گنگا چوٹی سے پیرچناسی تک ۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

بچپن ہی سے سیروسیاحت کا شوق رہا ہے ـ اس شوق کو پروان چڑھانے میں میرے دادا جان کا بڑا ہاتھ ہے جس طرح خان ابا نے پڑھنے اور لکھنے کے جراثیم پیدا کئے اسی طرح نئی نئی جگہیں دیکھنے کا شوق بھی دادا جان کے مرہون منت ہے۔ ـ صوبہ خیبر پختونخوا کا کونہ کونہ دیکھا ہے ـ سکول ،کالج اور یونیورسٹی میں بھی یہ عادت پروان چڑھی اور کوئی ٹور مس نہیں کیاـ پھر دوستوں کے ساتھ بھی آوٹنگ کی ـ، ملک سے باہر گئے تو نئی جگہوں کو مسخر کرنا روح میں سرایت کرگیا،ـ باہر کی دنیا دیکھی وہاں کے علاقے دیکھے ـ پھر پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی آنکھوں میں بسائی تو ٹھنڈیانی ،مری، نتھیاگلی ،سوات، کاغان ناران ،کالام ، کیلاش ، چترال ،شندور اور کشمیر کے بہت سے علاقوں کی سیر ہوئی ـ مگر بہت سے علاقے اب بھی میری آنکھوں سے مخفی ہیں، ـ جس کی چاہ دل میں موجود ہےـ اور اللہ خواہشیں پوری کرتا ہے ـ صحافت میں بھی سیاحت کی اوراب جب ٹیچنگ سے وابستہ ہیں تو اللہ تعالی مہربانی کرکے ہر سال طالب علموں کے ساتھ سیروسیاحت کے مواقع فراہم کردیتا ہے جس سے وہی کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں پہنچ جاتے ہیں ـ اور ایک نئی جگہ سے شناسائی ہوجاتی ہے۔ـ

اس سال بھی اللہ تعالی نے کرم کیا اور یونیورسٹی کے طلباء اور فیکلٹی کے ساتھ آزاد کشمیر کا پروگرام بنا،ـ حالانکہ کشمیر بہت دفعہ جاچکے ہیں مگر ہر دفعہ ایک نئے کشمیر سے واسطہ پڑتا ہےـ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی ہواـ یہ کشمیر ایک نیا کشمیر تھا ـ اس کی خوبصورتی نئی تھی ـ اس کی جگہوں میں ایک نیا سرور تھا ،۔پشاور سے براستہ گڑھی حبیب اللہ مظفر آباد تک کا سفر طے ہوا راستے میں ایک جگہ چائے کے لئے بریک ہوئی ،پھر مظفر آباد میں پڑاؤہواـ ،مظفر آباد آزاد کشمیر کا انتظامی دار الخلافہ ہے جو کہ اس مقام پر واقع ہے جہاں دریائے نیلم اور دریائے جہلم کا ملاپ ہوتا ہے۔ جو چیز اسے دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان پہاڑوں کی خوبصورتی ہے جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ سیاحوں کی توجہ کے کچھ مراکز اتنے خوبصورت ہیں کہ جی چاہتا ہے یہاں سے جایا ہی نہ جائے، ـ بس ایک خیمہ ہو بہت سی کتابیں ہوں اور چائے ہو،ـ کیونکہ دل لبھاتی وادیاں، برف پوش کہسار، گرتے جھرنے، پھوٹتے چشمے، پرندوں کی قلقاریاں، درختوں کے لشکر، پرسکون جھیلیں، جھومتے باد ل، ان سب کاساتھ ہو تو اور کیا چاہیےاور سفر میں یہ ہر وقت میرے ساتھی اور میرے دوست ہوتے ہیں، میں ان سے باتیں کرتا ہوں، یہ میری باتیں سمجھتے ہیں۔ زندگی کے ہنگاموں سے کٹ کر گاہے گاہے ان کی پرسکون آغوش میں جا چھپتا ہوں۔ اور ان کا پرسکون شور میرے دل و دماغ کو پھر سے جیون عطا کر دیتا ہے۔ میں جی اٹھتا ہوں جیسے رحمت بھری بارش سے مردہ زمین جی اٹھتی ہے۔

ـ مظفر آباد تک گاڑی میں میوزک اور طلباء کی مستیوں سے لطف اُٹھاتا رہا اور دوسرے دن اپنی منزل گنگا چوٹی تھی جس کی بہت تعریف سنی تھی یہ وہاں جاکر اندازہ ہواـ کہ گنگا چوٹی کمال کی جگہ ہے ـ جس کے سحر میں انسان ڈوب جاتا ہے ـ گنگا میں ایک چاشنی ہے ایک سرور ہے یہ جگہ ایک کیفیت کا نام ہے ـ اونچے اونچے درختوں اور بل کھاتی سڑکوں کے پر پیچ اور پرخطر راستوں سے ہوتے ہوئے خوف کے سائے  میں ساتھ چلتے ہیں، ـ ایک ذرا سی غلطی موت کی راہ دکھاسکتی ہےـ اور بادلوں سے موت کی وادیوں میں گرنا بہت آسان ہے، ـ گنگا چوٹی پہنچ کر اور راستے کی خوبصورتی دیکھ کر بندہ اللہ تعالی کی یاد میں ڈوب جاتا ہے اور اللہ تعالی کی یکتائی کے  گن گانے لگتا ہے ـ ہم نے گنگا چوٹی کے حوالے سے مختلف ویب سائیٹ چھان ماریں۔ ـ جس میں گنگا چوٹی کے بارے میں معلومات درج ہیں ـ جو کچھ یوں ہے کہ یہ سرزمین ہزاروں برس  سے ہندومت کے زیرِ اثر رہی ہے۔اس لیے ہندوستان کے آزاد ہو نے کے بعداب بھی بہت سے علاقوں میں ابھی تک ہندوانہ نام چلتے ہیں۔بعد میں آنے والے مذاہب کے  ہندوانہ یا پچھلے مذہب والے نام ہٹا کر نئے نام رکھنے کی کوشش کی ہے مگر نئے نام اتنے بدذوق یا مِس فِٹ ہیں کہ باقاعدہ رونے کو دل کرتا ہے.. جبکہ بُت پرست ہندوؤں کے نام آج بھی آفاقی اور ذوق دریا محسوس ہوتے ہیں، اس لیے نئے نام کی بجائے گنگا نام ہی بولا جاتا ہے کیونکہ یہاں نیا نام سُوٹ نہیں کرتاـ۔

c

تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ  شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی  صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیا کیونکہ وہ رحم دل بادشاہ تھا، ہمارے موجودہ بادشاہوں کی مانند ہرگز نہ تھا جو خود مصنوعی قحط طاری کر کے دنیا سے بھیک مانگتے ہیں اور اپنے کاروبار چلاتے ہیں . ساگر نے عظیم خدا براہمان سے دعا کی کہ اُس کی قوم پر رحم کیا جائے. براہمان نے دیوتا شیوا کی ڈیوٹی لگا دی کہ جاؤ اور ساگر کی مدد کرو.. یہ اسی طرح ہے جیسے اکثر اوقات خدا حضرت جبرائیل کو بھیجا کرتا تھا.. یا بھیجا کرتا ہے. یا طائف میں پہاڑوں کے فرشتے بھیجے کہ جاؤ محبوب سے پوچھ کر طائف کی بستی کو تہس نہس کر دو.. مگر محبوب نے منع کر دیا کہ اس کی ضرورت نہیں.. یہ لوگ جلد مجھے پہچان جائیں گے.

دیوتا شیوا نے ساگر کے سامنے آ کر اپنی ٹانگیں پھیلا دیں. ہندوؤں کی مقدس کتب کے مطابق شیوا کی ٹانگیں پھیلتی پھیلتی کائنات کی آخری حدوں کو چھونے لگیں. شیوا نے اپنے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن سے کائنات کی اخروی حد (گریٹ ووئڈز) میں بڑا سا چھید کر ڈالا. اُس چھید کے پار لاہوت لامکاں سے دودھیا رنگ  کی  شدید خوبصورت حُور ایک سمندری مکڑے  پر سوار کائنات میں داخل ہو گئی.وہ حُور اپنے ہمراہ ایک بہت بڑا دریا لا رہی تھی. وہ دریا اتنا شدت آور تھا کہ اگر اسی شدت سے زمین پر آ جاتا تو قیامت ہی برپا ہو جاتی. لہذا شیوا نے دریا کو آسمان میں پھیلا دیا جسے آکاش گنگا کہتے ہیں۔ یہی ملکی وے ہے اور وہ حُور  گنگا ہے.پھر دیوتا شیوا نے اپنے زورِ بازو سے اُس دریا میں سے ایک چھوٹی نہر نکالی اور سرزمینِ ہندوستان میں چند دھارے بہا دیے. انہی دھاروں میں دریائے براہماپتر اور دریائے سندھ بھی شامل ہیں. اصل دھارا گنگا کہلایا جو آکاش گنگا سے مستقل پانی وصول کر رہا ہے.اور شیوا وہی دیوتا ہے کہ ایک بار جس کا آنسو کوہستانِ نمک کی بلندیوں پر کٹاس مندر کا نیلگوں تالاب بن گیا تھا.ہندو مت کے مطابق اُن کا بھی ایک ہی خدا ہے جسے براہمان کہتے ہیں، باقی خدا مثلاً براہما، شیوا، ویشنو، ایشور، وغیرہ وغیرہ ایک ہی براہمان کی صفات ہیں. اور گنگا محبت، بخشش اور زندگی کی فورس ہے. فورس کو قدیم زبان میں دیوی کہا گیا. البتہ شدید طاقت کے باعث اُس کی محبت بعض اوقات طوفان لاتی ہے اور انسان پریشان ہو جاتا ہے. شدتِ عشق سے لبریز محبوب تجھے پریشان کر سکتا ہے.. تجھے معلوم ہو گا اگر تیرا کوئی ایسا محبوب ہو گا.اب گنگا چوٹی کو گنگا کیوں کہا گیا.. یہ وہاں جا کر پتا چلتا ہے.. ویسے بھی ہندو روایت کے مطابق گنگا دیوی کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے محبت ہے.

مظفر آباد سے براستہ سدھن گلی گنگا چوٹی پہنچے جہاں راستے میں ہمارے کوچ کے ڈرائیور صاحب نے آگے جانے سے انکار کردیا کیونکہ بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی اور وہ رسک نہیں لینا چاہتا تھاـ منہ ماری ہوئی مگر وہ اتنا ڈھیٹ تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہواـ ہمیں ہر حال میں گنگا چوٹی دیکھنی تھی جس میں ڈرائیور کی ہٹ دھرمی کچھ حیثیت نہیں رکھتی تھی ـ پیدل جانے کی منصوبہ بندی کی حالانکہ معلوم نہیں تھا کہ راستہ کتنا ہے ـ حالانکہ یہ معلوم تھا کہ کٹھن ہے دشوار ہے مگر دور ہے اس سے کوئی سروکار نہیں تھاـ کیچڑ میں پل صراط کا سفر طے کیا جس سے سب کے کپڑے اور جوتے لت پت تھے کچھ کے تو جوتے پھٹ بھی گئے اور سہاروں سے آگے جارہے تھے ـ راستہ کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھاـ ایڈونچر سے بھرپور سفر فور بائی فور گاڑیوں میں ختم ہواـ سدھن گلی سے اوپر کا سفر موت کا سفر تھاـ جس کے بعد جنت ہماری منتظر تھی ـ کیونکہ گنگا چوٹی پیر پنجال کے پہاڑی سلسلہ کی مشہور ترین چوٹی ہے ۔ سطح سمندر سے 10,000فٹ بلند اس پہاڑ پر بڑے بڑے سر سبز میدان واقع ہیں خطرناک روڈ کراس کرکے اوپر پہنچے تو یک دم سبز قالین سامنے آ گئے اور آس پاس تمام مناظر کھل گئے. ذرا دور نظر آتی گنگا نے اپنے مزید حجاب اتار دیئے . سارے طلباء دیوانہ وار ان قالینوں پر ننگے پاؤں چلنے اور دوڑنے لگے ـ ہر طرف ہریالی کے جلوے تھے ـ جنت قدموں تلے آگئی تھی ـ اوپر گائیں اور بکریاں چر رہی تھیں



عین ٹاپ پر کئی خیمے تھےـ جی چاہا یہاں رات گزاری جائے اور قدرت کی رنگینیوں سے بھرپور لطف اُٹھایا جائے مگر یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ سارا سامان مظفر آباد کے ہوٹل میں چھوڑ آئے تھےـ وہی پر دنبہ باربی کیو کرنے کے لئے لیا گیاـ جوکہ ایک لمبی کہانی ہے ـ بہت بھاؤ تاؤ کے بعد دنبہ نصیب ہواـ وہ الگ بات کہ پھر باربی کیو نہ ہوسکی ـ کیونکہ ایک تو موقع نہیں تھا دوسری تھکن سے چور تھےـاور ڈرائیور کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے چکوٹھی سیکٹر جانا نصیب نہیں ہواـ اور پھر توتو میں سے بات اگے نکلی اور اُس گاڑی کو چلتا کیاـ غصے سے بی پی ہائی تھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاـ خیر جیسے تیسے ہوٹل پہنچے اور پھر وہی گوشت ہوٹل میں کڑاہی کیا گیا جس کا اپنا ہی مزہ تھاـ ہم تو کمرے میں نڈھال ہوگئے ـ سٹوڈنٹس نے پوری رات ڈی جی سٹسم کے ساتھ ڈانس کیا انہیں تھکن کا احساس ہی نہیں تھاـ ڈرائیور کو کال کی گئی جو گڑھی حبیب اللہ پہنچ چکا تھاـ اُس سے بات ہوئی جب اپنی غلطی مانی تو اُسے واپس بلایا گیا کیونکہ دوسرے دن پیر چناسی کا ایڈونچر شروع ہونے والا تھاـ

صبح تازہ دم ہوکر پیر چناسی کی راہ لی ـ گرمی پشاور کی طرح مظفر آباد میں بھی پڑ رہی تھی ـ مگر چار گھنٹوں کے بعد ہمیں گرمی میں سردی کا احساس ہونے والا تھاـ جس سے ہمیں شناسائی نہیں تھی ـ راستے بھر میں سیلفیاں اور تصاویر نکالی گئیں ـ اور پھر بادلوں سے بھی اوپر سفر کرتے ہوئے ٹھنڈک کا احساس ہواـ اور یوں نو ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پہنچ گئے تھے جس کو پیر چناسی کہتے ہیں ـ.پیر چناسی، سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے اور یہ مزید ایک دن کی مسافت ہے۔ دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے بھی اور نہیں بھی کہ بہت سے بزرگ چوٹیوں پر اپنی آخری آرام گاہ رکھتے ہیں۔ جیسے اسلام آباد میں پیر سوہاوا، راولاکوٹ میں تولی پیر اور مظفر آباد میں پیرچناسی اور پیر سہار۔ شاید اس لیے کہ خدا سے قربت کا جتنا احساس یہاں ہوتا ہے، نفس کو کھوجنے اور مسائل ِکائنات پر غور و فکر کا جتنا موقع یہاں نصیب ہوتا ہے کہیں اور نہیں ملتا۔

شاید اسی لیے حضور ِ اعلیﷺ بھی اپنے دادا جنابِ عبدالمطلب کی طرح جبلِ نور پر اکثر قیام فرما ہوتے تھےـ ہوا ساکت تھی اور ہم منمجد ہوگئے تھے مختلف علاقوں کے سیاح سیر کوآئے تھے اور پیر چناسی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہورہے تھے ـ دور جاہلیت کے نظارے اس مزار پر بھی دیکھے جب مرید قبروں پر منتیں مانگ رہے تھے اور عجیب عجیب حرکتیں کرنے میں مصروف تھےـ حضرت سید شاہ حسین بخاری کا مزار صدیوں سے اہلیان مظفرآباد و مضافات کیلئے ہمیشہ سے مرجع خلائق رہا ہے۔جب تک پیر چناسی کو سڑک سے منسلک نہیں کیا گیا تھا لوگ اظہار عقیدت کیلئے کئی گھنٹے پیدل سفر کر کے زیارت پیر سید شاہ حسین بخاری کیلئے جایا کرتے تھے۔پیر چناسی کی بلندی تقریباً 10ہزار فٹ سطح سمندر سے ہے موجودہ حکومت کی کاوشوں سے پیر چناسی کو اب بہت ا چھی کشادہ اور خوبصورت سڑک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ زیارت شریف کے علاوہ پیر چناسی کی سطح سمندر سے بلندی وہاں کا گرمیوں میں خوبصورت موسم بہتر سڑک ہونے کی بنا پر پاکستان بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔

مظفرآباد شہر سے دو گھنٹے کی مسافت کے بعد اتنے خوبصورت مقام اور روح افزا موسم میں چلا جا نا، شدید گرمی کے موسم میں ایک نعمت غیر مترقبہ کے مترادف ہےـ وہاں پر سٹوڈنٹس نے بھنگڑے ڈالے کھانے کا انتظام وہاں کے رہائشی ایک ایم فل کے طالب علم عقیل کی جانب سے کیا گیا تھا جو کہ ازاد کشمیر کا رہائشی ہے ـ عقیل نے بہت مہمان نوازی کی ـ جس پر ہم تہہ دل سے شکرگزار ہیں ـ پیر چناسی سے واپسی ہوئی اور پھر اگلا پڑاؤ کوہالہ میں ہوا.شام کے سائے ڈھل رہے تھےـ وہاں دریا کے بیچ میں چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے نوش کی گئی ـ جس کی قیمت چار گنا تھی ـ سروس چارچز کی مد میں بھی سو روپے لئے گئے ـ طلباء کہیں پر بھی سیلفیاں لینے کا موقع ہاتھ سے نہیں دینے جارہے تھےـ یہاں پر بھی سیلفیاں لی گئیں ـ اور پھر گاڑی میں اشعار سمیت دیگر مقابلے کئے گئے ـ اور یوں یہ سفر بہت سی خوبصورت یادوں کے ساتھ ذہنوں پر نقش ہوکر اختتام پذیر ہوا ـ مگر گنگا چوٹی اور پیر چناسی کی خوبصورتی بہت مشکل سے ذہن کے نہاں خانے سے نکلے گی یہ خوبصورتی تب ذہن سے محو ہوگی جب کوئی اور خوبصورت جگہ سے  آشنائی ہوگی ـ ـ۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گنگا چوٹی سے پیرچناسی تک ۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *