ایک اعشاریہ صفر ایک

​جب میں، جنید یا عاصم، جنید عاصم سے پوچھتے ہیں: ٹائم کیا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے: پانچ بج کر سولہ منٹ اور ستائیس سیکنڈ یا دو بج کر سات منٹ اور چوالیس سیکنڈ۔ اکثر جب وہ تیس یا اکتیس یا بتیس سیکنڈ کہہ رہا ہوتا ہے، اس دوران وہ یہ کہنے لگتا ہے کہ اب اکتیس یا بتیس یا تینتیس سیکنڈ ہو گئے ہیں۔ جب انسٹھ منٹ اور کچھ سیکنڈ ہوں اور ہم میں سے کوئی اس سے پوچھے کہ جنید عاصم: ٹائم کیا ہوا ہے، تب وہ ہمیں اتنے سیکنڈ انتظار کرنے کا کہتا ہے اور پھر بتاتا ہے کہ پورے چھ یا سات یا آٹھ بج گئے ہیں۔ تب وہ سیکنڈ نہیں بولتا اور اس دوران اس کا رویہ کسی سائنسدان کی طرح ہوتا ہے جو کوئی عظیم چیز دریافت کرنے سے بس کچھ سیکنڈ کے فاصلے پر ہو۔
ہم اکثر اس سے غصہ ہوتے ہیں کہ وہ کوئی رپورٹر نہیں اور نہ وہ ریاضی کا سوال سمجھانے لگا ہے۔ وہ ناراض ہونے کی اداکاری کرتا ہے کہ یہ سیکنڈ ہی ہیں جو منٹ کے بننے کا باعث بنتے ہیں۔ اور کوئی بھی بنیادی چیز خواہ وہ صفر ہی کیوں نہ ہو زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ اس دوران وہ ان گھسیٹوں کا بھی استعمال کرتا ہے جو نہ ہوں تو آدھے موٹیویشنل لیکچرر بے روزگار ہو جائیں۔ جیسے ایک سیکنڈ میں گیند وکٹ کیپر کے ہاتھ میں پہنچ جاتی ہے یا ایک سیکنڈ میں چلنے والی گولی انسانی جان لے سکتی ہے۔ تو کیا ایک سیکنڈ پوری انسانی جان کے برابر نہیں اور پندرہ یا بیس سیکنڈ میں تو نسل کشی تک کی جا سکتی ہے۔ پھر اس نے رسول حمزہ توف کی “میرا داغستان”بھی پڑھ رکھی ہے جو ایسے ہی فقرات سے بھرپور ہے۔
لیکن جنید عاصم بہر حال اس کہانی کا مرکزی کردار نہیں۔ بہت سے لوگ مختلف صورتحال میں مختلف طرح کا برتاؤ کرتے ہیں اور انہی میں سے ایک وہ ہے۔ کیا اسی طرح کا برتاؤ ہم نہیں کرتے، جب ہمارے موبائل کی بیٹری آخری فیصدوں کو چھونے لگتی ہے۔ یعنی ابھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بیس فیصد ہے اور ابھی بارہ فیصد اور جب اسے دیکھ کر آپ موبائل اسکرین کی طرف مڑتے ہیں اور پھر بیٹری فیصدیت دیکھتے ہیں وہ نو یا سات فیصد رہ چکی ہوتی ہے۔ اسی لمحے آپ کے سامنے اسکرین پر کوئی دلچسپ مضمون آ جاتا ہے اور تب آپ دعا کرتے ہیں کہ یہ پانچ یا سات فیصد بیٹری جو اب ایک فیصد رہ چکی ہے، چند سیکنڈ اسی طرح ٹکی رہے۔ یہ لمحات اور بھی دلچسپ ہو جاتے ہیں جب وہ آرٹیکل دراصل چیخوف کی عجیب و غریب ;Concomple; نامی کہانی ہوتی ہے۔ تب آپ کے نزدیک، ہاں اگر آپ فطرتاً تشکیک پسند ہوں، اس لفظ کا مطلب جاننا بھی اہم ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ آپ کی توجہ کہانی سے زیادہ اس کے معنی کی طرف چلی جاتی ہے۔ آپ ایک یا دو سیکنڈ کی دیر میں ڈکشنری سے اس کا مطلب دیکھنے لگتے ہیں اور جب وہ لفظ کھلتا ہے، آپ کا موبائل بند ہو چکا ہوتا ہے۔
اگر آپ کو اس ایک سیکنڈ کی اجازت سے اس لفظ کا مطلب پتہ چل جاتا ہے، تب آپ یہ کہہ سکتے ہیں : اوہ یہ کہانی تو میں اردو میں فلاں نام سے پڑھ چکا ہوں۔
اگر آپ اس سیکنڈ کو حاصل نہیں کر پاتے تب کیا جنید عاصم ہم سے زیادہ سمجھدار نہیں؟

Avatar
جنید عاصم
جنید میٹرو رائٹر ہے جس کی کہانیاں میٹرو کے انتظار میں سوچی اور میٹرو کے اندر لکھی جاتی ہیں۔ لاہور میں رہتا ہے اور کسی بھی راوین کی طرح گورنمنٹ کالج لاہور کی محبت (تعصب ) میں مبتلا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *