ہم کالج ،یونیورسٹی کیوں جائیں؟ ۔۔۔ ابن فخر الدین

وہ طلبہ جن کو کسی بھی طریقے سے mis guide کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی جانے سے اللہ کے یہاں آپ کی قبولیت cancel ہوجائے گی یا اس “کفریہ” نظام کا حصہ بننے سے آپ کی گمراہی کا قوی امکان ہے۔

تو جناب آپ کی خدمت میں عاجزانہ درخواست ہے خدارا امکانات اور احتمالات کو ایک طرف رکھ کر ٹھنڈے دماغ سے اپنے لیئے نہ سہی “دین” کے لئیے سوچیں!
دین کے لئے؟ جی دین کے لیے!
وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ دنیا بھر میں ہر علم اور فن کو پڑھانے کے لیے اس کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور واضح بات ہے دینی علوم،قرآن اور دیگر مذھبی تعلیمات کے لیے مدارس کے  graduates (جو فی الواقع دینی علوم کے ماہر بھی ہوں)سے زیادہ کون اہل ہوسکتا ہے؟
جی ہاں! آپ ہی کی بات ہورہی ہے۔
اب ذرہ نظر دوڑائیں تو ملکی و صوبائی،اسکول سے یونیورسٹی لیول تک ہر سطح پر تمام نہ سہی، اکثر مذکورہ مناصب پر نااہل ،ضروریاتِ دین سے ناواقف،مغرب زدہ،گمراہ کن بلکہ دیندار تو کجا غیر مسلم طبقہ بھی دینیات اور اسلامیات پڑھا رہا ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہم ہیں! جی ہاں ہم اور آپ جیسے وہ حضرات جو طلبہ مدارس کے خواہ مخواہ عصری اداروں میں جانے کے خلاف ہیں اور ان کےلئے وہاں جانے سے مانع ہیں۔ جب اہل اور دین سے متعلق طبقہ ہی اپنا میدان چھوڑ دیگا تو کسی نے تو اس خلاء کو پر کرنا ہی ہے!

میں انتہائی درجہ میں فرقہ واریت اور منفی پروپیگنڈہ سے بیزار ہوں مگر مجبوراََ محض”مشاہدہ” بیان کرنے کی حد تک کچھ تجربات لکھ رہا ہوں کہ آپ اپنا میدان چھوڑتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
1۔جب کسی اسکول اور کالج میں پڑھنے والا ایک بلکل خالی الزہن اسٹوڈنٹ جب خلافت راشدہ کے آخری دور کے لیکچر کے دوران کھڑے ہوکر استاد سے پوچھتا ہے کہ :سر! آپ یہ معاویہ کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں  ہیں؟یہ تو (نعوذباللہ) منافق نہیں تھے؟جنھوں نے خلیفہ راشد امام علی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے خلاف جنگ کی تھی؟ ہمیں تو اب تک یہی کچھ پڑھایا گیا ہے اس ٹوپک میں

تب ذرہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتلائیے کہ آپ کس کو ذمہ دار ٹھرائیں گے؟ اس بچے کو جس کو فرقہ واریت کا زہر دے دیا گیا؟ اس استاد کو جس نے اپنی دانست میں اسے برائے نام “حقائق” سے آگاہ کیا؟ یا خود اپنے آپ کو جو باوجود اہلیت کے اپنا فرض منصبی نبھانے کے بجائے کپڑے بیچ رہا ہے یا uber/careem چلا رہا ہے؟
کیا من حیث المجموع معاشرے کی دینی اور فکری تربیت علماء کا فرضِ منصبی نہیں ہے؟

2۔ایک دوست کے زبانی معلوم ہوا کہ ایک اسلامیات کے ‘o’ level کے لیکچرار طلبہ کو یہ بتلاتے ہوئے پائے گئے کہ: حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو تھوڑی تھوڑی سندھی زبان بھی آتی تھی!!
کیا کسی دینیات کے استاد سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے؟

3۔خود راقم نے جب گیارہویں کے لڑکوں کی کلاس کے دوران غسل اور پاکی ناپاکی کے بنیادی مسائل کا تفصیلی ذکر کیا تو چہروں کے تأثرات اور بعد کے feedbacks نے زہن ماؤف کر کے رکھ دیا۔

اور اب تو گھروں میں تربیت نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ ان کی دینی معلومات کا واحد ذریعہ یا تو انٹرنیٹ ہے یا ان کے وہ اساتذہ جو بہت ہی کم وقت کے لیے انھیں دینی مضامین پڑھاتے ہیں۔ ائمہ مساجد سے رجوع کرتا ہی کون ہے یہاں تو نوجوان سرے سے علماء سے متنفّر ہوئے بیٹھے ہیں،اور خود ائمہ اس طرف کتنی توجہ دیتے یہ ہم سب کو خود ہی معلوم ہے۔
یاد رکھیں! آج نہ سہی مگر حکومت کے تیور بتلا رہے ہیں کہ بہت جلد اسکولوں ،کالجوں میں (عملی طور پر) بنیادی دینی تعلیمات کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے!!
ذرہ سوچیے اُس وقت مدرّسین اور معلّمیںن کی مانگ کو کیوں کر پورا کیا جا سکے گا؟
اور کیا مدارس میں آنے والے طلبہ کی تعداد پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا؟

اس لیے خدارا ! میری مخلصانہ درخواست ہے علماء مدارس سے ۔ پیسوں کے لیے نہ سہی اپنی آنے والی نسلوں کے نظریاتی تحفظ کے خاطر اس طرف توجہ دیں،کیوں کہ مسلمانوں کے بچوں کی واضح اکثریت مدارس میں نہیں بلکہ اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیز میں نشو نماں پاتی ہے۔
کیا مسلمانوں کے بچوں کی دینی ضرویات پوری کرنا علماء کے منصب کا مقتضیٰ نہیں ہے؟
کیا مسلم معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے “رجال کار” فراہم کرنا مدارس کا منشور نہیں؟

اور کیا وہ بچے آپ کے بچوں کی طرح نہیں ہے؟
کیا علماء کی ذمہ داری مدارس کی چار دیواری کے اندر محدود و محبوس ہے؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *