آگ ۔ پریسٹلے (43)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING
SHOPPING

ہوا کی کیمیائی سٹڈی خاص طور پر معنی رکھتی ہے۔ ہوا سب کو زندگی دیتی ہے لیکن بوائل سے پہلے اس نے کسی کی سٹڈی کے لئے توجہ حاصل نہیں کی۔ گیس کو سٹڈی کرنا مشکل ہے اور مناسب ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے اور یہ اٹھارہویں صدی کے آخری حصے میں جا کر ممکن ہوا جب لیبارٹری کے نئے آلات آئے، جن سے کیمیائی ری ایکشن کے بعد گیس اکٹھا کرنا ممکن ہوا۔

بدقسمتی سے نہ نظر آنے والی گیسیں اکثر کیمیکل ری ایکشن میں جذب ہوتی ہیں یا خارج ہوتی ہیں، اس لئے کیمسٹ اہم کیمیائی پراسسز کے بارے میں نامکمل یا غلط نتائج نکالتے رہے تھے، خاص طور پر جلنے کے عمل پر۔ کیمسٹری کو آگے بڑھنے کے لئے اس کا بدلنا ضروری تھا۔ آگ کا سمجھا جانا ضروری تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اٹھارہویں صدی کا برمنگھم سیاسی اور مذہبی فرقہ وارایت کی کشیدگی کا گڑھ تھا۔ یہاں پر ایک مشتعل ہجوم نے 14 جولائی 1791 کو ایک گھر کو لوٹ کر اسے نذرِ آتش کر دیا۔ مجمع کو گھر کے مکین کے سیاسی خیالات سے اختلاف تھا۔ گھر والے بمشکل بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور دور سے گھر کو آگ میں بھسم ہوتے دیکھ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہاں رہنے والے کی لائبریری، لیبارٹری اور مسودے بھی جل کر راکھ ہو گئے۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ تھی کہ آگ کے شعلوں میں لپٹا یہ گھر اس سائنسدان کا تھا جس نے آگ کا اسرار کھولا تھا۔ ان فسادات کے بعد جوزف پریسٹلے کو اپنا وطن برطانیہ چھوڑ کر بھاگ کر امریکہ جانا پڑا تھا۔

بوائل سے ایک صدی کے بعد پریسٹلے نے آکسیجن دریافت کی تھی۔ وہ گیس جو آگ کے لئے ضروری تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریسٹلے نے اپنا کیرئیر چرچ منسٹر کے طور پر شروع کیا تھا اور ایک غیرروایتی یونیٹیرین اکیڈمی سے وابستہ تھے جو چرچ آف انگلینڈ سے اختلاف رکھتا تھا۔ ان کی تحقیق کے ٹاپک انہیں تجرباتی سائنس کی طرف لے گئے۔

بوائل اور پریسٹلے کی زندگی اور پس منظر میں فرق ان کے زمانے کے فرق کا عکاس تھا۔ یورپی روشن خیالی کا دور 1685 سے 1815 کا کہا جاتا ہے۔ یہ سائنس اور معاشرے کی بڑی تبدیلیوں کا وقت تھا اور پریسٹلے کا دور اس کے عروج کا وقت ہے۔ کانٹ کے فقرے “جاننے کی جرات” کو اس دور کا موٹو کہا جاتا ہے۔

بوائل اور نیوٹن کے دور میں سائنس چند ایلیٹ مفکرین کا کام تھا۔ اٹھارہویں صدی میں صنعتی دور کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے مڈل کلاس ابھرنا شروع ہوئی اور ارسٹوکریسی زوال پذیر ہوئی۔ اس صدی کے دوسرے نصف تک سائنس پڑھے لکھے اور وسیع طبقے تک پہنچ چکی تھی۔ اس میں مڈل کلاس کے وہ لوگ بھی تھے جو سائنس کو اپنی ترقی کا ذریعہ دیکھتے تھے۔ اس تبدیلی سے کیمسٹری نے خاص فائدہ اٹھایا۔ پریسٹلے جیسے لوگ اس کا حصہ تھے۔

پریسٹلے نے 1767 میں برقیات پر کتاب لکھی تھی۔ اسی سال انہوں نے فزکس چھوڑ کر کیمسٹری کی طرف رخ کیا۔ اس کی وجہ کوئی گہری نہیں تھی، اتفاقیہ تھی۔ انہوں نے گھر تبدیل کیا تو ساتھ فیکٹری میں خمیرہ ہوتے مشروب کی بو نے ان کا تجسس کھینچ لیا۔ انہوں نے مشروب کے پیپوں سے نکلتی بہت سی گیس اکٹھی کی اور اس پر تجربے کرنے لگے۔ انہوں نے معلوم کیا کہ اگر اگر جلتی لکڑی کا برادہ اس گیس کے مرتبان میں رکھا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ اگر اس مرتبان میں چوہا رکھا جائے تو وہ مر جاتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اگر اس کو پانی میں حل کیا جائے تو بلبلوں والی مائع بن جاتی ہے جس کا ذائقہ مزیدار ہوتا ہے۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ یہ گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ (انہوں نے کاربونیٹڈ مشروب بنا لیا تھا لیکن چونکہ امیر نہ تھے تو فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ کام اس سے چند سال بعد جیکب شویپ نے کیا جن کی سوڈا کمپنی آج بھی بزنس میں ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی ابتدائی سٹیج پر صنعتی انقلاب کا دارومدار ہنرمند موجدین کی ایجادات پر رہا تھا نہ کہ سائنسی اصولوں کی دریافت پر۔ اس سے اگلی صدی کی سائنس کا عملی استعمال کم رہا تھا۔لیکن اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ بدلنا شروع ہو گیا۔ سائنس کی دریافتیں عام آدمی کی روزمرہ زندگی بدل رہی تھیں۔ سائنس اور انڈسٹری کے اشتراک میں سٹیم انجن تھا، پانی کے بہاوٗ کو استعمال کر کے لی جانے والی طاقت کے ذریعے چلائی جانے والی فیکٹریاں تھیں۔ مشینی اوزار تھے اور پھر بعد میں ریل روڈ، ٹیلی گراف، ٹیلی فون، بجلی اور برقی بلب کی ایجادات تھیں۔

امیر لوگوں میں سائنس کو سپورٹ کرنے کا رجحان آ رہا تھا۔ اس کو مینوفیکچرنگ کا فن بہتر بنانے کے طریقے کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ ایسے ایک امیر شخص شیلبرن کے ارل ولیم پیٹی تھے۔ انہوں نے پریسٹلے کو 1773 میں اپنے بچوں کا استاد بھی رکھ لیا، لائبریرین کی پوزیشن بھی دے دی اور ایک عدد لیبارٹری بھی بنا دی تا کہ وہ فارغ وقت میں ریسرچ کر سکیں۔

پریسٹلے ہوشیار اور تفصیل میں تجربہ کرنے والے تھے۔ اپنی نئی لیبارٹری میں انہوں نے کالیکس پر تجربے کئے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ مرکری کا آکسائیڈ ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ کالیکس زنگ آلود پارہ ہے۔ اس وقت کے کیمسٹ جانتے تھے کہ جب پارے کو گرم کریں تو پارہ ہوا سے کچھ جذب کرتا ہے لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ کیا جذب کرتا ہے۔ اور یہ بھی دلچسپ چیز تھی کہ جب کالیکس کو مزید گرم کیا جائے تو یہ واپس مرکری بن جاتا ہے۔ اندازہ تھا کہ جو اس نے جذب کیا ہے، اسے نکال دیتا ہے۔

پریسٹلے کو معلوم ہوا کہ کالیکس سے نکلنے والی گیس کی بڑی قابلِ توجہ خاصیتیں ہیں۔ “اس ہوا کی بڑی اعلیٰ خاصیت ہے۔ اس میں موم بتی جلائی جائے تو بہت تیز شعلے سے جلتی ہے۔ اس کا ثبوت مکمل کرنے کے لئے کہ یہ اعلیٰ گیس ہے، میں نے اس سے بھرے برتن میں چوہے کو رکھا۔ چوہا پندرہ منٹ بعد مر جایا کرتا تھا۔ اب ایک گھٹے تک زندہ رہا”۔ انہوں نے اس اعلیٰ گیس کو سونگھا تو کہا کہ یہ ہوا ہی لگتی ہے لیکن اس کا سانس لے کر کچھ دیر ہلکا محسوس کرتے ہیں۔

پریسٹلے نے اس گیس کو گاڑھے اور جمے ہوئے خون کے ساتھ ملایا تو یہ خون چمکدار سرخ ہو گیا۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا یہ اگر گاڑھا خون اور جاندار سیل بند برتن میں اس ہوا کی موجودگی میں رکھے جائیں تو خون چمکدار سرخ ہو جاتا ہے اور جاندار جلد مر جاتا ہے۔ پریسٹلے نے اس مشاہدے سے نتیجہ نکالا کہ ہمارے پھیپھڑے اس ہوا سے تعامل کرکے خون کو دوبارہ چاق و چوبند کر دیتے ہیں۔ انہوں نے پالک اور پودینے کے پودوں کے ساتھ تجربہ کیا اور دریافت کر لیا کہ جب یہ موجود ہوں تو ان کی وجہ سے ہوا کی جلانے کی اور تنفس کی صلاحیت واپس آ جاتی ہے۔ یعنی کہ پریسٹلے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس عمل کے اثرات معلوم کئے تھے جس کو ہم آج فوٹوسنتھیسز کہتے ہیں۔ انہوں نے معلوم کیا کہ پودے اس گیس کو خارج کرتے ہیں۔

پریسٹلے نے آکسیجن کے اثرات کے بارے میں بہت کچھ دریافت کیا اور آکسیجن کو دریافت کرنے کا سہرا انہیں کے سر باندھا جاتا ہے لیکن وہ اس گیس کی جلنے کے عمل میں اہمیت نہ سمجھ سکے۔ اس کے بجائے، وہ اس وقت کی ایک پاپولر تھیوری کے قائل تھے جس کے مطابق اشیا اس لئے جلتی ہیں کہ وہ ایک شے فلوگسٹون خارج کرتی ہیں۔

پریسٹلے نے بہت ہی مفید انفارمیشن دینے والے تجربات کئے تھے لیکن وہ یہ جاننے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے کہ ان کا مطلب کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور یہاں پر سائنس کے حوالے سے ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ پریسٹلے کی سائنس تجرباتی سائنس تھی۔ جبکہ “کیوں” کے سوالات جواب نظریاتی سائنس سے آتے ہیں۔ اور یہ وہ علاقہ ہے جو گرما گرمی کا باعث بنتا ہے، لیکن یہی سائنس کا اصل علاقہ ہے۔ مثلاً، اگر گلیلیو بتا دیتے کہ انہوں نے چاند ستاروں کے نمودار ہونے کی کیلکولیشن کا بہت بہتر فارمولا تلاش کر لیا ہے تو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن ان کے مشاہدات کی تعبیر یہ نکلتی تھی کہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہیں اور یہ وہ سچ تھا جو ان کے عہد کے کچھ لوگوں کے لئے ہضم کرنا آسان نہیں رہا تھا اور اس کی قبولیت میں وقت لگا تھا۔ مشاہدات نہیں، بلکہ مشاہدات کی تعبیر انسانی فکری ترقی ہے۔

یہ مسئلہ اس وقت کوانٹم مکینکس کو درپیش ہے۔ اور یہ سائنس کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر جاندار مباحث ہوتے رہتے ہیں۔ ہم انتہائی پریسائز طریقے کوانٹم مکینکس کے مظاہر کو کیلکولیٹ کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں “خاموش رہ کر کیلکولیٹ کرو” عملی ٹیکنالوجی کے لئے بہت کامیاب طریقہ رہا ہے (اور کئی تجرباتی فزسٹ ایسے ہیں جو اسی تک ہی محدود رہنا چاہتے ہیں)۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میڈیسن یا انجینیرنگ تو ایسے ہو سکتی ہے، سائنس نہیں۔ سائنس کی طاقت تجرباتی نتائج کی تعبیر ہے۔ جبکہ دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ اس کی کئی تعبیریں ہیں جو ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔ ہر تعبیر رئیلیٹی کی بالکل ہی الگ تصویر دکھاتی ہے۔ لیکن تمام تعبیریں بالکل ایک ہی نتائج دیتی ہیں۔ کونسی تعبیر درست ہے؟ معلوم نہیں لیکن تجرباتی اور نظریاتی سائنس کے یہ مباحث سائنس کے فلسفے کے دلچسپ مباحث ہیں۔

البتہ پریسٹلے کو اتنا انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ایک نابغہ روزگار سائنسدان نے یہ معلوم کر لیا ان کے تجربات کے معنی کیا ہیں۔ پریسٹلے کے خود اپنے ہی کئے گئے تجربات یہ بتا رہے تھے کہ پریسٹلے کی جلنے کے عمل کے بارے میں جو تعبیر تھی، وہ درست نہیں تھی۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *