آم کھائے گا؟ عامر عدم لیاقت شارٹ کٹ ۔ ۔ ۔ محمد علی جعفری

پی ٹی آئی کراچی کے ہاتھ اس وقت ایسا بازیچہ اطفال آیا ہے جسے نا تو نگل سکتی ہے،نا اگل۔ نیم اسکالر،جعلی ڈاکٹر،پورے الزام تراش،مسلسل سمع خراش،عالم غیر معلم، چڑھتے سورج کے قدم بقدم ،پیش ہیں جناب عامر لیاقت شارٹ کٹ۔

جیو پر عالم آن لائن کر کے دین میں نیا ٹرینڈ سیٹ کرنا واقعی جناب کا طرہ امتیاز ہے، اور 2002 سے تاہنوز لوگ اسی فارمیٹ کے دیوانے ہیں، اس سے سب سے زیادہ افادہ ویسٹ کوٹ اور شلوار قمیض اور شیروانی والوں کو ہوا ہے، ساتھ ہی ساتھ ہماری چلبلی اداکارائیں جب ہاتھ اٹھا کر وقت اذان دست بدعا ہوتی ہیں تو دل چاہتا ہے سارے گناہ جھڑ جائیں۔۔۔۔۔۔۔ سب کے۔ بقول جوش

پڑھتے ہی فاتحہ وہ جو اک سمت پھر گئی

اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی

آپ عالم نوجوانی میں اتنے شعلہ بار مقرر تھے کہ بار بار مائک کو،اور سامعین کے کانوں کو آگ لگ جاتی،مشاہیر میں جناب عابد علی امنگ اور جنید اقبال جناب کے معاصرین رہے اور انہی کی طرح پاکستان کے یکے از بہترین مقرر ڈکلیئر ہوئے۔

عامر لیاقت صاحب کے سر ہی تقریر کو بِنائے روزگار بنانے کا سہرا ہے، محسن بھوپالی، مصطفیٰ زیدی اور ایک چوتھائی اقبال، دو چمچ غالب اور تین چار بوندیں میر کی۔

یہ ہزار عناصر ہوں تو بنتا ہے یہ بلوان۔۔۔

تہذیب اور تعلیم کو ایک جانب رکھئے اور جو بھی منہ میں آئے اس سے سننے والے کی تواضع کیجئے، چاہے وہ تفسیر بالرائے اور فتاویٰ سنتے ہوئے دخل در معقولات ہوں، یا آف ایئر نازک صورتحال اور مکھن اور ٹیڑھی ٹوپی ہو۔

قسم خدا کی مگر، آپ کا جواب نہیں۔۔۔

طلباء و طالبات نے پڑھنا چھوڑا، glitz and glamour ، چمک دمک اور میڈیا کی چکا چوند دیکھ کر جو نو آموز لوگ میزبان یا میڈیا پرسنالٹی بننا چاہتے ہیں ان کے نہاں خانہ دل میں بس یہ بات آرہی ہے کہ اچھا دکھو، سامنے والے کو بولنے بلکہ سانس لینے بھی نہ دو، نام سے پہلے القابات کاسمندر لاؤ، رکیک حملے کر کے لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرو اور ان کو جواب کی مہلت دیئے بغیر ان کی آرتی اتارو!، واضح رہے کہ چشمہ لگا کے(کالا چشمہ نہیں) انٹیلکچول بننا آپ سے ہی لوگ سیکھے۔۔

بہر حال۔۔

یہ روش اچھی نہیں ہے، اچھا مقرر اچھا سامع اور کتب چشی کا عاشق ہوا کرتا ہے ، اس کے کمرے میں بقول جون۔۔

کتابوں کےسوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔ہوتا اور وہ تول کر بولتا ہے، بول کر اسے پکڑے جانے پر گول مول نہیں کرتا۔

طالب علموں کو چاہیے کہ توجہ تعلیم پر دیں، گرومنگ کا مطلب پرفیوم،گھڑی،کالی شلوار قمیض اور میک اپ میں مثل فرعون غرق ہونا نہیں ہوتا بلکہ فوڈ فار تھاٹ بھی کچھ ہوا کرتا ہے۔

بائیں بازو کی طلباء تنظیمیں این ایس ایف، رائٹ کی جمیعت اور سینٹر کی پرانی اے پی ایم ایس او کا اسلوب دیکھیئے، کچھ بننا اور بولنا ہے تو ان کی پرانی کمپیننگ دیکھ کر کچھ سیکھئے مگر۔۔

ننگ نطق، ننگ قوم، ننگ سخن کبھی نہ بنیئے، یہ شارٹ کٹ آپ کو نمونہ بنا سکتا ہے، نمونہ عمل نہیں۔

بات گزشتہ سے پیوستہ ہی ہے،آپ نے مصطفیٰ زیدی کی بنام وطن اتنی دفعہ غیر ضروری طور پر پڑھ دی ہے کہ بقول یوسفی، جس طرح سیاستدانوں سے جیل میں قیام کے دوران یہ عہد لینا چاہئے کہ وہ باہر آکر کتاب نہیں لکھیں گے، یعنی سوانح ء خُمری، میرا مطلب ہے عمری۔

یہ بس لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ، نئے چینل میزبانوں اور مقررین پر ان عظیم افکار والے شعراء کے کلام بلاوجہ پڑھنے پر جرمانہ ہونا چاہیے،

مقام، فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں،

میں بات کرنے لگوں جب تو اشتہار چلے!!

چلے بھی آؤ کہ گلشن میں کاروبار چلے۔۔۔۔۔

تو گلوں میں رنگ بھرنے کے لیئے دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں میں آنے والی ہر شے کی برانڈ انڈورسمنٹ کا بار گراں آپ نے اٹھایا، یہاں پردے کی بات چل رہی ہے،وہاں ہنگامی اشتہار میں لڑکی سردی میں ٹھٹھرتی ۔۔۔۔ بونینزا کا سوئٹر پہنے ایکٹر سے لپٹ چمٹ رہی،یہاں مرد و زن کے مثالی رشتے کی بات ہورہی وہاں جناب بنفس نفیس ۔۔۔۔۔۔ بناسپتی گھی اور آئل کے اشتہار میں اداکارہ کا ہاتھ پکڑ کر چھچھورپن کر کے عائلی زندگی کا آلٹرنیٹو ورژن پیش کرتے نظر آتے۔

ہر سال آپ کی جانب سےایک نعت/کانٹروورسی/نیا چینل/اچٹتا فقرہ اور معذرت ضرور آتی ہے۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ آپ نے 2002 میں متحدہ جوائن کی، اور مشرف دور میں وزیر مذہبی امور رہے۔ غیر ذمہ دارانہ اسلوب کی بنا پر پارٹی نے وزارت کا قلمدان واپس لیا، پھر توبہ کی، پھر چھوڑی، پھر واپس آئے، پھر چھوڑدی۔حالیہ دور میں آپ نے عمران خان کی پارٹی کو رونق بخشی ہوئی ہے، کئی پرانے پارٹی ورکرز خان کے اس فیصلے سے نالاں نظر آئے مگر بقول مصطفیٰ زیدی بزبان عامر لیاقت۔

کون سے بند سے سیلاب وفا رکتا ہے۔۔۔۔

آپ نے حالیہ الکشن میں اپنے ڈکلریشن میں اپنے کوائف میں اپنی تعلیمی قابلیت کا ثبوت لقب ‘ڈاکٹر’ اور زیر کفالت افراد میں اپنی زوجہ ثانی کا تذکرہ نہیں کیا،

تعدد ازواج کو میں پرسنل معاملہ سمجھ کر ڈسکس نہیں کرونگا البتہ ڈاکٹر والی بات پر جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میڈیکل کے طالب علم ہونے کی وجہ سے سب ایک دوسرے کو ڈاکٹر ڈاکٹر پکارتے تھے، میں بھی اسی نسبت سے وہی ہوں۔

لیکن آپ نے تو ٹرنٹی کالج سے پی ایچ ڈی نہیں تھا؟خیر چھوڑیں۔

آپ جسے پسند کرتے ہیں اس کی مدح سرائی بلکل ایسے کرتے ہیں جیسے بچے مضمون لکھتے وقت میرا اسکول یا میری پسندیدہ شخصیت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور جس کے سر ہوجاتے ہیں،وہ آپ کی ہرزہ سرائی سے بے گھر ہوجاتے ہیں، یہ بات لفاظی نہیں ہے، احمدیوں کا ناحق قتل، بلاگرز پر جھوٹا اہانت رسالت کا الزام اور دشنام طرازی نے لوگوں کو وطن چھوڑنے اور نقل مکانی پر مجبور کیا۔ جناب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جیتے جاگتے لوگ کوئی اشتہاری کانٹریکٹ نہیں ہوتے جن کے بخیے کبھی بھی ادھیڑے جاسکتے ہوں، ان کی زندگی برباد کر کے ایک جملہ معذرت کا بلکل ایسا ہی ہے جیسے دوزخ میں پانی منہ میں لے کر کلی کرکے سمجھنا کہ بجھ گئی جبکہ،

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں

سوز غم ہاے نہانی اور ہے

آپ کو خود تو متبرک شخصیات دکھ جاتی ہیں لوگوں میں لیکن آپ پر اہانت کا الزام کون لگائے جبکہ اس معاملے کے ٹھیکے دار ہی آپ ہیں۔

تو آپ سے کہنا یہ ہے کہ اندھا دھند قوالی میں محسن بھوپالی ، فیض،جالب اور مصطفیٰ زیدی کو نہ رگیدیں ورنہ وہ شائد آپ کے سامنے یا خواب میں آ کر آپ سے کہہ ڈالیں گے۔۔۔۔۔

آم کھائے گا آم۔۔۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *