احمد پور سانحہ، سب سے اہم وجہ

آج اتوار کے روز جب کہ لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے، ایک نہایت ہی افسوسناک واقعہ بہاول پور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں پیش آیا جہاں ایک آئل ٹینکر سڑک پر حادثاتی طور پر الٹ گیا اور تیل بہنا شروع ہو گیا، وہاں کے مقامی لوگ بجائے اس جگہ سے دور جانے کے ،تیل جمع کرنے میں مصروف ہو گئے اور اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے اب تک کی رپورٹ کے مطابق 152 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہیں اور بہت سے زخمی تشویشناک حالت میں ہیں یعنی ہلاکتیں مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ہے ۔

واقعی یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔ میری بھی دعا ہے کہ اللہ مرنے والوں کو غریق رحمت کرے، زخمیوں کو جلد شفایاب اور سوگواروں کو صبر عطا فرمائے۔ لیکن ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کے سانحات کی وجہ اور بچنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کم سے کم وقوع پذیر ہوں۔آج بہت سے لوگ سانحہ کی وجہ غربت بتاتے ہیں ۔ کو ئی کہتا ہے کہ غریب لوگ تھے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں تھی تو کوئی کہتا ہے کہ یہ سب سے امیر ریاست تھی اور دیکھو آج کیا حال ہو گیا، بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے ۔

اگر ان لوگوں کو پتا ہوتا کے جو پیٹرول وہ جمع کر رہے ہیں اس قدر خطرناک ہو سکتا ہے تو چاہے وہ غربت سے بھوکے مر رہے ہوتے ،اس جگہ سے دور ہی بھاگتے نہ کہ اسے امرت سمجھ کر جمع کر رہے ہوتے اور بہت سے لوگ تو صرف تماشا دیکھنے کو جمع ہوئے تھے جیسا کہ ہمارا کلچر ہے کہ اگر ایک جگہ رش لگا ہو تو گاڑیوں والے بھی چلتے چلتے رک جاتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے دیکھیں تو سہی، جبکہ اس ٹینکر کا ڈرائیور اور پولیس دونوں لوگوں کو وہاں سے ہٹنےکاکہہ رہے تھے۔ یہ ہماری قوم کا ایک عمومی رویہ ہے ہم اپنی صحت اور زندگی کے معاملے میں بہت لا پرواہ واقع ہوئے ہیں یا شاید ہمیں وہ شعور ہی نہیں دیا گیا کہ ہمیں اس معاملہ میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ۔

مثلاً ملیر کینٹ کراچی کا وہ علاقہ ہے جہاں موٹر سائکل سوار بغیر ہیلمٹ پہنے داخل نہیں ہوسکتا لیکن جب آپ اس کے داخلی مقام پر پہنچیں گے تو ایک ہیلمٹ کا ٹھیلہ دکھائی دے گا جو وہاں داخل ہونے والوں کو کرائے پر ہیلمٹ دیتا ہے تاکہ وہ لوگ اس علاقے میں داخل ہو سکیں اور اپنا کام ختم کر کے واپسی میں ہیلمٹ دے اور کرایہ ادا کرکے دوبارہ باقی ماندہ شہر میں گھومیں پھریں اور عیش کریں۔کیوں ہم لوگ اپنی جان کی حفاظت کے لیئے کیئے جا نے والے اقدامات کو سزا کے طور پر لیتے ہیں، کیوں آدھا شہر ٹریفک پولیس کی ہیلمٹ مہم کے دوران چالان تو کرا لیتا ہے لیکن ہیلمٹ پہننے کی زحمت گوارا نہیں کرتا اور اگر پہنتا بھی ہے تو یہ کہہ کر کہ” یار چالان ہو جاتا ہے” یہ کیوں نہیں کہتا کہ اس میں میرا فائدہ ہے میرا سر تربوز کی طرح پھٹنے سے بچ جائے گا۔

یہ صرف ایک مثال ہے جو ہم روز مرہ دیکھتے ہیں اور ایسا صرف شعور کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بچپن ہی سے تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات شروع کی جائیں ۔۔۔۔ اوہ ایک منٹ میں تو بھول ہی گیا تھا اکثریت کو تو ہم نے جاہل ہی رکھنا ہے ورنہ شیر، ہاتھی ، بکری وغیرہ کو ووٹ کون دے گا ،پھر اسکول وغیرہ کیسا، تو میرے بھائی کوئی بہبود آبادی مہم یا پولیو مہم جیسا پروگرام ہی شروع کردیں تاکہ ایسے نقصانات سے بچا جا سکے کیونکہ حادثہ کی صورت میں طبی امداد، علاج وغیرہ کی سہولت کا مطالبہ تو بہت آگے کی بات ہو جائے گی ۔

ویسے ہم ان چکروں میں بھی نہیں پڑتے بلکہ پانچ، دس لاکھ فی کس کے حساب سے دے کر اور ہسپتال میں ایک آدھ فوٹو سیشن کروا کر معاملہ دبا دیتے ہیں پھر متاثرین میں اپنی پارٹی کے ورکروں کو شامل کر کے امداد دلواتے ہیں اور سانحہ مزید کیش کراتے ہیں بس، ہاں اور قوم کو عید سادگی سے منانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں ،خود چاہے لندن میں عید منا چکے ہوں ۔تو اچھا یہی ہے تھوڑا بہت افسوس کرو اور گھر جاؤ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *