بڑبڑاتی عورتیں۔ نوشین فاطمہ

عشوہ اپنے خاندان کی واحد لڑکی تھی جس نے گریجویشن مکمل کیا ۔ حیرت انگیز طور پر وہ ایک الگ طرز فکر لے کر پیدا ہوئی تھی ۔ ہوش سنبھالتے ہی اسے اپنا ارد گرد اجنبی اجنبی لگنے لگا ۔
سب سے زیادہ وحشت اسے تب ہوتی جب اس کی ماں یا دادی کوئی کام کرنے کا ارادہ رکھتیں تو زیر لب بڑبڑا کر ایک دوسرے کو جتانا ضروری سمجھتیں ۔یہی رویہ عشوہ کے ساتھ رکھا جاتا ۔ وہ اپنی ماں کے ہاتھ میں شیمپو کی بوتل دیکھ بھی رہی ہوتی پھر بھی اسے سننا پڑتا
“میں بس ایک چٹ لگا کر آئی”
اور عشوہ چونک جاتی ۔ اسے لگتا کہ اس کی ماں جھوٹ بول رہی ہے اصل کام کوئی اور ہے ۔
بعض اوقات وہ کچن میں برتن دھو رہی ہوتی تو اس کی دادی آ کر فریج کھولتی اور بڑبڑاتی
” تھوڑی سی برف توڑ کر لے جاتی ہوں”
عشوہ چونک کر اسے دیکھنے لگتی ۔ لیکن وہ واقعی برف توڑ رہی ہوتی ۔
عشوہ کو لگتا تھا کہ یہ کمزور تعلق کی دلیل ہے ۔ اسے لگتا تھا جیسے وہ کسی عدالت میں رہتی ہو جہاں صفائیوں پر صفائیاں پیش کی جاتی ہوں ۔
کبھی وہ سوچتی کہ وہ غلط زمانے میں پیدا ہوگئی ہے اور کبھی اسے لگتا کہ وہ بہت زیادہ سوچتی ہے ۔
بڑبڑاتی عورتیں، یوں لگتا تھا جیسے کوئی جرم چھپا رہی ہوں ۔
اور پھر ایک دن اس کی شادی ہوگئی ۔ ساس کے ساتھ بنا کے رکھنے کے اس کے سارے دعوے دھرے رہ گئے ۔ اس کی ساس نہایت بدمزاج اور شکی واقع ہوئی تھی ۔
اس دن عشوہ کی ساس کچن میں سبزی بنا رہی تھی جب عشوہ پانی پینے کی غرض سے کچن میں داخل ہوئی ۔ اس نے فریج کھولا مگر اپنی پشت پر منفی انداز نظر کی حدت محسوس کی تو یکلخت مڑی ۔ اس نے خود کو بڑبڑاتے سنا ۔
“شدید پیاس لگی ہے، ایک گلاس پانی پی لوں۔”
اور پھر وہ چوروں کی طرح نگاہیں چراتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گئی ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *