مذہب اور سیاست ۔۔۔۔۔ندیم احمد فرخ

یہ بحث بہت ہی پرانی ہے کہ کیا مذہب کا سیاست میں کوئی کردار ہے یا کہ مذہب اور سیاست کو اپنے اپنے الگ الگ دائرہ اختیار میں کام کرنا چاہیے ہے ۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب اور ترقی یافتہ معاشرہ یورپی معاشرہ ہے اور اگر ہم لوگ یورپ کے عروج کی داستان کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں تو ہمیں اس بات کوماننا پڑتا ہے کہ پورپ نے تاریخی طور پر یہ سبق سیکھا ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں کے راستے الگ الگ ہیں۔

اس لئے ان دونوں کو الگ الگ ہی رہنا چاہیے۔ اگر یہ دونوں اکٹھے ہوں گے تو بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مذہب انسان کاانفرادی فعل ہے ۔ جب پندرھویں صدی میں یورپ میں مذہب اور مذہبی لوگوں کا بول بالا تھا۔ اس دور میں سیاسی لوگوں کی ایک نہ چلتی تھی بلکہ اس دور میں پوپ کی حکومت پر پوری طرح گرفت ہوتی تھی ۔ عہدے داران پوپ کی مرضی سے مقرر ہوتے تھے جس کی وجہ سے وہ حکومت سے زیادہ پوپ کے وفادار ہوتے تھے ۔ خواہ کوئی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہو مذہبی گرفت سے وہ باہر نہ تھا۔ عوام کو گرجا گھروں کی طرف بلانے کے لئے انہوں نے چرچوں میں تبرکات رکھے ہوئے تھے ۔ مذہبی عہدوں کو بیچا جاتا تھا۔ اور مذہب کبھی عہدوں کو بیچ کر کبھی معافی ناموں کی تقسیم کر کے مال اکٹھا کیا جاتا ۔ الغرض ہر طرف پوپ ہی کا راج تھا۔ اس راج کی ایسی کیفیت تھی کہ اگر کوئی مجرم جرم کرنے کے بعد بھاگ کر چرچ میں پناہ لیتا تھا تو اسے کوئی حکومتی اہلکار گرفتار کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ اور مذہبی عہدیدار ن پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ حکومتی طور پر نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ مذہب کو بطور ڈھال استعمال کیا جاتا تھا اور بائبل کا ترجمہ چونکہ مختلف زبانوں میں نہیں کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے لوگ مذہبی راہنمائی میں اپنے پاردیوں کے محتاج تھے۔ اس لئے ہر طرف پادریوں کی چلتی تھی۔

سائنس اور دوسرے علوم کی کتب اور تحقیقات کو سنسر کر دیا جاتا تھا اور ان پر سختی سے پابندی عائد تھی۔ پابندی بھی ایسی تھی کہ جو کوئی ایسی کتاب شائع کرتا تھا اس کو سزائے موت کی سزا دی جاتی تھی ۔
چنانچہ جب گلیلیو نے ایجادات کیں اور اپنے سائنسی خیالات کو عام کرنے کی کوشش کی تو پوپ کی جانب سے اس کو گنہگار ٹھہرایا گیا اور اس کو تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ وہ پڑھنا چھوڑ دے۔ 1633 میں جب اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج کائنات کا مرکز ہے تو اس کو مجرم ٹھہرادیا گیا ۔ اگرچہ وہ لکھتا رہا اور تجربوں میں مصروف رہا لیکن اس کی تحریریں ہالینڈ سے شائع ہوتی تھیں۔ 1638 میں جب گلیلیو نابینا ہوا تو اس نے اجازت کی درخواست کی کہ وہ اپنا علاج ہالینڈ کے ماہر سے کروانے جانا چاہتا ہے مگر پوپ کی طرف سے اس کو اجازت نہ ملی اور وہ اسی حالت میں زندگی گزارکر 1642 میں مرگیا۔

آخر یورپ کے لوگوں نے آواز اٹھائی اوراپنے اس احتجاج کو کتابوں اور پمفلٹ کی صورت میں شائع کروا کر لوگوں تک پھیلایا اور بائبل کے مقامی زبانوں میں ترجمعے کئے گے تا کہ لوگ بائبل کو پڑھنے کے لئے پادریوں کے محتاج بن کر نا رہ جائیں۔ اور مذہبی علماء کے کردار کو مذہب تک محدود کردیا گیا ۔چنانچہ ان اقدامات کو کرنے میں یورپ کو بہت سے سال لگے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں اصلاحی تحریکوں کا جرمنی سے آغاز ہوا، چھاپہ خانے بنے، پورپ نے ترقی کی سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں، سکولوں اور یونیورسٹوں کا آغاز ہوا، مختلف علوم کے بارے میں ریسرچ کا آغاز ہوا ، جنہوں نے یورپ میں ایک روشن باب کا آغاز کیا ۔ اور آہستہ آہستہ سکالرز کھل کر اپنے اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کرتے اور کافی شاپس میں شعراء اور دانشور اور فلاسفر ملتے اور یونیورسٹوں میں مختلف علوم پر لیکچرز ہوتے اور اس تعلیمی انقلاب کے بعد یورپ میں صنعتی انقلاب آیا ۔

اور دوسری طرف جب ہم مسلم معاشرہ کو دیکھیں تو ہمیں یہ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب بھی اسلامی معاشرہ میں ملوکیت اور بادشاہت آئی تو علماء اور فقہا نے اپنے فتووں سے اسے اسلامی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور ان ملوکیت و بادشاہت کے لئے مذہبی دلائل پیش کئے اور درباری علماء کا رواج ہوا عام ہوا اور مذہب کو حکومت میں استعمال کیا جاتا رہا ۔ جب بھی مسلمان حکمرانوں کو جنگوں کی ضرورت ہوئی تو انہیں درباری علماء نے ان جنگوں کے جہاد ہونے کا فتوی دیا۔ جب تیمور لنگ نے ہندوستان پر حملہ کیا تو علماء نے فوراً فتویٰ دیا کہ یہ جہاد ہے کیوں کہ مسلمان اسلامی نظام کے قیام میں ناکام ہو گئے ہیں اور اب جہاد سے اس کا نفاذ کیا جائے گا ۔

سیاست میں مذہب کا کردار اس وقت ذیادہ خطرناک بن جاتا ہے جب سیاسی مخالفین اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ جب اورنگزیب نے دارا کو قتل کرنا چاہا تو علماء کی کونسل نے ایک فتویٰ دارا کے مرتد ہونے کے متعلق دیا اسی طرح اورنگزیب نے اپنے بھائیوں کو سیاسی طور پر قتل نہیں کیا بلکہ ان کے مذہب کو جواز بنا کر قتل کیا۔

اور پھر مذہب کو بطور لباس بھی اوڑھا جاتا رہا ۔ خواہ کسی کی نجی زندگی کیسی ہی ہو وہ مذہب کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً سلطان غیاث الدین بلبن جو کہ پہلے ریاست کے خلاف سازشوں کا حصہ بنا رہا، شرابی اور عورتوں کو شوقین بنا رہا، مگر جیسے ہی بادشاہ ہوا اس نے مذہب کا لباس اوڑھ لیا، نماز جمعہ میں باقاعدگی سے آنا شروع کردیا اور علماء کا واعظ دربار میں شروع کروادیا اور اپنی کمیوں کو مذہب کے لباس میں چھپا لیا۔ سلطان فیروز شاہ تغلق نے مذہب کا لباس اوڑھا اور مذہبی بن کر سامنے آیا، مگر اس کی محفلوں میں شراب اور موسیقی عام تھی۔
مذہب کو سیاست میں شامل کرنے کا فائدہ علماء کو بھی ہوتا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے وہ حکومت و اقتدار میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بر صغیر کی تاریخ میں کبھی تو علماء کو بادشاہوں نے اپنے اقتدار میں شامل کیا اور ان سے اپنے مقاصد کے لئے فتوے لئے اور کبھی علاؤالدین، محمد تغلق اور اکبر بادشاہ جیسے بادشاہوں نے علماء کے اثر و رسوخ کو ختم کیا ۔

جب ہم پاکستان میں غور کرتے ہیں تو مذہب اور سیاست کی اس کشمکش میں پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر سیاسی تحاریک چلائی گئی ہیں۔ کیوں کہ مسلمان معاشرے میں یہ خیال جڑ پکڑے ہوئے ہے کہ مذہب اور سیاست ایک ہی ہے۔ اسی لئے سیاسی راہنماؤں نے مذہب کا سیاسی استعمال کیا اور علماء نے بھی مذہب کو سیاست میں داخل ہونے کے لئے استعمال کیا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بے نظیر کی حکومت تھی تو ایک جانب سے یہ فتوی آیا کہ عورت کی حکمرانی غیر اسلامی ہے مگر پھر انہی فتوی دینے والوں نے بے نظیر کے ساتھ مل کر حکومت بھی کی ۔ مسلم لیگ نے تحریک پاکستان کا آغاز کیا گویا یہ ایک سیکولر پارٹی تھی مگر ایک موقعہ پر انہوں نے بھی مذہب کو استعمال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق سب نے اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے مذہب کا استعمال کیا۔ اور ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ مذہب کے سیاست میں استعمال سے عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اگر فائدہ ہوا تو محض حکمرانوں کا، عوام کو کچھ نہیں ملا۔

یورپ نے مذہب اور سیاست کے بارے میں یہ سبق سیکھا کہ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں مذہب کو الگ اور سیاست کو الگ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے مذہب کو سیاست سے الگ کردیا اور ترقی حاصل کی ۔مگر ہم آج تک بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *