باپ پے پوت، پتا پے گھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نور درویش

نوّے کی دہائی میں پاکستان کا پہلا پرائیوٹ ٹی وی چینل شروع ہوا تھا شالیمار ٹیلی ویژن نیٹورک کے نام سے۔ دن بھر ٹیسٹ ٹرانشمشن اور سی این این ریلے ہوتا تھا اور شام سے پرائم ٹائم پروگرامز نشر ہوتے تھے۔ میری دلچسپی تو زیادہ تر نِت نئے کارٹون پراگرامز میں ہوا کرتی تھی لیکن اپنے والد صاحب کی نقل اور خود کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش میں اکثر سن پچاس اور ساٹھ میں بننے والی انگلش فلمیں بھی دیکھنے کی کوشش کیا کرتا تھا جو زیادہ تر ویک اینڈ پر رات گئے نشر ہوتی تھیں۔ مجھے یاد ہے جس دن والد صاحب کی پسند کی کوئی فلم نشر ہونا ہوتی تھی، اُس دن وہ شام سے ہی اُس فلم کی ہسٹری اور تفسصیل بتانا شروع کردیتے تھے۔ اِن میں سے کچھ فلمیں بار بار نشر ہوئیں اور شاید والد صاحب سے بھی زیادہ مجھے پسند آگئیں۔ والد صاحب سے ہمیشہ رعب اورڈر کا ملا جلا تعلق رہا ہے، اس لیے اپنی والدہ کا وسیلہ ڈھونڈا کرتا تھا اپنی بات منوانے کیلئے۔ لیکن حقیقیت یہ ہے کہ بچپن سے لیکر آج تک، جب میں خود باپ بن چکا ہوں، جب کبھی بھی کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہوں جسکی نسبت کسی نہ کسی صورت والد صاحب سے ہو تو بے اختیار دل چاہتا ہے کہ فورا اُنہیں فون کر کے اطلاع دوں کہ میں نے فلاں چیز دیکھی۔ بہت بار ایسا کرتا بھی ہوں، بس جھجھک کی وجہ سے یہ نہیں کہہ پاتا کہ دیکھ کر آپ کی بہت یاد آئی۔ شاید وہ خود ہی محسوس کر لیتے ہونگے۔

میرے والد ریلوے لوکو موٹیو ایکسپرٹ ہیں، اپنی ساری عمر پاکستان ریلویز کے بوڑھے انجنز کو دوڑانے میں لگا دی، یہاں تک کہ خود بوڑھے ہوگئے۔ ایک بار وہ کسی رشتے دار کو بتا رہے تھے کہ ڈیزل لوکو موٹیو کی کون سی سیریز اُنکے ہاتھوں سے تیار ہوکر نکلی ہے۔ مجھے وہ سیریز آج تک یاد ہے۔ اُس سیریز کا کوئی انجن اگر کہیں نظر آجائے تو اُس سے خاص اُنسیت محسوس ہوتی ہے، جیسے یہ میری ذاتی پراپرٹی ہے۔ بیس پچیس برس پہلے ہمارے علاقے کے کرکٹ کلب کے لڑکوں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ آپ سپن باولنگ کے حوالے سے کوئی بیٹنگ ٹپس دیں۔ والد صاحب بہترین لیگ بریک باولر اور رائٹ ہینڈ بیٹسمین رہے ہیں۔ کرکٹ میں نے بھی خوب کھیلی ہے، مختلف پلئیرز کو آئیڈیلائز کرکے کھیلا کرتا تھا لیکن لیگ بریک کو جب بھی کھیلا ویسے ہی کھیلا جیسے والد صاحب نے اُس کلب کے لڑکوں کو بتایا تھا۔ وہ ٹپس اب بھی یاد ہیں۔

والد صاحب کو والکس ویگن گاڑی بہت پسند ہے، ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی لیکر اُسے اپنے بچوں کی طرح تیار کروایا تھا۔ خود بہت کم چلاتے تھے، بس روز سٹارٹ ضرور کرتے تھے یہاں تک کہ وہ میرے ہاتھ لگ گئی اور پھر میرے ہاتھوں انجام کو بھی پہنچ گئی۔ آج سڑکوں پر کوئی زبردست فوکسی دیکھتا ہوں تو دل چاہتا ہے تصویر کھینچ کر اُنہیں دکھاوں۔ خیر، باتیں تو بہت ہیں۔ میں ذکر کر رہا تھا اُن چند فلموں کا جو شالیمار ٹیلی ویژن پر نشر ہوتی تھیں۔ اِنہیں میں سے ایک فلم تھی Bridge on the river kwai. اِس فلم میں ایک خاص whistle یا سیٹی بجائی گئی ہے جو قید ہونے والے فوجی بجاتے ہیں۔ یہ Whistle میرے لاشعور میں اس قدر جذب ہوچکی ہے کہ کبھی کبھی بس ایسے ہی یو ٹیوب پر سننا شروع کر دیتا ہوں۔ ظاہر ہے، سُن کر والد صاحب کی یاد آتی ہے۔ شاید Nostalgia کہتے ہیں ایسے احساسات کو۔

جب میں نے پہلی انٹرن شپ شروع کی اور پھر کچھ ماہ بعد تنخواہ ملنا شروع ہوئی تو ایک روز دوستوں کے ساتھ حفیظ سینٹر گیا اور وہاں سے اُن چند انگریزی فلموں کی سی ڈیز ڈھونڈ ڈھانڈ کر خرید کر لے گیا۔ پسند تو مجھے بھی بہت تھیں لیکن والد صاحب کو یہ دکھانا تھا کہ دیکھیں مجھے ابھی تک یاد ہے۔ سی ڈیز دیکھ کر والد صاحب نے حیران ہوکر پہلا سوال بھی یہی پوچھا کہ تمہیں یہ سب یاد ہیں؟ اُنہیں کیسے بتاتا کہ مجھے کیا کیا یاد ہے۔

جو دوست اپنے والد سے بہت بے تکلف ہیں، شاید انہیں یہ سب عجیب محسوس ہو لیکن میرا تعلق کچھ اسی طرح کا رہا۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *