(نیا) پاکستان۔۔۔ معاذ بن محمود

نوٹ: راقم الحروف راسخ العقیدہ پاکستانی ہے کہ جس کا ایمان مضبوط ہے کہ (نیا) پاکستان بن رہا ہے اور انشاءاللہ مکمل ہو کر رہے گا۔ پس اسی بنیاد پر ناچیز مسکین سا فدوی بن کر گزارش کرتا ہے کہ مضمون کو طنز و مزاح کے پیرائے میں لیا جائے اس قدر سنجیدگی سے نہ پڑھا جائے کہ بعد ازاں ٹکور کے لیے ایک اور مضمون  سے استفادہ کرنا پڑے۔ شکریہ۔ 

عالمگیر بلاشبہ ایک ولی اللہ صفات کے حامل گلوکار رہے ہیں جو نوے کی دہائی میں (نئے) پاکستان کی منظر کشی کر گئے تھے۔ اپنے نغمے میں انہوں نے ماؤں کی دعا پوری ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے آج سے بیس سال پہلے ایک (نئے) پاکستان کی وعید سنائی۔ آج ماؤں کی دعائیں پوری ہوچکی ہیں۔ (نیا) پاکستان بن چکا۔ اللہ کا احسان ہمارے سامنے ہے۔ پچیس جولائی گزرے پچیس سے زیادہ دن گزر چکے ہیں اور ایک نیا دور اپنے ثمرات سامنے لا رہا ہے۔ آج تمام (نئے) پاکستانیوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے (نیا) پاکستان پایا اور ان تبدیلیوں کو محسوس نہ کیا۔ آج کا موضوع سخن یہی تبدیلیاں اور ان کے اثرات و ثمرات ہیں۔ 

(نئے) پاکستان میں محسوس کی جانے والی سب سے پہلی تبدیلی منتخب عوامی نمائندوں کی وہ عجز و انکساری رہی جو کراچی سے منتخب ایم این اے کی جانب سے عوام الناس میں سے ایک کے چہرے پہ شفقت بھرے ہاتھ پھیرتے ہوئے ملک بھر میں محسوس کی گئی۔ ریاست بھر کے میڈیا و سوشل میڈیا نے پیار محبت سے بھرپور یہ ویڈیو کئی دن نشر کی جس کے نتیجے میں یہ محبت پانے والا شخص بھی دنیا بھر کے سامنے یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ “بس کرو پگلوں، (مزید) رلاؤ گے کیا؟”۔ کئی پرانے دقیانوسی پاکستانیوں کے مطابق یہ پیار محبت تو گزشتہ کئی دہائیوں سے عام تھا تاہم ہمارا ماننا ہے کہ (نئے) پاکستان میں عجز و انکساری بھری “دستِ شفقت” کی یہ گونج معماران و مستریانِ (نیا) پاکستان کے دعووں کے عین مطابق ایک تبدیلی ہے۔ بقول سپہ سالارِ (نیا پاکستان) کے سجے پا غفورے کے، یہ تبدیلی کا سال ہے۔ میں پا غفورے کی بات پہ صدق دل سے ایمان لایا۔ جو نہیں لایا، جلد لے آئے ورنہ ممکنہ نقصان کا تخمینہ ابو علیحہ کی صحت سے لگایا جاسکتا ہے۔ 

تبدیلیوں کے اس سال میں ایک اور تبدیلی ایک انتہائی غریب اور پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے عاجز و منکسر شخص کی لاٹری نکلنا تھا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی غریب و مسکین شخص نے “لاٹری ٹکٹ خریدا” جس پر جیک پاٹ لگ گیا۔ نتیجتاً مذکورہ بالا شخص جس کے گھر میں کھلونا جہاز کو چارج کرنے کے لیے بجلی تک میسر نہیں تھی، نا صرف پانچ سال تک پرائویٹ جیٹ جہاز میں اہل و عیال سمیت جھولے لینے کا حق دار ٹھہرا بلکہ ساتھ ہی اسے (نئے) پاکستان کے سب سے اہم صوبے کا اعلی ترین وزیر بھی مان لیا گیا۔ ان الحکم الی اللہ۔ بیشک ایک محنت کش کسان کا اس قدر انعامات و تکریم پانا ایک بڑی تبدیلی اور ایک (نئے) پاکستان کا ثمر ہے۔ 

(نئے) پاکستان میں آنے والی کئی خوشگوار تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی پنجاب پولیس اصلاحات کے غیر اعلانیہ نفاذ کی بھی ہے۔ میری ارض پاک کے پاک ترین شہر پاکپتن میں چند دن پہلے پولیس کی جانب سے ایک خاص الخاص شہری کو زد و کوبپ کرنے کے الزام میں ڈی پی او پاکپتن پاک کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے رات ایک بجے پانچ بچوں کے مطلقہ باپ اور سابقہ مرد اوّل، پاکپتن کے معصوم شہری کو ناکے پہ نہ رکنے جیسے معمولی جرم کی پاداش میں زد و کوب کیا۔ پولیس کے مطابق خاکی وردی والے سیدھا گولی چلاتے ہیں جبکہ انہوں نے صرف دھمکانے پہ اکتفا کیا۔ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے حال ہی میں لاٹری ٹکٹ کے ذریعے وزارت اعلی جیتنے والے مسکین شخص نے شہری کی شکایت پہ ڈی پی او کا تبادلہ کر دیا۔ (نئے) پاکستان میں آنے والی اس خوشگوار تبدیلی پر معماران (نیا) وطن تعریف و تحسین کے مستحق ہیں۔ ی

(نئے) پاکستان میں تبدیلیوں کے نام پہ آنے والی تازہ ہواؤں کا ایک جھونکا وفاقی پاک پوتر (نئے) وزراء کی جانب سے کرپٹ سول افسران کو ان کی اوقات یاد دلانا بھی ہے۔ اس ضمن میں فرزند جی ایچ کیو کی جانب سے ریلوے کے ایک مشہور و معروف افسر کو شٹ اپ کال دینا الحمد للہ ایک لائق تحسین عمل ہے۔ انشاءاللہ اب یہ کرپٹ سرکاری افسران جلد سے جلد ملک بدر کر دیے جائیں گے اور ان کی جگہ آؤٹ سورسڈ فرشتوں سے کام لیا جائے گا۔ قوم کو یہ تبدیلی بھی مبارک ہو!

(نئے) پاکستان میں آنے والی تبدیلیوں میں سے خوشگوار ترین تبدیلی ملک میں روحانیت کے نتیجے میں رونما ہونے والے معجزات ہیں۔ الحمد للہ پیران کامل کا فیض عوام الناس پر ہی نہیں بلکہ جملہ سرکاری مشینری تک پہ نازل ہے۔ سرکاری ہیلی کاپٹر، مثال کے طور پر، وظیفہ خاص کے بعد فی کلومیٹر پچپن روپے سکہ رائج الوقت پہ بلا چون و چرا اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ الحمد للہ۔ ثم الحمد للہ۔ اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ پیروں کے بدلے اللہ پاک نے ہم پہ خاص کرم فرمایا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں اوبر اور کریم اپنی تمام ویگن آرز کو ہیلی کاپٹر سے بدل ڈالیں گے۔ والدین اپنے بچوں کو میٹرک پاس کرنے کی خوشی میں ہیلی کاپٹر ہدیہ کیا کریں گے۔ ہر بیٹی جہیز میں ہیلی کاپٹر لے جایا کرے گی۔ اس قدر سستی سواری استعمال کرنا بیشک سب کا بنیادی حق ہے مگر یاد دہانی کرواتے چلیں کہ تیز رفتاری کئی حادثات کا باعث بنتی ہے۔ مضمون کا اختتام کرتے کرتے درخواست کرتا چلوں کہ چاہے جتنی بھی لکیریں کھینچیں یا جتنی بھری پی لیں، اپنے “ہیلی کاپٹر” کی رفتار آہستہ رکھیے۔ 

یہ تمام فقط ایک ماہ کی تبدیلیاں تھیں، امید ہے اگلے پانچ سال ایک سے بڑھ کر ایک تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ قوم کو (نیا) پاکستان مبارک ہو!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *