کیا قائد اعظم نے کچھ سکھایا بھی ہے ؟۔۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کے پاکستان محمد علی جناح نے  بنایا ۔ پاکستان تقریباً  سارے ہی افراد ان سے وقف ہیں اور اس جان پہچان کی وجہ انکی ملکی و قومی خدمات کے علاوہ کرنسی نوٹوں پر انکی تصویر بھی ہے ۔ اسی وجہ سے قوم کے وہ دانشور، پارلیمنٹیرینز، عام عوام وغیرہ جو بعض اوقات کلمہ طیبہ، علامہ اقبال، قرارداد پاکستان، ہجری سن وغیرہ کے بارے میں لاعلم رہتے ہوں ان صاحب کو بخوبی جانتے ہیں ۔

جناب قائد اعظم ایک مصروف آدمی تھے۔ وکالت ، جلسے جلوس ، میٹنگز وغیرہ کی بدو لت وقت کی کمی رہتی تھی اور بدقسمتی سے جیل میں بھی وقت گزارنے کا موقع نہ مل سکا ورنہ فراغت کے ان دنوں میں کوئی  کتاب ہی لکھ چھوڑتے کہ  جس میں اپنے نظریات و پاکستان سے متعلق فیوچر  پلانز  مفصل لکھ چھوڑتے  کہ  آنے والے افراد کی رہنمائی ہو پاتی ۔

سو ایسے حالات میں قائد اعظم تھے ، انکا ملک تھا اور انکے فرمودات ۔ جس نے جیسا چاہا انہیں ویسا بنا ڈالا ۔ انکے فرمودات و ہدایات اس قدر زرخیز ثابت ہوئیں کہ  لبرل، مذہبی، قوم پرست، جمہوریت پسند وغیرہ غرض جو جس طرح چاہے قائد اعظم کو اپنے نظریہ و مفاد کے عین مطابق ڈھال لیتا ہے ۔

گو زمانہ بھر قائد اعظم کے روپ میں ایک ایسے شخص کو دیکھتا تھا جو انگیزی سوٹ زیب تن کیئے فرفر فرنگی زبان بولتا لیکن وہیں کچھ چشم دید گواہوں کے مطابق انہیں  ٹوپی پہنے، ہاتھ میں لوٹا لیئے گورنر ہاؤس کی مسجد کی جانب بھی جاتا دیکھا گیا تھا ۔ کچھ منچلے انکے کتے  پالنے کے شوق کی گواہی دیتے ہیں تو کچھ تہجد کے وقت شب بیداری کے افسانے سناتے ہیں ۔ غرض انکی شخصیت ریشم کی الجھی ہوئی ڈوروں کی مانند بنا دی گئی  ہے جسکے دھاگے جدا کرنا نا ممکن ہے ۔

ویسے وہ ایک کامیاب آدمی تھے اسکا اندازہ صرف اس بات سے لگائیں کہ  انکو کافر اعظم کا خطاب دینے والے اور انگریزوں کے قائم کردہ ایک ادارہ کے تنخواہ دار آگے جا کر انکے تخلیق کردہ ملک کے سب سے بڑے حامی و محافظ ثابت ہوئے ۔ دیر سے ہی سہی  لیکن کسی نے تو انکے نظریات کے تحفظ کو اون کیا ۔ یہ ایک خوش آئندہ امر ہے ۔

آج پچیس دسمبر ہے ۔ قائد اعظم کا جنم  دن ۔ ویسے تو آج تک انکی جائے پیدائش پر بھی اختلاف ہے لیکن ہمارے پاس نہ ہی اتنی قابلیت ہے اور نہ ہی وقت کہ  ان موضوعات پر  تحقیق  کریں۔ لیکن پھر بھی کیونکہ اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور تعلیم بھی یہیں حاصل کی ہے سو بہت کچھ نہیں لیکن تھوڑا بہت ہم نے بھی قائد اعظم کے بارے میں پڑھا ہے۔ چلیں آج ایک واقع ہم بھی بیان کرتے ہیں ۔

ہوا کچھ یوں کہ  بیماری کے ایام میں ایک لیڈی ڈاکٹر قائد اعظم کی خدمت پر معمور تھی جسکی خدمت سے قائد اعظم بہت خوش تھے اور ایک دن خوش ہو کر اس ڈاکٹر سے کہا کہ  اگر کوئی  کام ہو تو بتاؤ ۔ اس ڈاکٹر نے کہا کہ ” اور تو کچھ نہیں آپ میرا تبادلہ میرے آبائی علاقے میں کرا دیں ۔ مجھے یہاں بہت پریشانی ہو گئی  ہے” ۔

جس پر قائد نے جو جواب دیا وہ کوئی  معمولی جواب نہیں بلکہ وہ جواب ہی اسے ایک معمولی انسان سے قائد اعظم بناتا تھا۔ وہ جواب جو بتاتا ہے کی  جب وہ اپنی بوڑھی  آنکھوں سے دیکھتا تھا تو اسے دیوار کے آر پار دکھائی  دیتا تھا ۔ چیتے کی نگاہ اسے سالوں آگے کا منظر دکھا دیتی تھی ۔ وہ جواب جو ظاہر کرتا ہے کے وہ کوئی  چھوٹا موٹا وکیل نہیں تھا بلکہ سات سمندر پار سے آکر سونے کی چڑیا کو قید کرنے والی قوم سے سارے گر لے چکا تھا۔ جواب سے صاف ظاہر ہے کہ  گول میز کانفرنس میں انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا “لوز پنچھیوں ” کا کام نہیں ۔

گو قائد اعظم کے لیئے اس لیڈی ڈاکٹر کا تبادلہ نہایت معمولی کام تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ  دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی  رکھنے پر وہ دیوار آسمان تک اونچائی تک تعمیر کے باوجود ٹیڑھی ہی رہے گی سو جواب نہایت جامع اور مختصر دیا ۔

“تمہارا تبادلہ کرانا گورنر کا کام نہیں ، یہ تو وزارت صحت کا کام ہے ” ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *