آپ کسی سے پوچھیں سیاست کیا ہے؟
جواب یہیَ آئے گا سیاست عین عبادت ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سیاست عبادت ہے جیسے الفاظ ماضی کے اوراقوں میں کہیں دفن ہوگئے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں دشنام طرازی کی ابتدا ایوب خان کے دور سے شروغ ہوئی ہے اور اب بھی جاری ہے۔ اسی دشنام طرازی نے نا صرف سیاست دانوں کو بلکہ سیاسی ورکرز کو بھی اپنے لپیٹ میں لیا ہے جنہیں سن کر بندے کا جبین نیاز شرم سے عرق عرق ہوجاتا ہے۔
عوام کے حقیقی مسائل دشنام طرازی کی وجہ سے کہیں دب کر رہ گئے ہیں۔ گالیاں دراصل آج کی سیاست کی مرچ مصالے ہیں ورنہ سیاست کی ہانڈی پھیکی رہے گی۔ پاکستان میں دشنام طرازیوں پر مبنی تاریخ بڑی طویل ہے۔ ایوب خان کے حق میں ایک سیاست دان نے مادر ملت فاطمہ جناح کی تصویر والے پمفلٹ کو کُتے کے گلے میں ڈال کر شہر میں جلوس نکالا تھا۔ مقبول عوامی لیڈر ذولفقار علی بھٹو نے عوام کو سور کی اولاد کہا تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کے لیے نازیبا نعرے اورپمفلٹ تیار کروا کر انتخابی مہم کے دوران ہیلی کاپٹر وں سے لاہور اور گردو نواح میں گرائے گئے۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں محترمہ شیر یں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی قرار دیا تھا۔ شیخ رشید احمد کئی بار محترمہ بے نظیر بھٹو کو صلواتیں سنا چکے ہیں۔
میاں نواز شریف صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب نے دھرنے میں جانے والی خواتین کے متعلق کیا کہا تھا؟ سب کو پتہ ہے۔ نیا پاکستان بنانے والے عمران خان صاحب کو اپنی زبان پرکنٹرول نہیں، موصوف نے کھلاڑیوں، جرنیلوں اور سیاست دانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ چند روز قبل عمران خان صاحب نے نواز شریف صاحب کے استقبال میں جانے والوں کو گدھا کہا۔ اس کے بعد مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے اس قضیے میں پی پی پی کا کردار دیگر جماعتوں سے نہایت حوصلہ افزا ہے۔ پی پی پی کی اعلی قیادت وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کے تلخ تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکی ہے۔ کھلاڑیوں نے بلاول بھٹو، بختاور، آصفہ اور پی پی پی کی سینیٹر شیریں رحمان کے بارے میں جو زبان استعمال کی پی پی پی کے رہنماوں نے پلٹ کر اس طرح جواب دینے سے گریز کیاہے۔ پے درپے ایسے واقعات نہ صرف قابل مذمت بلکہ سنجیدہ اقدامات کے متقاضی بھی ہیں۔ برصغیر کے باسی ہمیشہ آمروں کے زیر عتاب رہ چکے ہیں۔ فرسودہ آمرانہ کلچر ہر طرف سرائیت کر چکا ہے، اس لئے جمہوریت کے ثمرات سمیٹنے میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ آزادی کے بعد جمہوریت نام کی بلا کو سمجھنے اور اس سے مستفید ہونے نہیں دیا گیا تو اس کا اثر انتشار کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ عوام کی حکمرانی کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ عوام کی حکمرانی اور عوام پر حکمرانی میں فرق ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو ابھی جمہوریت کا تصور بھی پوری شدومد کے ساتھ واضح نہ ہو سکا ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ ایک سیاح کسی دور دراز علاقے میں سیر کےلئے گیا، اس نے علاقے کی پسماندگی دیکھتے ہوئے کسی شخص سے سوال کیا کہ کیا یہاں جمہوریت نہیں ہے ؟
وہ شخص سیدھا سادہ دیہاتی تھا سن کر جواب دیا “بالکل ہے بس ذرا بیمار پڑی ہوئی ہے۔” سیاح حیران رہ گیا۔ وہ شخص سیاح کو اندر لے گیا۔ سیاح نے دیکھا کہ بستر پر اس شخص کی بیٹی بیمار ہے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ بیٹی کا نام جمہوریت ہے۔ ہمارے یہاں کی جمہوریت اور اس شخص کی بیٹی کی کیفیت ملتی جلتی ہے۔ سیاسیات کی کسی کلاس میں جب استاد نے طالب علم سے سوال کیا کہ جمہوریت کیا ہے۔ طالب علم جمہوریت کے مفہوم سے کوسوں دور تھا۔ استاد نے تو اپنی طرف سے مولا بخش فضا میں لہراتے ہوئے اسے مرغا بننے کا حکم دے دیا تاہم طالب علم کے ذہن میں یہ معاملہ راسخ ہو گیا کہ جمہوریت اچھے اچھوں کو مرغا بنا دیتی ہے۔
ہمارے یہاں سیاست دان عوامی مزاج کو سمجھتے ہیں اس لئے ایسی زبان زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اگر مشاہدہ کیا جائے تو بازاروں، بسوں، ریستورانوں، سوشل میڈیا اور دیگر مقامات پر عوام ایک دوسرے کو بے نقط سنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ جب تک عوام اپنے اس رویے میں تبدیلی نہیں لائے گی تو سیاست اور معاشرے میں مہذب کلچر کا فروغ دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔
اگر حالات و واقعات کو مثبت تناظر میں پرکھا جائے تو نہ صرف سیاسی بصارت بلکہ بصیرت بھی حاصل ہوگی اور دشنام طرازی کی سیاست کا خاتمہ بھی ہو گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں