کیا آپ بھی فکر مند ہیں؟۔۔۔۔۔محمد عتیق اسلم

آج ہماری قوم کا اصل المیہ نہ تو کمزور نظام ہے اور نہ ہی تعلیم و صحت کی کمزوری۔ اس قوم کا اصل المیہ اخلاقی زوال ہے۔ حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ شریعت، دین، بزرگوں اور انسانیت کا ادب ختم ہوچکا ہے۔ قافلہ بھی لٹا ہے، احساسِ زیاں بھی گیا ہے۔کوئی ہے حکمران جو یہ ”تبدیلی“ لاسکے۔۔۔؟ الیکشن کے بعد جو بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اور گھمبیر سیاسی صورتحال بن چکی ہے، اس سے سب سے زیادہ میں خود فکر مند اور پریشان ہوں۔ یہ پاک سرزمین کیلئے اچھا نہیں ہے۔ اسی لیے میں چاہتا تھا کہ انتخابات سے قبل ہی ان زہریلے سانپوں کا سر کاٹ کر انہیں دفن کردیا جاتا۔‏ظاہر ہے پاکستان سے پیار کرنے والے تمام محب وطن جو صاحب اختیار بھی ہیں، وہ سر توڑ کوشش کررہے ہیں سازشوں اور مکاریوں سے پاکستان کو محفوظ کرکے ایک مضبوط مرکزی حکومت بنائی جاسکے۔ خطرات کی نشاندہی کرنا میرا کام ہے۔ اس کو مایوسی پھیلانا نہیں کہتے۔‏ہمارے سیاسی نظام میں اگر انتخابات سے قبل صرف چند بنیادی تبدیلیاں ہی کرلی جاتیں تو ہر دفعہ کی طرح اتنا بڑا فساد پیدا نہ ہوتا۔ انتخابی طریقہءکار میں کیا تبدیلیاں ضروری تھیں کہ جو ہم چاہتے تھے، اب ہم چند ایک کو  باری باری  بیان کرتے ہیں۔۔۔

‏مثلاً  انتخابات سے قبل اگر احتساب کرلیا جاتا تو زرداری اور نون لیگ اور ایم ایم اے کی تمام قیادت جیل میں ہوتی۔ آج جو فساد یہ ڈال رہے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ یہ سارے حرام خور اکٹھے ہو کر مرکز کی حکومت ہی بنالیں، وہ اس صورت میں ممکن نہ ہوتا۔‏ہم نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ 62 اور 63 کو سختی سے نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ، ووٹ ڈالنے والے کیلئے بھی کم از کم تعلیمی قابلیت یا ٹیکس دینے والا شہری ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ جاہل بھوکے ننگے ہمیشہ اکثریت میں رہیں گے، اور انکا انتخابات میں فیصلہ کن کردار روکنا ضروری تھا۔‏انتخابات کا ایک طریقہ متناسب نمائندگی کا ہوتا ہے۔ اس میں ووٹ امیدوار کو نہیں پارٹی کو ڈالے جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ ڈالتا ہے اور امیدواروں کے نام ظاہر نہیں ہوتے۔ آخر میں جو پارٹی جتنے فیصد ووٹ لیتی ہے، اسی تناسب سے اسے اسمبلی میں سیٹیں الاٹ کردی جاتی ہیں۔‏انتخابات کے نتیجے میں جو سیاسی جماعت اسمبلی میں جتنی سیٹیں جیتتی، اس کے حساب سے انتخابات کے بعد اپنے ممبران کی لسٹ وہ خود جاری کرتی۔ انتخابات ختم ہونے کے بعد اپنی سیٹوں کے تناسب سے نام ظاہر کیے جاتے۔ لہذا کسی امیدوار کو الیکشن کیلئے کروڑوں خرچ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

‏متناسب نمائندگی کے نظام میں سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ نہ تو الیکٹیبلز کی ضرورت ہوتی، نہ ایم این اے اور ایم پی اے کروڑوں میں بکتے، نہ الیکشن کیلئے کروڑوں روپوں کی ضرورت ہوتی، اور پاکستان کی تعلیم یافتہ اور ہنر مند مڈل کلاس کو بھرپور موقع ملتا کہ وہ قیادت میں آسکتی۔‏ہمارے اس جاہلانہ انتخابی نظام میں اگر کسی جگہ 200 ووٹ ہوں تو 101 ووٹ لینے والا فاتح قرار پاتا ہے اور 99 ووٹ ضائع ہوجاتے ہیں، یعنی ان لوگوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔ حکومت ہمیشہ اقلیتی ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں بناتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ اکثریت میں ہیں۔‏مثلاً ان انتخابات میں دس کروڑ ووٹر تھے۔ پی ٹی آئی نے ڈیڑھ کروڑ کے قریب ووٹ لیے ہیں۔ یعنی ساڑھے آٹھ کروڑ ووٹرز نے پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیا۔ یعنی پی ٹی آئی حکومت بنا لیتی ہے تو صرف 15 فیصد ووٹرز کی نمائندگی کرتی ہوگی۔ تمام پچھلی حکومتیں اقلیت میں ہوتے ہوئے حکومت کرتی رہی ہیں۔‏اول تو ہم پارلیمانی جمہوریت کے نظام کے ہی خلاف تھے۔ اس کیلئے ہم نے صدارتی نظام کا پورا ماڈل پیش کیا تھا۔ مگر اگر انتخابات اسی فرسودہ نظام میں کروانے تھے تو کم از کم ہماری تجویز کردہ بنیادی تبدیلیاں تو کرلیتے۔ وہ بھی نہ کیں۔ اور اب وہی فساد جو ہمیشہ ملک کی جڑیں کاٹتا رہا ہے۔‏ا گر اس پارلیمانی جمہوریت میں ہی انتخابات کروانے تھے تو ہمارے بتائے ہوئے وہ تین نکات پر ہی عمل کرلیا جاتا تو آج یہ سارا فساد ہمیں نہ دیکھنا پڑتا۔

ان انتخابی شرائط کیلئے نہ تو آئین میں کسی تبدیلی کی ضرورت تھی، نہ کوئی لمبی چوڑی قانونی کارروائی ہوتی اور نہ ہی کسی کو اعتراض ہوتا۔‏ظاہر ہے کہ ہماری شدید خواہش ہے کہ مرکز میں ایک مضبوط وفاقی حکومت قائم ہو۔ پاکستان کو ڈولتی ہوئی حکومت کی اس موقع پر کوئی ضرورت نہیں تھی۔ نظام میں اصلاح اور احتساب کا عمل اس بات کو یقینی بنا دیتا کہ آئندہ آنے والا سیاسی نظام ایک مضبوط مرکزی حکومت کو لے کر آئے گا۔ اب صبر کریں۔‏حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ ملک میں آنے والا وزیراعظم کون ہوگا۔ زرداری جیسا سانپ، ترپ کا پتہ ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہے اور چاہتا ہے کہ پی ٹی آئی کو یا تو باہر کردے یا اس سے اتحاد کرنے کی ایسی بھاری قیمت وصول کرے کہ پاکستان کی چیخیں نکل جائیں۔

‏بہرحال، جو ہونا تھا وہ ہوگیا ہے۔ بیرونی دشمن پاکستان کے اندر غداروں کے ساتھ مل کر مضبوط مرکزی حکومت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ ایسے میں ناگزیر ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کو بھی بیرونی دخل اندازی روکنے کیلئے حکومت سازی کے عمل میں سختی سے دخل دینا چاہیے۔
میں عمران خان صاحب کونصیحت بھی کرنا چاہوں گا کہ مدینے کی اسلامی فلاحی  ریاست کا مرکزی ستون دین، شریعت، قرآن و اسلام کے اخلاقی اصول اور روحانی معراج تھی۔ سیدی رسول اللہﷺ کی توجہ انسان سازی اور کردار سازی پر تھی نہ کہ معاشی ترقی پر۔سیدنا علیؓ سے کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپؓ سے پہلے تین خلفاءکے دور میں امن تھا، مگر آپؓ کے دور میں اتنا انتشار؟سیدنا علیؓ نے فرمایا: ان کے دور میں امن اس لیے تھا کہ میں ان کا مشیر تھا، اور میرے دور میں فساد اس لیے ہے کہ تم جیسے لوگ میرے مشیر ہیں۔.ابھی نئی حکومت بنی بھی نہیں، مشیروں اور وزیروں کا تعین بھی نہیں ہوا، ہارنے والوں کا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا، دشمن بھی وار کرنے کیلئے پینترے بدل رہے ہیں۔ہم بہرحال اس نئی حکومت کی رہنمائی کریں گے، کوشش ہوگی کہ انکی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان سے پاکستان کیلئے بہتر فیصلے کروائے جاسکیں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *