بی ایل اے کا بلوچستان میں پہلا خودکش حملہ۔۔۔رانا فرید

کل دالبدین میں بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے پہلا خود کش حملہ کیا گیا اور حملہ کرنے والا کوئی غیر ملکی نہیں بلکہ ایک قوم پرست کمانڈر کا بیٹا تھا. یہ بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے جسے اگر جلد از جلد حل کی طرف نہ لایا گیاتو مستقبل میں ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں. کیونکہ اس سے قبل مذہبی شدّت پسندوں کی جانب سے ہی خودکش حملے سامنے آتے تھے. حملہ آور ریحان بلوچ نے خود کش دھماکے سے قبل ایک وڈیو پیغام بھی رکارڈ کروایا جس میں چائنہ کو بلوچستان سے نکل جانے کو کہا گیا. یہ حملہ چینی انجینئرز کی بس پر کیا گیا تھا جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے.

بی ایل اے کی طرف سے یہ پہلا خودکش حملہ ہے جو کہ غیر ملکی عناصر کے  آلہ کار بنے ہوئے ہیں. مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی کو مار کر پرویز مشرف نے بلوچوں کے ساتھ امن کی سب کوششیں ختم کر دی تھیں. اس کے بعد بلوچوں کے ساتھ بھارت کے تعلقات کھل کر سامنے آئے. اگر ہم اپنے ملک کے لوگوں کو سننے کے لیے تیار نہ  ہوں، تب غیر ملکی ہاتھوں کا شامل ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں.

کہا جاتا ہے کہ ہماری فوج دنیا کی  بہترین فوج ہے لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں کہ فوج کو صرف لڑائی کی ٹریننگ دی جاتی ہے، سول انتظامی معاملات چلانے کی ٹریننگ نہیں دی جاتی. سول انتظامات سول انتظامیہ کا ہی کام ہوتا ہے.

یہ سیاسی معاملات ہیں جن میں ایک طویل خلا پیدا ہو چکا ہے. جو کہ بلوچ  رہنماؤں کے ساتھ بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے نا کہ آپریشنز سے.بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کے قریباً 48 فیصد رقبے پر محیط ہے. ہمیں ان کے ساتھ بات کرنی ہو گی کیونکہ نفرت کا جو بیج بلوچوں میں بویا گیا تھا وہ اب اگلی نسل میں ٹرانسفر ہو چکا ہے.ماضی میں ہوئے بہت سے غلط فیصلوں کی وجہ سے آج بلوچستان میں اکثر نوجوان نسل پاکستانی فوج اور پنجابیوں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے. ایسی ہی نفرت بنگلہ دیش میں بھڑکی تھی جس کا نتیجہ 1971 میں علیحدگی کی صورت میں سامنے آیا

ہماری درخواست ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو جلد سے جلد ایمانداری سے حل کیا جائے کیونکہ اب پاکستان اپنے کسی بھی صوبے یا حصے کو الگ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا. بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے یہ بات دشمن کے منہ میں رال ٹپکانے کے لیے کافی ہے.

دشمن کی چالوں کو سمجھتے ہوئے اپنے بلوچ بھائیوں کو گلے لگائیے، اور اس مسئلے کا سیاسی حل نکالیے تاکہ بھارت جیسے کسی بھی دُشمن ملک کو فائدہ اُٹھانے کا موقع نا ملے.

اے کاش کہ بلوچستان، پنجاب سے بھی زیادہ ترقی پائے اور زیادہ پُر امن ہو آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *