گرد و غبار کی رنگین دنیا۔۔۔۔وہارا امباکر

آئیے ڈرماٹوفاگوائیڈ فیرانی (dermatophagoides farinae) سے ملاقات کرتے ہیں، آٹھ ٹانگوں پر چلتا کیڑا۔ اس کی کوئی آنکھ نہیں اس لئے اپنے ارد گرد کے رنگوں کو نہیں دیکھ پاتا۔ اس کا انحصار اپنے سونگھنے کی غیرمعمولی قوت پر ہے۔ اس قوت کی وجہ سے یہ خوراک کی طرف اور انڈے دینے کے محفوظ جگہ کی طرف جا پہنچ جاتا ہے۔ اس کا سائز نمک کے ذرے سے بھی چھوٹا ہے۔ یہ ڈسٹ مائیٹ کی ایک قسم ہے۔ اس کی پوری دنیا بستر کے نیچے پڑے یا کسی کونے کھدرے میں چھپی دھول کی گیند تک محدود ہے۔

اس دھول کی اپنی دنیا رنگ برنگی ہے لیکن اس کے ذرات آپس میں مل کر ہمیں ایک رنگی غیردلچسپ شے کی صورت میں نظر آتے ہیں اور اس کیڑے کے طرح ہم بھی اس کے رنگ نہیں دیکھ پاتے۔ لیکن دھول کے یہ ذرے ہیں کیا؟ اور گھر میں پڑی یہ مٹی کسی اور شے، مثلا ساحل کی ریت سے کیسے مختلف ہیں۔ فرق ان اجزاء کا ہے جن سے ملکر یہ دھول بنی ہے۔ گھر میں پڑی مٹی میں ریت کے ذرے، جلد کے مردہ خلیے، چھوٹے بال، دھاگے، جانوروں کی خشکی، پولن، انسانی آلودگی، خلا سے آئے معدنیات اور ڈسٹ مائیٹ سبھی کچھ شامل ہے۔

ڈسٹ مائیٹ جانوروں اور انسانوں کے مردہ خلیے اور فنگس کھاتی ہیں۔ ہماری کھال ہر وقت جھڑ رہی ہے۔ مردہ خلیے گر رہے ہیں۔ ہم جہاں پر بھی ہوں، یہ گھر میں پڑے گرد و غبار کا حصہ بن رہے ہیں۔ اگر ہم جانور پالتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ ان کی کھال اور بال اسی میں شامل ہے۔ اسی طرح ہمارے کپڑوں کے دھاگے اور بُر بھی۔ ان کی وجہ سے ہر گھر کی مٹی کا مکسچر خاص طرح کا ہوتا ہے جو اس کے رہنے والوں پر منحصر ہے۔

اس میں وہ اجزاء بھی شامل ہے جو دنیا میں دور سے آئے ہیں اور اس کا تعلق مقامی ارضیات سے ہے۔ کوئلہ، کوارٹز کے ذرات، آتش فشانی راکھ، پولن، فنگس کے ذرے، یہ سب فضا کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ صنعتوں سے آنے والا سیمنٹ کا پاؤڈر، گاڑیوں کے ٹائر سے اترے ذرے، دوسرے کیمیکل فضا میں شامل ہیں جو گھر میں پڑی مٹی کا حصہ ہیں۔

ان سب کو ملائیں تو ایک گھر کی گرد اتنی ہی خاص ہوتی ہے جتنا کسی شخص کی انگلی کا نشان۔ یہ بتا سکتی ہے کہ یہ خود کہاں سے ہے۔ سپین میں زمین میں کاربونیٹ زیادہ ہے تو یہاں پر نائجیریا کے مقابلے میں کیلشیم کی مقدار بیس گنا زیادہ ہو گی۔ دونوں جگہوں کی جیولوجی فرق ہے۔

تیز طوفان کے بعد سائنسدان شناخت کر سکتے یہں کہ لندن میں آئی مٹی ہزاروں میل دور صحارا کے صحرا سے اٹھی تھی۔ مستقبل میں یہ ممکن ہے کہ ہم مٹی کا سیمپل لے کر یہ بہت بہتر بتا سکیں کہ یہ ٹھیک ٹھیک کہاں کی ہے۔ شہر کے علاقے اور پھر گھر تک جس میں فورنسک ماہرین بہت دلچسپی رکھیں گے۔

انسانوں، جانوروں اور خطوں کے علاوہ اس مٹی میں وہ ذرے بھی ہیں جو دور پار سے آئے ہیں۔ کسی دور پرے کہکشاں میں ستارہ پھٹا۔ اس سے نکلنے والی انتہائی گرم گیسوں نے اپنے قریب کی ہر شے کو بخارات میں تبدیل کر دیا۔ ان گیسوں سے معدنیات بننا شروع ہوئے۔ کہکشاؤں، ستاروں اور سیاروں کے بیچ پھرتی خلائی دھول ان مردہ ستاروں کی باقیات ہیں۔ ان سے مستقبل کے فلکیاتی اجسام اور نظام بنیں گے۔ ہر سال ہزاروں ٹن کی خلائی دھول زمین پر گرتی ہے۔ کیمیکلز، منرلز اور خلائی دھول کا یہ مکسچر ہمارے گھروں پر مٹی کی تہہ کا ایک حصہ ہے۔

ستارے پھٹتے ہیں، اونچے پہاڑوں اور چٹانوں کو موسم گھِساتا جاتا ہے۔ عمارتیں، پودے اور جانور آہستہ آہستہ اس باریک، بے رنگ نظر آنے والے پاؤڈر کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ ہر شے کا انجام اس بظاہر بے رنگ نظر آنی والی اس رنگ برنگی مٹی میں ہے، جس میں یہ سب کچھ شامل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *