خان صاحب کتنے وعدے پورے کر پائیں گے؟ ۔۔۔ عبد الرؤف خٹک

SHOPPING

جس طریقے سے عوام نے خان صاحب سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، کیا خان صاحب عوام کی ان امیدوں پر پورا اتر پائیں گے؟ کیا خان صاحب وہ سب وعدے پورے کر پائیں گے جو انھوں نے اپنے جلسوں میں عوام سے کئیے تھے؟ ان سب باتوں وعدوں سے ہٹ کر سب سے پہلے جو سوالات عام آدمی کے ذہن میں اٹھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ کیا خان صاحب وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم کا پروٹوکول چھوڑ دیں گے؟ کیا خان صاحب عوام سے کیے وعدے پورے کر پائیں گے؟ کیا خان صاحب وزیراعظم ہاؤس کا استعمال چھوڑ دیں گے؟ کیا خان صاحب چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز عوام کی بہبود کے لئیے وقف کردیں گے؟ کیا خان صاحب بیرون ممالک دورے کم کردیں گے؟ کیا خان صاحب مہمانوں کی ضیافت پر جو کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں وہ شاہ خرچیاں ختم کردیں گے؟ کیا خان صاحب کرپشن کو ختم کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب کے ساتھ جو پرانے کھلاڑی ہیں انھیں قابع کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب لوٹی ہوئی دولت کو سوئس بینکوں سے نکال کر اپنے ملک لا پائیں گے؟ کیا خان صاحب وہ معیاری ہسپتال بنا پائیں گے جہاں عام آدمی سے لیکر ایک بڑے سیاسی لیڈر تک اپنا علاج کراسکے؟ کیا خان صاحب وہ معیاری اسکول بنا پائیں گے جہاں امیر غریب سب کے بچے مل کر پڑھ سکیں؟ کیا خان صاحب روپے کی قدر کو مستحکم کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب یکساں تعلیم نظام مہیاء کر پائیں گے؟ کیا خان صاحب اپنے وزیروں مشیروں کاپروٹوکول ختم کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب چوروں لٹیروں کا حساب کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب نیب کو مزید مضبوط کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب عوام کو سنہرے اور سبز خواب جو انہوں نے دکھائے تھے پورے کروا پائیں گے؟ کیا خان صاحب امریکہ اور انڈیا سے برابری کی بنیاد پر بات کرپائیں گے؟ 

کیا خان صاحب کشمیر کے مسئلے کو پوری دنیا میں اور اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کر پائیں گے؟ کیا خان صاحب کالا باغ ڈیم سمیت چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا پائیں گے؟ کیا خان صاحب اس ملک میں اپنے وزیروں مشیروں کا کھلا احتساب کرپائیں گے؟ کیا خان صاحب جنوبی پنجاب کا سرائیکی صوبہ بناپائیں گے؟ کیا خان صاحب اس ملک میں معیاری یونیورسٹیوں کا جال بچھا پائیں گے؟ کیا خان صاحب امریکہ کی جھونکی ہوئی جنگ سے اپنے ملک کو نکال پائیں گے؟ کیا خان صاحب کا لب ولہجہ وزیراعظم کا حلف لینے بعد عوام کی ترجمانی کر پائے گا؟ کیا خان صاحب اتنی مضبوط اپوزیشن کو ساتھ لے کر چل پائیں گے؟ کیا خان صاحب نوجوانوں کی امنگوں پر پورا اتر پائیں گے؟ کیا خان صاحب اس ملک میں بین الاقوامی  سطح پر کھیلوں کو واپس لاپائیں گے؟ کیا خان صاحب عافیہ صدیقی کو امریکہ کی قید سے نکال کر واپس اپنے ملک لا پائیں گے؟ کیا خان صاحب اس ملک کا تباہ حال انفراسٹرکچر دوبارہ نئے سرے سے بنا پائیں گے؟ کیا خان صاحب اس ملک سے بےروزگاری، رشوت خوری اور دہشتگردی جیسے ناسور کو جڑ سے ختم کر پائیں گے؟ 

یہ وہ تمام وعدے ہیں جو خان صاحب اپنی ہر تقریر اور جلسے میں فرماتے۔ کیا خان صاحب اب وزیراعظم کا حلف لینے کے بعد ان تمام وعدوں کو پورا کرنے کے لئیے وقت دے پائیں گے؟ یا یہ بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح ان معاملات کو ردی کی ٹوکری کی نظر کردینگے؟ 

قوم نے خان صاحب سے جو امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اگر خان صاحب قوم کی امنگوں پر پورا نہیں اترتے خاص کر نوجوان نسل تو یاد رکھنا یہ قوم پھر کسی سیاستدان پر بھروسہ نہیں کرے گی۔ یہ قوم اس کے بعد خود کو سیاست سے ہی دور کردے گی کیونکہ اک عرصے بعد ہماری نوجوان نسل میں یہ جذبہ اور شعور ابھرا کہ اک باری خان صاحب کی بھی ہونی چاہئیے۔ یہ نوجوان گھروں سے جوق درجوق نکلے اور خان صاحب کو یہ باور کرایا کہ ہم خان صاحب کے ساتھ ہیں لیکن ہماری امنگوں پر پورا اترنا اور ہمارے خوابوں اور جذبوں کو درخور اعتناء نہ سمجھنا۔ 

اب دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب اک روایتی سیاستدان بن کر سیاست کرتے نظر آتے ہیں یا قوم کو ان میں جو جھلک نظر آئی تھی اسی معیار پر پورا اتریں گے۔ 

یاد رکھیے گا عمران خان صاحب!

SHOPPING

یہ قوم پچھلے ستر سال سے زلیل وخوار ہورہی ہے۔ اس قوم کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس ملک اور قوم کو لوٹنے والوں نے جو حشر برپا کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن آج بھی یہ قوم مایوس نہیں۔  بلکہ یہ تو ایک ایسے راہبر کی تلاش میں ہے جو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ ایسی نوید سحر اس وقت ہے تو خان صاحب آپ ہیں جو اس قوم کو نیا شعور اور وژن دوگے، آپ ہی اس وقت ایک ایسے لیڈر ہیں جو قوم کو اک نئے دور سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ مانا کہ خان صاحب کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں لیکن خان صاحب سرخرو ٹھہریں گے۔ کوئی بھی رکاوٹ ان کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ امید ہے خان صاحب ان تمام سوالوں کا جواب ایک ایک کرکے ضرور دیں گے۔ 

SHOPPING

Avatar
عبدالرؤف خٹک
میٹرک پاس ۔اصل کام لوگوں کی خدمت کرنا اور خدمت پر یقین رکھنا اصل مقصد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *