کیفیت ساری انتظاری ہے۔۔۔۔۔۔اسما مغل

مجھے نہیں معلوم کہ تمہیں انتظار کی کیفیت میں دل پر گزرنے والی واردات کا کچھ ادراک ہے یا نہیں۔۔۔لیکن یہ ضرور جانتی ہوں کہ میں اس کیفیت کی سختی سے دن رات میں بیسیوں بار نبردآزما ہوتی ہوں۔۔
صبح دم آنکھیں تمہاری دید کے نظارے سے محروم رہتی ہیں ،تو اُس پل تمہاری تصویر ہی نظر کی پیاس بجھانے میں اُس چڑیا کا کردار ادا کرتی ہے ،جو نارِ نمرود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک قطرہ اپنی چونچ میں لیے افتاں و خیزاں اس مقام پر پہنچی تھی۔

جب جب میرا فون کسی پیغام کی آمد پر مخصوص دُھن بجاتا ہے۔۔۔لیکن سکرین پر تمہاری بجائے کسی اور کا نام ابھرتا دیکھ کر دل ڈوب سا جاتا ہے۔

جب جب کوئی مجھے پکارتا ہے،تو کِس شدت سے تمہاری آواز میری سِمت آتی ہے۔۔اس راز سے بس میری سماعت ہی واقف ہے۔۔

تہجد سمے ،جب تمہارا خیال میرے سینے پر آبشار کی مانند بہتا اَن دیکھی گہرائیوں کی جانب محوِ سفر ہوتا ہے۔۔اُن لمحوں میں تمہاری انگلیوں کی پوروں کے لَمس کی حدت میرے وجود کی بھول بھلیوں میں کیسے رستہ تلاشتی، بھٹکتی ہوئی میری کمر کے زیریں حصے پر نقش سیاہ تِل پر ٹھہر کر دنیا کے ہر سُکھ کو الوداع کہہ دیتی ہے۔۔۔اُس پَل وقت بھی اپنی گردش بھول کر ہمیں حیرت و حسرت سےتَکتا کتنا بے بس سا وہیں میری کلائی سے لِپٹا کھڑا رہ جاتا ہے۔۔ ۔

تمہیں معلوم ہی کہاں ہے ۔۔کہ تم زندگی کا وہ قیمتی اثاثہ ہو جو میرے دل میں ہے،مگر۔۔۔میسر ہے ،نہ حاصل ۔۔۔میں تو وہ باغیچہ ہوں جو ہریالی کی خوشحالی سے قطعی نابلد ہے ۔۔اِک ایسا صحرا ہوں،جس کی سُلگن شام کے وقت بھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔۔
خاک اُڑتی ہے ۔۔۔میرے سخی کے پاس نہ مجھے سوچنے کا وقت،نہ دیکھنے کی خواہش،نہ چھونے کی طلب،نہ پانے کی حسرت،نہ کھونے کا غم۔۔۔یہ روگ تو میری جھولی کو عطا کیے گئے ہیں۔

تمہیں یاد ہے جب برگد کے پَیڑ تَلے سنگی بینچ پر بیٹھے ہوئے،میں نے تم سے ایک نظم سنانے کا کہا تو تم اس فرمائش کو نظر انداز کرتے ہوئے،مخالف سمت دیکھنے لگے تھے۔۔۔۔میں نے تمہارا چشمہ اتار کر اپنے کُرتے کے دامن سے صاف کرتے ہوئے تمہیں واپس تھمانے سے پہلے ،تمہاری پیشانی پر جو بوسہ ثبت کیا تھا۔۔۔۔آئینے میں دیکھنا تو ذرا کہ اُس کا نشاں ابھی مدھم تو نہیں پڑا؟
تمہیں دعوت ہے۔۔۔۔آؤ اور شہرِ دل میں قیام کرو.
میری ذات کے گلی کوچوں میں صبحیں تمہاری منتظر ہیں۔۔اور مجھ میں آباد شہر کی شامیں تمہیں میرے سنگ دیکھنے کو آسماں کے گلابی پن میں ٹھہری ہوئی ہیں۔۔۔۔۔آؤ کہ یہ مسکن مکیں کو پکارتا ہے!

تمہاری تصویریں جمع کرنے کا شوق اتنا ہی قدیم ہے جتنی میری تم سے محبت۔۔۔
میں تمہاری تصویریں اس لیے جمع نہیں کررہی کہ گر کبھی تم سے بچھڑ گئی تو جدائی کی تنہا سرد شاموں میں ان سے کوئی الاؤ روشن کروں گی۔
نہ ہی اس لیے کہ،تم روبرو نہیں تو کیا ہوا ،تمہاری تصویریں ہی اس دل کو پری خانہ بنانے کو کافی ہیں۔
اور اس لیے بھی نہیں کہ،امید و نااُمیدی کے دشت میں یہ میرے لیے دوسراہٹ کا واحد ذریعہ ہیں۔۔۔۔اور اس لیے تو بالکل ہی نہیں کہ کسی دربار کے احاطے میں عرصہ ء دراز سے ٹمٹماتے دیے کی لوء میں لَم یزل کے حضور دستِ دعا بلند کیے،ان تصویروں میں تمہارے عکس کو دیکھتے ہوئے وصلِ یار کی طلب میں فریاد کناں ہوں گی۔۔

جب جب تمہیں دیکھتی ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے۔۔مجھے یاد آتا ہے کہ مجھے جینا بھی ہے۔۔۔کہیں پڑھا تھا کہ جب ہم مَر نہیں پاتے تو ہمارے پاس آخری آپشن جینا ہی بچتا ہے۔۔
سو ،میں تمہیں دیکھ کر جیتی ہوں۔۔۔

ان پندرہ تصویروں میں تمہارا ہر رنگ انوکھا ہے۔اور جو چیز سب میں مشترک ہے۔۔وہ ہے تمہاری ہنسی۔۔کسی شگوفے کی مانند آنکھوں سے پُھوٹ کر،غنچے کی طرح لبوں پر چٹختی ہنسی۔
مجھے معلوم ہے مجمعے کے آداب بھی لیکن جب تم دکھائی دیتے ہو تو پھر کچھ اور دیکھ نہیں پاتی ہوں۔۔
کتاب پر نظریں جمائے ،لفظوں کو دلپذیر مفہوم کا پیراہن اوڑھاتے ہوئے ،تم جب بھی ذرا کی ذرا نگاہ اٹھاتے ہو تو خود کو میری نظروں کے حصار میں پاتے ہو نا۔۔
تم رنگریز ہو کوئی۔۔۔جس نے میری پوری ذات کو اودے،نیلے پیلے،سُرمئی،اور بنفشی رنگوں سے مزیّن کردیا ہے۔۔۔۔

میرے اور تمہارے بیچ تعلق کا پہلا ذریعہ کتاب تھی۔۔۔
پھر لفظ
آواز
لہجہ۔۔۔
اکتوبر کی ایک سرد شام تو میں نے تمہیں مکمل ہی پڑھ ڈالا تھا۔۔۔اور اُس گھڑی کھڑکی سے باہر برستی بارش مجھے ذرا بھی متوجہ نہیں کرپائی تھی،کیونکہ میں تو تمہاری مسیحائی کی پھوار میں شرابُور تھی۔۔۔

رات کا دوسرا پہر تیزی سے سِرکتا اُن پُرہجوم سناٹوں کو بھی اپنے ہمراہ لے گیا ہے جو کچھ دیر پہلے تمہارا نام لَے لَے کر مجھ سے محوِ گفتگو تھے۔۔۔۔
لیکن اب تم سامنے ہو۔۔۔تیسرا پہر تمہارے دَم سے ہی آباد ہوتا ہے۔۔۔۔
میرے بائیں جانب بیٹھے۔۔تم نے آتے ہی سب سے پہلے میرے کاندھے کا تِل دیکھنے کی فرمائش کی ہے۔۔اس وضاحت کے ساتھ کہ مجھے لگتا ہے جب تم اداس ہوتی ہو تو یہ سیاہ روشن تِل بھی ماند پڑ جاتا ہوگا۔۔سو دیکھنا چاہتا ہوں،اس وقت مجھے دیکھ کر یہ کِھل اُٹھا ہے یا نہیں۔۔

تمہاری بات ٹالنا میرے اختیار سے باہر ہے،سو حکم کی تعمیل میں لمحہ بھی ضائع نہ ہُوا۔۔۔۔اُس روشنی نے تمہاری آنکھوں کی جگمگاہٹ میں کئی گنا اضافہ کردیا۔۔۔مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔
میری ہتھیلی پر تمہاری ہتھیلی کا گرما دینے والا احساس جیسے جذب سا ہوگیا۔
سنو جلدی ۔۔۔۔میں نے ہتھیلی تمہارے کان پر رکھ دی۔۔۔۔۔
دل تمہارے کان کے قریب ایکدم پھیل کر سُکڑ سا گیا۔۔
دھک دھک کی گونج سماعت سے ہوتی ہوئی تمہارے پورے وجود پر چھا گئی۔۔۔

کتنی عجیب ہو تم۔۔۔۔۔دل ہاتھ میں لیے بیٹھی ہو

ہاتھ نہیں،ہتھیلی پر۔۔۔۔تمہارے لیے!

میری آنکھوں سے جھانکتی شرارت تم سے چُھپی نہیں رہی تھی!

تم نے اپنا چشمہ اُتارا۔۔۔اور کھڑکی میں جا کھڑے ہوئے۔۔۔۔

بارش یوں برس رہی تھی جیسے پہلی بار دھرتی کے گلے لگ رہی ہو۔۔۔یہ ملن ہزار بار کا دیکھا ہوا ہے۔۔لیکن ہر بار انوکھا لگتا ہے
میں یونہی تم میں جذب ہوجانا چاہتی ہوں۔۔۔
تمہارے ساتھ گزرے ہر لمحے میں کئی کئی زندگیاں جی ہیں میں نے۔۔۔۔لیکن پھر بھی۔۔۔۔۔
کہیں بلند جگہ پر بیٹھ کر آسمان کے بدلتے رنگوں کو دیکھنا چاہتی ہوں
کسی جھیل میں کشتی میں بیٹھ کر راز و نیاز کرنا چاہتی ہوں
تمہاری اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ کر دعا مانگنی چاہتی ہوں،
کسی صحرامیں شام کے بعد ٹھنڈی چاندنی میں نہانا چاہتی ہوں،
ساحل کی گیلی ریت پر تمہارے پاؤں کے نشان پر اپنے پاؤں رکھتے ہوئے تمہارے اور میرے کسی مشترکہ خواب کا تعاقب کرنا چاہتی ہوں،
ریل گاڑی میں بیٹھے،کھڑکی میں تیزی سے دوڑتے منظروں کو روک کر تم سے متعارف کروانا چاہتی ہوں،
تمہارے ہی سنگ کسی قدیم شہر کی سیر کرتے ہوئے جدید لوگوں سے ملنا چاہتی ہوں،
کسی کیفے میں بیٹھ کر تمہارے کپ سے کافی پیتے ہوئے  گلزار کے کسی افسانے کا   اقتباس سننا چاہتی ہوں،
تمہارے کاندھے پر سر رکھے انجانی منزل کی جانب محوِ سفر تم سے اپنے موسم بانٹنا چاہتی ہوں،
کسی دربار پر جاکر مَنتوں کے دھاگے باندھتے لوگوں سے ذرا پَرے بیٹھ کر تمہارے ہی سامنے خدا سے تمہیں مانگنا چاہتی ہوں،
اور چاہتی ہوں کہ تمہارے ساتھ کسی بات پر اتنا ہنسوں کہ رو پڑوں۔۔۔۔!

اگلی بار آؤ تو صدیوں کی عمر ساتھ لانا ،کہ مجھے تمہارے ساتھ مختصر نہیں جینا!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *