتذہ کا کہناتھا کہ استا د کو گوارہ نہیں کہ وہ کلاس روم کے بجائے سڑکوں پر زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگائے، لیکن اگر معاملہ گومل جیسی تاریخی درسگاہ کو بچانے کا ہو، تو ہم آخری سانس تک لڑینگے اور اگر آج ہم اس درسگاہ کو نہیں بچا سکے تو آئندہ نسلیں ہم پرتھو کیں گی۔
اساتذہ کے مطابق یونیورسٹی میں اقربا پروری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ گورنرکی طرف سے یونیورسٹی میں تعیناتیوں پرپابندی کے باوجود بھی انتطامیہ اپنے منظورنظرافرادکی دھڑادھڑ تعینا تیاں کر رہی ہے۔ طلبہ کی فیسوں میں بھی اضافہ کیاگیاہے، انکا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان جہاں یونیورسٹی واقع ہے خیبر پختونخوا کا گرم ترین علاقہ ہے، وی سی صاحب نے اپنے اے سی لگے یخ بستہ کمرے میں بیٹھ کر موسم گرماکی تعطیلات پرپابندی لگا نے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ گومل یونیورسٹی خیبر پختونخوا میں بننے والی دوسری یونیورسٹی ہے جس کا قیام 1974ء میں عمل میں آیا۔ ابتدائی طو پر اس یونیورسٹی میں صرف دس شعبے تھے جبکہ اب یہ بڑھ کر 28ہو گئے ہیں، قیام سے لیکر اب تک اس مادر علمی سے ہزاروں طلباء وطالبات فارغ ہوئے ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔مگر افسو س سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ آج یہی یونیورسٹی نہ صرف60 کروڑ روپے کے مالی خسارہ سے دوچار ہے بلکہ مختلف وجوہ کی بنا پر بار ہاخبروں بشمول جعلی ڈگریاں، زینت بھی بن چکی ہے۔
ابھی پچھلے کچھ دنوں سے تو یونیورسٹی انتظامیہ اور پروفیسر صاحبان کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنسز، مظاہروں اور پولیس میں ایکدوسرے پر ایف آئی آرز درج کرانے کا مقابلہ بھی شروع ہو گیاہے لیکن حکومت ہے جو آلتی پالتی مار کر خامو ش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ گومل یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم(گواسا) کے صدر شعیب احمد گنگوئی، جنرل سیکرٹری شاہد کمال ٹیپو اور دیگر عہدیدار اکا کہنا ہے کہ گومل یونیورسٹی انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں،اقربا پروری اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے ادارے کے وقار کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کے لئے اساتذہ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
انتظامیہ نے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف غیر قانونی اقدامات جیسے کہ بلا جوازانکوائرئیاں،تنخواہوں سے بلاجواز کٹوتیاں اور انہیں غیر قانونی شوکاز نوٹسز کا اجراء شروع کردیا ہے۔ موجودہ رجسڑاردلنواز خان جو دراصل ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ہیں کو تین ماہ کیلئے ایکٹنگ رجسٹرار بنایا گیا تھا جیسے اب 10ماہ سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں کہ وہ رجسٹرار کی سیٹ پر غیرقانونی طور پر براجمان ہیں اور دیگر ملازمین کو غیر قانونی شوکاز نوٹسز جاری کر کے اپنی اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔
گواسا عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ نے یونیورسٹی کی ہزاروں کنال اراضی بغیر سنڈیکیٹ کے منظوری کے محکمہ جنگلات کے حوالے کر دی ہے، انتظامیہ کے غلط پالیسیوں کیوجہ سے یونیورسٹی سالانہ ایک کروڑکانقصان بھگت رہی ہے۔سکیورٹی کے نام پر لاکھوں روپوں کا دو نمبر اسلحہ خرید کر بنوں کے ایک اسلحہ ڈیلر سے ویریفائی کرایا گیا۔اور ملازمین کی تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیاں کی جارہی ہیں۔موجودہ انتظامیہ نے من مانی کر کے من پسند ردوبدل کئے ہیں، جس کے خلاف 8سنڈیکیٹ ممبران نے نہ صرف گورنر خیبر پختونخوا کو درخواست دی ہے بلکہ ان تبدیلیوں کو ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا ہے۔ گواسا کے عہدیداران کے مطابق یو نیورسٹی نے غریب کلاس تھری اور فور ملازمین کوبغیر کسی کارروائی کے ملازمت سے فارغ کردیا مگرایک محتاط اندازیکے مطابق اب تک وی سی نے یونیورسٹی کے خزانے سے ٹی اے ڈی کی مد میں 70لاکھ روپیوصول کئے ہیں، وائس چانسلر جس سے اساتذہ اور ملازمین نے کافی امیدیں لگا رکھی تھیں اب تک یونیورسٹی کیلئے ایک روپیہ کا فنڈبھی باہر سے نہ لاپائے، مختصرا ً موجودہ وائس چانسلر یونیورسٹی پر بوجھ بن چکے ہیں، موجودہ انتظامیہ نے یونیورسٹی میں ایک بک فئیر کرایا اور مختلف شعبہ جات کیلئے کتابوں کی خریداری میں لاکھوں روپے کے گھپلے کئے ہیں، کہا جارہا ہے کہ 15 ہزار کی کتاب ڈیڑھ لاکھ تک خریدی گئی ہے، اور اس سکینڈل کے تمام تر ثبوت موجود ہیں، اسی طرح یونیورسٹی بیوٹیفیکیشن کے نام پر29لاکھ روپے ڈبو دیے گئے۔
جب ملازمین اپنے کوالیفیکشن کے مطابق کہیں ملازمت کیلئے اپلائی کرناچاہیں تو وی سی این او سی کی اجراء میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔اساتذہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یونیورسٹی کی موجودہ حالت کو دیکھ کرایکشن لیں، انھوں نے کہا کہ اگر ہم غلط ثابت ہوئے تو ہمارے خلاف کارروائی کی جائے نہیں تو اس کرپٹ وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے۔ فپواسا کے مرکزی صدرمحبوب حسین نے بھی خواتین اساتذہ سے بدسلوکی اور انکی تذلیل کی بھرپور مذمت کی اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر غیر قانونی شوکاز نوٹس واپس نہ لئے گئے تو ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا اور اس کے خلاف ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ہڑتال کی کال دی جائیگی۔ جب اس حوالے سے وائس چانسلرکا موقف پوچھا گیا توانہوں نے کہاکہ ایساکوئی ایشونہیں، جوکچھ ہواہے ،یہ گورنرخیبرپختونخوا کے 2015 کے ہدایات کے مطابق ہوا، ہدایت دی گئی تھی کہ 2008اور2014کے سلیکشن بورڈز میں بہت بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اسکی چھان بین کرکے اسکا تدراک کردیا جائے،تو ہم نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جس میں باہرکی ہویونیورسٹیوں کے پروفیسربھی شامل کئے گئے تھے اوربعد میں اس حوالے سے ایچ اوڈیزسے بھی میٹنگ کی گئی ۔اور پورے مشاورت کے بعد 2008ء کے سلیکشن بورڈ میں منتخب کردہ 44سینئرپروفیسرزکوشوکازنوٹسز جاری کئے جوکہ دراصل اہل نہیں تھے۔
وائس چانسلر نے مزید کہا کہ گواسا لیڈرشپ نے مجھ پردباؤڈالاکہ یہ فیصلہ واپس لیاجائے جب میں نے انکارکیاتوانہوں نے یونیورسٹی سے منسلک سکولوں کوبندکردیا جہاں طلبہ کے امتحانات ہورہے تھے۔انہوں نے کہاکہ میں جب میں آیاتویونیورسٹی میں صرف 4500طلبہ تھے اورآج 9ہزارکے قریب تعلیم حاصل کررہے ہیں اور یونیورسٹی دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو کسی بھی وائس چانسلر نے توجہ نہیں دی تب ہی یونیورسٹی آج اتنے سارے مشکلات سے دوچار ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان موجودہ تناؤ کی وجہ سے صرف طلباء ہی متاثر ہورہے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ایک طرف یونیورسٹی میں اساتذہ اور انتظامیہ مشت و گریبان ہے تو دوسری طرف ہاسٹل کے باتھ روم تک استعمال کے قابل نہیں رہے، صفائی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ سٹی کیمپس کے کچھ طلباء یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبورہوگئے ہیں کیونکہ جو بھی وائس چانسلر آتاہے وہ صرف مین کیمپس (نیوکیمپس) تک محدود ہوتا ہے اور سٹی کیمپس سے سوتیلی ماں کا سلوک کیاجاتاہے۔مسلسل گھنٹوں تک بجلی اور پانی نہیں ہوتا۔طلباء موبائل کی روشنی سے مطالعہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں پورا سٹی کیمپس گندگی کا ڈھیربن چکاہے بہت سے طلباء نے ہاسٹل چھوڑ کر شہر میں پرائیویٹ رہائش اختیار کر رکھی ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں سہولیات نہیں دیں گئیں اور کلاسز نہیں لی گئیں تو ہم بھی احتجاج پر مجبور ہوجائینگے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *