بخشو! یو “ڈیم” فول۔۔۔۔علی اختر

میرے قارئین یہ جانتے ہیں کے میری سوچ بہت ہی چھوٹی اور تجربہ محدود ہے سو میری کہانیوں کے کردار بھی تقریبا ً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آج کی کہانی میں ہم یہ جانیں گے کے کس طرح نظریوں کا اختلاف اور سوچ کا فرق معاشروں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ کہانی بھی ایک چھوٹے سے دور دراز گاؤں کی ہے جہاں ہماری کہانی کا مرکزی کردار “بخشو” ہمیشہ کی طرح ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ ویسے تو غریب لوگ اولاد کے معاملہ میں کافی امیر واقع ہوتے ہیں لیکن بخشو کے معاملہ میں صورت حال قدرے الگ تھی۔ پیدا ہونے کے اگلے سال ہی بخشو کی ماں ٹی بی کے ہاتھوں چل بسی اور باپ جسکا کام چوہدری صاحب کے کھیتوں سے سبزی لیجا کر شہر میں سپلائی  تھا اپنی بیل گاڑی پر بخشو کوبھی ساتھ لیجانے لگا ۔

یہاں یہ بتاتا چلوں کہ  بخشو کا تعلق گاؤں کی “کمی کمین”قوم سے تھا۔ جنکا کام کھیتوں کو اپنے پسینے سے آباد کرنا، مویشی سنبھالنا اور مل مزدوری وغیرہ تھا۔ گاؤں میں پڑہنے لکھنے کی سہولت میسر نہ تھی تو وہ سب جو اپنے بزرگوں سے سنتے اسی کو سچائی  سمجھ کر سینہ بہ سینہ آگے بڑھا دیتے تھے ۔ اب چونکہ بزرگ بھی سب کے ایک اور ان کے اقوال بھی ایک جیسے سو اس قوم کی سوچ میں کوئی  تغیر نہ آتا اور یکسانیت بر قرار رہتی ۔ اب جبکہ سوچ و فکر یکساں ہو تو اختلاف کی کوئی  صورت کہاں رہتی ہے سو سب باہم شیر و شکر ، رند خراب حال کی مانند مست لائف گزار رہے تھے۔

ویسے اس گاؤں میں سب ہی غریب نہ تھے۔ ایک چوہدری صاحب اور انکا وسیع وعریض خاندان بھی وہیں آباد تھا جو اس چھوٹے سے گاؤں کے بڑے سے حکمران تھے۔ اور وہ سب کھیت، کھلیان، مال مویشی، شوگر ملیں وغیرہ جنکی خدمت بخشو کی قوم کرتی انہی کی ملکیت تھے۔

لوگوں میں عام طور پر مشہور ہے امیر ، غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اور ایک مغالطہ یہ بھی ہے کے دولت کے ہر انبار کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے لیکن چوہدری صاحب کی انسان دوستی درج بالا نظریات کو غلط ثابت کرتی تھی۔ وہ نہایت عادل اور نیک حکمران واقع ہوتے تھے۔ مثلاً انہوں نے بخشو کی قوم کو استحصال سے بچانے کے لیئے کم سے کم تنخواہ پندرہ ہزار مقرر کی ہوئی تھی۔

اسکے علاوہ اپنے ایک چچا “بابا رحمتے” کو انہوں نے محض لوگوں کو عدل فراہم کرنے پرمعمور کیا ہوا تھا۔ بابا بھی اپنا فرض دل وجان سے پورا کرتا لیکن کیا کیا جائے کے وہ تھا اکیلا اور مقدمات بے شمار تو ہر وقت بہت سے مقدمات اسکی پنچایت میں زیر التوا رہاکرتے۔ وقت کی کمی اور ثبوتوں کی عدم دستیابی پر وہ اکثر اگلی تاریخ دے دیا کرتا تھا۔

اسکے علاوہ چوہدری صاحب نے گاؤں کے مکینوں کی حفاظت کے لیئے اپنے ایک کزن “بشیرے” کی سربراہی میں مستعد نو جوانوں کی ایک ڈنڈا بردار فورس بھی تشکیل دی تھی ۔ جسکا کام گاؤں کی دشمنوں سے حفاظت تھا۔ یا عام فہم زبان میں وہ گاؤں کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ تھے۔ انکی دیانت داری اور گاؤں والوں کی حفاظت کے خبط کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  جب کبھی چوہدری صاحب یاانکے خاندان کائی  کو فرد اپنی “پراڈو” یا لینڈ کروزر میں سوار گاؤں کی کچی سڑک سے گزرتا تو “بشیرے” اور اس کے آدمی اس نیت سے راستے سیل کر دیتے کہ  کوئی  بے دھیانی میں گاڑی کے نیچے نہ  آجائے۔ گو کہ  گاؤں والوں کو روز اس بات کی وجہ سے کئی  کئی  گھنٹے  راستوں میں کھڑا ہونا پڑتا لیکن انہیں یہ اطمینان ہوتا کہ  یہ سب انہی کے بھلے کے لیے  ہے۔

ایک اور نہایت غلط مفروضہ جو   موجودہ زمانے میں قائم ہے اور وہ یہ کہ   تعلیم اچھے معاشرہ کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ اور اس مفروضے کی بنیاد پر مہذب معاشرہ میں اسکول، کالج وغیرہ لازمی تعمیر کیے  جاتے ہیں ۔ چوہدری صاحب بھی تعلیم کی اہمیت جانتے تھے اور اسی مقصد کے تحت اپنے بچوں کو بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیئے بھیجتے تھے ۔ لیکن ساتھ ہی وہ تعلیم کے جملہ مضر اثرات سے بھی آگاہ تھے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ  اپنی اولاد کو تو آدمی سمجھا سکتا ہے لیکن ہر کسی کو تعلیم دینے کی صورت میں اختلاف رائے کا عام ہو جانا لازمی تھا۔ سو انہوں نے گاؤں میں اسکول وغیرہ کبھی نہ بننے دیا۔ انکا یہ بھی کام بھی انکے دور اندیش اور عقلمند حکمران ہونے کو ثابت کرتا ہے۔

تو واپس آتے ہیں اپنے مرکزی کردار بخشو کی جانب جو چھوٹی عمر سے ہی روز شہر کا چکر لگاتا اور وہاں کی چہل پہل اور رنگینی کا عادی ہو چلا تھا۔ اصلی غضب تو تب ہوا جب اسکے باپ نے اپنے ایک شہری دوست کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے بخشو کو چوری چھپے ایک اسکول میں داخل کرا دیا اور بخشو چوری چھپے میٹرک بھی پاس کر گیا۔
بخشو کا غریب باپ اپنے بیٹے کی کامیابی پر بے انتہا خوش تھا پر اس کو یہ نہیں پتا تھا کہ  سوچ اور نظریہ کا وہ اختلاف جو اسکول سے بخشو کے دماغ میں منتقل ہو گیا تھا آگے جا کر کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ بخشو بظاہر سیدھا سادھا نو جوان دکھتا تھا جو گاؤں کے باقی لوگوں کی مانند سادی سی زندگی گزار رہا تھا لیکن درحقیقت اسکا دماغ سانپ سے بھی زیادہ موذی زہر سے بھرا ہوا تھا۔ یہ زہر آخر کب تک چھپتا آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگوں سامنے بخشو نے اپنا اصلی رنگ دکھانا شروع کر دیا۔

پہلے پہل تو چھوٹے موٹے واقعات ہوئے جیسے ایک دن راہ چلتے اسکو “ماسی خیرن” نے آواز دی ۔

“او بخشو! پتر  ذرا اے مٹکا تہ رکھوا دے میرے سر اتے”

بخشو نے خاموشی سے مٹکا اسکے سر پر رکھا اور اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگا دونوں  باتیں کرتے چلے جا رہے تھے کے اچانک بخشو نے سوال کیا ۔

“ماسی تو کتنے سال سے چوہدری صاحب کے گھر کام کر رہی ہے”

“میں پچھلے تیس سالاں سے چوہدری صاحب دی مجاں دا دودھ دوندیاں”
ماسی نے فخر سے جواب دیا۔

بخشو کچھ دیر خاموش رہ کر بولا ۔

“ماسی جانوروں کی دیکھ ریکھ تو کرتی ہے ، دودھ تو نکالتی ہے چوہدری صاحب وہ دودھ خود بھی پیتے ہیں اپنے بچوں کو بھی پلاتے ہیں اور جو بچ جائے اپنے کتوں کے آگے ڈلوا دیتے ہیں پر تیرے بھوکے بچوں کو کچھ نہیں دیتے اسکی کیا وجہ ہے۔”

اب ماسی کیا جواب دیتی ۔ کچھ دیر خالی نگاہوں سے دیکھ کر بولی۔
” پتر او دیندے تے نیں  مینو پورے پندرہ ہزار”

بخشو مسکرایا
“صرف پندرہ ہزار”

” میرے لیے او ہی کافی نیں  ۔ چل میرا گھر آگیا”

یہ کہہ  کر ماسی  اپنی  جھونپڑی میں چلی گئی ۔

پھر کچھ دن بعد بخشو مل مزدوروں کو  لیکچر دیتے دیکھا گیا۔
“میرے بھائیو ان ملوں میں پسینہ تم بہاتے ہو اور مال صرف تمہارا مالک کماتا ہے ۔ اپنے حق کے لیئے آگے بڑہو۔ ”

“بخشو ! مال تو سانو بھی ملدا اے اور کدی کدی بونس وی”
ایک مزدور نے لقمہ دیا۔

بخشو کچھ دیر رکا پھر کچھ سوچ کر بولا۔
“کتنا بونس ملا تمہیں”

“پنج ہزار ملیا پورا”
مزدور فخر سے بولا۔

بخشو نے ایک گہرا سانس لیا ۔
“تمہیں پتا ہے تمہارا مالک تمہیں پانچ ہزار دے کے خود پانچ کروڑ کما گیا ہے”

یہ کہہ بخشو تو چلا گیا لیکن مزدور بیچارے آپس میں کی دن پانچ کروڑ میں کتنے صفر ہوتے ہیں ڈسکس کرتے رہے۔

یوسفی مرحوم کہتے تھے ۔ “انسان وہ واحد جاندار ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔” بلکل ایسے ہی بخشو کا زہر بھی اسکے دل سے گاؤں کے معصوموں کے دلوں تک سفر کرنے کو بیتاب تھا۔ اور وہ وقت جلد ہی آگیا ۔

آج پورا گاؤں “بابا رحمتے” کی پنچایت میں جمع تھا۔ رات پہلے ہی ڈھول کی تھاپ پر اعلان کیا گیا تھا کے صبح ہوتے ہی تمام لوگ پنچائیت میں پیش ہونگے لوگوں کو عام طعطیل بھی دی گئ تھی اور بریانی کا خاص انتظام بھی تھا ۔

کچھ لوگ اس مغالطے میں آئے تھے کے شاید کوئی  بہت ہی اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہے اور زیادہ تر بریانی کے آ سرے میں آئے ہوئے تھے۔ پنڈال سج چکا تھا ۔ تختہ سے بنے اسٹیج پر ” بابا رحمتے” سفید براق لباس میں سفید پگڑی پہنے کھڑا کسی نورانی بزرگ کا پرتو لگ رہا تھا۔ دوسری طرف سوکھے سوکھے،لنگیاں باندھے گاؤں والے بریانی کی دیگیں جلدی کھلنے کی خواہش دل میں لیئے زمین پر بیٹھے تھے۔

اچانک سکوت ٹوٹا اور “بابا رحمتے” بولنا شروع ہوا۔
“اس گاؤں کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ  میں ایک عرصہ سے اس گاؤں میں ہونے والے جھگڑوں، چوریوں اور دیگر مسئلہ مسائل میں منصف کا کردار ادا کر رہا ہوں، تمام لوگ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کے میں نے ہمیشہ اس گاؤں کی بھلائی  کے لیے  ہی سوچا ہے”

وہ اپنے بوڑہے پھیپھڑوں کو آرام دینے کو رکا۔

” آ ج آپ سب کو یہاں بلانے کا مقصد محض کسی مقدمہ کی کاروائی سنوانا نہیں بلکہ میں آپ سب کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں ، وہ مسئلہ جو آپ کے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے”

آخری بات سن کر گاؤں والوں کے کس کھڑے ہو گئے۔
“وہ مسئلہ پانی کی قلت کامسئلہ ہے، ہمارے گاؤں میں آنے والے دنوں میں پانی کی شدید کمی ہونے والی ہے۔ باقی سب کی تو خیر ہے وہ گاؤں ویران ہوتے ہی ٹکٹ کٹا کر شہر نکل جائیں گے ۔مسئلہ تم غریب لوگوں کا بن جائے گا ۔ سو میں سوچ رہا ہوں کے پانی کے ذخیرے کے لیئے ایک ڈیم بنایا جائے ۔ ”

یہ سنتے ہی پنڈال میں ہر طرف بابا رحمتے کی جے جے کار شروع ہو گئ۔

بابا نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارہ سے انہیں بیٹھنے کا بولا اور مزید کہنا شروع کیا۔

“آپ سب ہی کو پتا ہے کے یہ کوئی  آسان کام نہیں ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیئے آپ سب کا ساتھ چاہیے”

“کیا مدد کریں” سب گاؤں والے یک زبان ہو کربولے۔

بابا رحمتے نے ایک ٹھندی سانس بھری۔

“میں جانتا ہوں کے آپ سب غریب لوگ ہیں لیکن آپ ہی کے مفاد میں یہ کہتا ہوں کے سب گاؤں والے اپنی حیثیت کے مطابق ڈیم کے لیئے میری مالی امداد کریں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک ڈبہ بیچ پنڈال میں رکھ دیا تھا جسپر چندہ برائے تعمیر ڈیم لکھا تھا”

اب بھلا اتنے نیک مقصد کے لیئے کون راضی نہ ہوتا ۔ سب گاؤں والے جوش و جزبہ سے حسب استطاعت اس ڈبے میں حسب استطاعت روقم ڈالنے لگے۔ وہ غریب ضرور تھے لیکن انہیں پتا تھا کہ  بابا پتے کی بات کہہ رہا ہے سو اپنی ضروریات پر وہ ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دے رہے تھے ۔
لیکن اچانک کہیں سے بخشو اپنی زہریلی سوچ لی ے نمودار ہو گیا اور بابا رحمتے کو دیکھ کر طنز بھرے لہجے میں کہا۔

“بابا جی سنا ہے آپ ڈیم بنا رہے ہو”

“ہاں پتر تو نے صحیح سنا ہے” بابا نے شفقت سے جواب دیا۔

“لیکن آپ کا کام تو لوگوں کو انصاف دینا ہے۔ انکے جھگڑوں کا تصفیہ کرانا ہے ۔ اگر آپ ہی یہ ڈیم ویم کے چکروں میں پڑ گئے تو لوگ انصاف کیا بنیے کی دکان سے لینگے؟”

“گل تے ٹھیک اے منڈے دی” ، “بات دل کو لگتی ہے” ” سچ کہتا ہے” مجمع میں سرگوشیاں پھیل گئیں۔

بخشو کہتا چلا گیا
” بابا ! آج ڈیم بنے گا پانی چوہدری کی زمینیں سیراب کرے گا، اسکی فیکٹریوں کو بجلی ملے گی، جانور اسکے پلیں گے، پھل وہ لیجائے گا تو بیج بھی اسی کو بونے دو ، ہمیں تو وہی پندرہ ہزار ہی ملنے ہیں نا۔ تو ڈیم کے پیسے بھی تم چوہدری ہی سے مانگو ہماری کھال مزید کیوں اتار رہے ہو”

“ہاں ہاں بخشو صحیح کہتا ہے” ۔ “ہم اسکے ساتھ ہیں” ۔ “او بابے پہلے دھوتی تو سنبھال لے” مجمع پر جوش ہو رہا تھا۔

لوگوں کے تیور دیکھ کر با با کو بھاگنے ہی میں عافیت نظر آئی  اور دوسری طرف گاؤں والے بخشو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

تو دیکھا آپ نے کس طرح نظریاتی اختلاف نے ایک اچھے کام کو ہونے سے روکا ۔ وہ تو اچھا ہوا کے رات جب بخشو اپنی دھوتی دھو کر پھیلانے کو گھر سے باہر نکلا تو واپس نہ آیا ۔ ورنہ وہ مزید مسئلہ پیدا کرتا۔ تاہم اسکی گمشدگی میں بھی گاؤں کے پرانے پیپل پر بسیرا رکھنے والے جن کا ہاتھ تھا۔ باقی شیدے کا کام تو گاؤں کی حفاظت کرنا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بخشو! یو “ڈیم” فول۔۔۔۔علی اختر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *