خواتین کا عالمی دن مبارک۔۔۔ نوید مرزا

بقولِ اقبال….
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے زندگی کا سوزو دروں !
اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں جب تک کوئی مصور اپنی تصویر میں رنگ نہیں بھرتا اس وقت اس کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی رنگ کے بغیر صرف خاکہ ہوتا ہے اور خاکے سے اس کے مصوری کے فن کو نہیں جانچہ جا سکتا- اسی طرح یہ کائنات بھی ایک تصویر کی مانند ہے جس کا مصور اور کوئی نہیں بلکہ الله رب العزت جیسی پاک ذات ہے اور اس تصویر میں بھرے جانے والا رنگ عورت کے وجود کا ہے- خوبصورت رنگوں کا امتزاج دیکھنے والی آنکھ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ اس کائنات کا سارا حسن ایک عورت کے روپ میں سامنے آیا ہے تو بات بالکل درست ہے کیونکہ عورت نام ھی خوبصورتی کا ہے-
کائنات کی اس خوبصورت تصویر میں عورت ایک مہربان سایہ ہے جو مختلف روپ میں سامنے آتی ہے- یہ ہر روپ میں دلکش اور پیار کرنے والی ہے- کبھی یہ بھائی پر ہر چیز قربان کرنے والی بہن ہے، کبھی ماں باپ کا غم دور کرنے والی بیٹی،کبھی شفیق ماں اور کبھی ہر پریشانی بانٹنے والی بیوی ہے- عورت کو اس ذمے داری کا اہل سمجھ کے ہی مرد کا راز دار اور غم خوار بنایا گیا ہے کہ جس کے سامنے مرد بلاججھک اپنے دل کی ہر بات کر سکے- اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھ سکے اس کے گھر کو زمین پر جنت کا نمونہ بنا سکے عورت دنیا کے حسن میں اضافہ کرتی ہے اور دنیا کی دلکشی میں چار چاند لگاتی ہے-
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دنیا کی ساری رونقیں، چہل پہل اور گہما گہمی عورت کے وجود کی بدولت ہے- عورت خوبصورتی کا پیکر ہے کسی بھی شاعر یا ادیب نے عورت کو بدصورت نہیں کہا ہے- عورت ہی کائنات کی تصویر میں رنگ بھر کے اسے خوبصورت اور دلفریب بناتی ہے- اس کا روپ خوا ہ منفی ہو یا مثبت یہ ہر روپ میں چاہے جانے کے قابل ہے- عورت شمع محفل ہے اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اسی کے وجود سے کائنات کی تصویر میں رنگ ہے-
نیک تمناؤں کیساتھ…!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *