اے ارض پاک۔۔۔عائشہ یاسین

آج کی صبح دیگر دنوں سے منفرد اور الگ سی لگ رہی ہے۔ آج 14 اگست ہے اور ٹھیک اسی 14 اگست 1947 کا سورج بھی اسی رنگ و اندام اور انداز سے طلوع ہوا ہوگا ۔ کتنی امیدوں اور امنگوں کا محور ہے یہ وطن !  یہ سوچ سوچ کر روح حلق کو آتی ہے۔  14 اگست 1947 کو ہندوستانی مسلمانوں کی غلامی کا آخری سورج طلوع ہوا ہوگا۔ اب تک کتنے گھر اجڑ چکے ہوں گے اور کتنے باقی ہوں گے۔ اگلا سورج آزادی کے پیغام کے ساتھ طلوع ہوا ہوگا۔ اور غلامی کی زنجیر ٹوٹ کر بکھر گئی ہوگی۔
ازادی کیا ہوتی ہے اور اس کے کیا کیا اثرات قوم اور اس کے افراد پہ مرتب ہوتے ہیں ۔یہ کوئی ہمارے بزرگوں سے پوچھے یا ان قوموں سے جن کی جدو جہد ابھی تک جاری ہے اور وہ ایک محکوم قوم کے طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔
آزادی کیا ہے ؟ اس کی صحیح تشریح وہ ہوا میں اڑتا، بل کھاتا پرندہ خوب بتا سکتا ہے جس کو پنجرے میں قید کر دیا جائے۔  آسمان کی بلندی، موسم کا اتارچڑھاؤ سب کا بھاو جان جاتا ہے۔ اس کو اس وقت تک کھلی فضا کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ اس قید کی اذیت کو نہیں جھیل لے۔ اس کو اگر سونے کے پنجرے میں بھی رکھ دیا جائے تو اس کی نظر تیز  جلاتی اور  چمچماتی دھوپ پہ ہی ٹکی رہتی ہے اور اس کو آسمان کی صعوبتین اور  اونچائی پر حسرت ہونے  لگتی ہے ۔
اس اونچائی کا ادراک ہمارے بزرگوں نے خوب کیا۔شاید یہی وجہ ہے جو 1970 کے بعد کی جینریشن ہے جس میں میں بھی شامل ہوں ۔آزادی کی قدر اس طرح سے نہیں کرپاتی جس طرح ہمارے دادا، دادی، نانا، نانی یا ماں، باپ کرتے آئے ہیں۔
ہم نے آزادی کے نام پر ہمیشہ rules and law کی پامالی کی بات کی۔ ہم نے ہمیشہ اپنے بڑوں کو اس بات کا طعنہ دیا کہ ہمارے لئے اس ملک میں ہے کیا؟ ہم نے ہمیشہ میڈیا کو اپنا سہارا بنا کر صرف اس ملک کے ہر پہلو پر تنقید کی۔ پھر رہی سہی کسر  اس سوشل میڈیا نے پوری کردی کہ ہم نے جسمانی تگ  و دو چھوڑ کر صرف لفاظی اور نمائش کے نام پر محبتوں اور قربانیوں کو وقف کردیا۔
سوشل میڈیا پر بیٹھ کر dp بدلنے سے یہ حق پورا نہیں ہو پائے گا۔ محبت کا اظہار عمل مانگتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنا سب کچھ دان کرکے اس ارض پاک کو اپنی دلہن بنایا تھا۔ اپنا گھر بار، عیش و آسائش سب اس پاکستان کی نذر  کیا تھا ۔یہاں تک کہ بیٹیوں کی  عصمت اس کو منہ دکھائی دی تھی۔ جان کے نذرانے دیے  گئے تھے۔ جوانوں کی بلی چڑھی تھی تب جاکر یہ وطن ملا تھا۔
یہ آزادی بڑی مشکلوں سے ملی تھی۔ یہ محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کی سوچ اور جدوجہد کا نتیجہ تھی جس کا خدا بھی ایک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان پختہ تھا۔ اس قوم میں عقل و شعور کی بنیادیں مضبوط تھیں ۔ان کے ارادے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط تھے ۔ ان کا عزم فولاد کی طرح طاقتور تھا اور ان کی سوچ مثبت اور مثالی تھی۔
آج  ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے بزرگوں پر اپنی  تعلیم کا رعب ڈالنے کے بجائے ان سے حب الوطنی کا درس لیں ۔ان سے سیکھیں کہ قربانی اور ایثار کس جذبے کا نام ہے۔ ان سے ایمان اور نیت کے بھاو معلوم  کریں ۔ یقین جانیے  یہ آنکھیں جنہوں نے پاکستان کو بنتے دیکھا۔ عروج  و زوال دیکھیے  ۔ سیاسی و معاشی حالات میں تغیر دیکھا ۔یہ لوگ بڑے قیمتی ہیں اس ہی سر زمین پاک کی طرح جس نے ہم کو اپنی گود میں سجا کر رکھا ہے۔
اس زمین کا قرض ہم نے چکانا ہوگا۔ زیادہ نہیں تو صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا ۔ اس کی بھلائی کا شعور بیدار کرنا ہوگا۔ اپنی  آنے والی نسل کو ایک روشن مستقبل دینا ہوگا۔ دیا سے دیا جلانا ہوگا اور شعوری دنیا میں اپنے ملک کا حق ادا کرنا ہوگا۔ انفرادی سطح پر ایک دوسرے کو آسانی دینی ہوگی۔ گلی محلوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ مثبت اور تعمیری سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔ اس پرچم کی لاج رکھنی ہوگی صرف پاکستانی بننا ہوگا۔
جب یہ ارض پاک  ہمارا وطن ہمارا پاکستان ہماری پہلی ترجیح ہوگا تو کوئی فرقہ کوئی رنگ و نسل  کا فرق باقی نہیں رہے گا۔ایک ہی نعرہ اور ایک ہی منشور ہوگا اور ہم ایک قوم بن کر انشا اللہ پھر سے ابھریں گے۔ ہم پر اپنی شناخت کا تحفظ لازم ہے۔ اس شناخت کی بدولت ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ مضبوط اور ترقی پذیر ملک میں شامل ہونا ہے۔ اور اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونا ہے کہ جو امانت ہمارے بزرگوں نے ہم کو سونپی تھی ہم نے اس کی حفاظت کی اور وطن کی مٹی کا حق ادا کیا۔
اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو ۔۔۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *