دھوکہ : دینا آسان ، سہنا مشکل۔۔۔۔میاں جمشید

ا گر اپنی عزت ، رتبے  اور کردار کو کچلنا ہو تو ” دھوکے  ” کا استعمال ایک آسان کام ہے، یہ ایک ایسا کام ہے جس میں آدمی بہت سی اخلاقی برائیاں ایک ساتھ ملا کر اس میں استعمال کرتا ہے. جھوٹ سے شروع ہونے والا یہ کام نہ صرف جھوٹ پر ہی ختم ہوتا ہے بلکہ اپنے ساتھ اور بہت سی  چیزیں بھی ختم کر دیتا ہے جس میں سر فہرست ” عزت نفس” اور ” اعتماد” ہے.

وعدہ، لالچ، فوری نتیجہ و آسانی یہ وہ حسین خواب ہیں جن کو دھوکہ دینے والے ہمیشہ استعمال کرتے ہیں.کہیں جھوٹی محبت اور شادی کا وعدہ کر کے ناجائز تعلقات بنانا ، جلدی امیر ہونے کے لئے مختلف غیر قانونی و غیر اخلاقی کام، موٹاپا ، چھوٹا قد ، کالی رنگت وغیرہ کا صرف ایک نسخہ سے افاقہ، گھر بیٹھے بغیر محنت کے یا تھوڑی انویسٹمنٹ سے بےحد منافع کمانا وغیرہ ایسے دھوکے ہیں جو آجکل ہمارے ارد گرد بہت پائے  جاتے ہیں.

آج کل کے معاشرے میں دھوکہ دینے والا یا تو ” پیسے” کمانے کے لئے فریب دیتا  ہے یا پھر ” جنسی و جسمانی فائدہ” اٹھانے  کے لیے ۔. رہی بات عزت و رتبہ کی تو یہ کبھی بھی اس برے کام سے نہیں مل سکتا اور یہ دھوکہ دینے والا بھی جانتا ہی ہوتا ہے. دوسری طرف دھوکہ کھانے والے اپنی معصومیت و بیچارگی میں مارے جاتے ہیں کہ امیر ہونا، شادی ہونا، خوبصورت دکھنا وغیرہ ایسی فطری خواہشات ہیں جو ہر انسان کے دل و دماغ میں آتی ہیں، فرق صرف مضبوط ہونے کا اور قابو کرنے کا پڑتا ہے. یہ بھی ٹھیک ہے کہ مالی دھوکہ تو اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا مگر ” جذباتی و جائز رشتوں” میں دھوکہ کھانا تو جان ہی نکال دیتا ہے کہ ایسا دھوکہ دل توڑتا ہی نہیں بلکہ نچوڑ بھی جاتا ہے.

یاد رہے کہ ہر وہ کام جو چھپ کر ہو یا مثبت و تجربہ کار لوگوں کی مشاورت کے بغیر ہو ،  اس کام میں دھوکہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں. اس لئے فوری اور مکمل اعتماد ہرگز کسی پر بھی نہ کریں خاص کر کسی انجان پر، خود کو مضبوط کریں، پیار و توجہ والی باتوں میں نہ آئیں، اپنی کوئی ذاتی بات ہر کسی سے شیئر نہ کریں۔ خاص کر آڈیو و ویڈیو کال پر .کسی دھوکے کے ہونے کا احساس ہو جائے تو فوراً  دھوکے دینے والے بندے کے چنگل سے نکلیے، دھوکہ دینے والے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا، بلیک میل نہیں ہونا، خود کو اکیلا ظاہر نہیں کرنا، اپنے گھر والوں کو یا اچھے عزیز و دوست کو اعتماد میں لیں، ہمت و حوصلہ سے دھوکے  سے باہر آئیں.

حرف آخر یہ کہ دھوکہ دینا وقتی لذت و فائدہ تو دے سکتا ہے مگر زندگی میں بہت پریشانیاں لا کر بےسکون  کر دیتا ہے. یقین مانیں کہ دوسرے انسان کو نظر نہ آنے والا دھوکہ ، آپ کے کندھے پر موجود لکھنے والے فرشتوں سے کبھی نہیں چھپ سکتا. ہم کسی معصوم  انسان کو تو دھوکہ دے سکتے  ہیں مگر رب کو کبھی نہیں دے سکتے. یہ بات خود کو سمجھا کر ارد گرد کے لوگوں کو بھی بتا دیں کہ دھوکہ کھانے والا شریف و مجبور تو اکثر خاموشی سے آپ کا دھوکہ برداشت کر جاتا ہے  مگر رب تو نہیں بھولتا نا اور پھر نہ ہی چھوڑتا ہے. وہ بھی آپ کو دھوکے میں رکھ کر کسی ذریعے سے تگڑا دھوکہ دلواتا ہے اور تب لگ پتا جاتا ہے کہ واقعی میں دھوکہ دینا تو آسان ہے، مگر خود سہنا بہت ہی مشکل۔

میاں جمشید
میاں جمشید
لکھاری ، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے سکھانے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ کردار سازی ، ذہنی اصلاح اور مثبت طرز زندگی کے موضوعات پر حوصلہ افزاء و رہنمائی سے بھرپور مضامین لکھتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *