انتخابات اور مذہبی جماعتیں۔۔۔۔۔محمد عبداللہ عباسی

 سوال: آپ مذہبی جماعت کو ووٹ دینے کےبارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

میں بالکل مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینے کے حق میں ہوتا، اگر میرا ان سے  نظریاتی اختلاف نہ ہوتا، کیونکہ مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ ان کا ریاست پاکستان کے قوانین کو بخوشی قبول نہ کرنا ہے۔

1- مذہبی جماعتیں اپنے مدارس کے طلبا کو  14  اگست کی چھٹی نہیں دیتیں۔

۲- مذہبی جماعتیں اپنے تعلیمی نصاب میں پاکستانیت کو نہیں پڑھاتیں۔

۳- مذہبی جماعتیں ریاست پاکستان کے قانون کو صرف اس حد تک تسلیم کرتی ہیں جس حد تک انھیں شریعت اجازت دیتی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی بھی حکم یا قانون ان کے لئے لازم کا درجہ نہیں  رکھتا ، مثال کے طور پر شریعت کی طرف سے مرد کو دوسری شادی کرنے کے لئے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں جبکہ پاکستانی قانون بیوی کی اجازت کی  شرط نافذ کرتا ہے، لیکن جب کوئی نکاح خواں   عالم دین کسی کا دوسرا نکاح پڑھانا چاہتا ہو تو اس پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا اور کہتا ہے کہ نکاح تو منعقد ہوجاتا ہے

 ۴- پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جس کی ترویج و اشاعت کی خاطر اس کے قواعد و ضوابط  سکولوں اور تعلیمی اداروں میں پڑھانا ضروری ہیں، مدارس میں نہیں پڑھائی جاتی۔

۵- تعلیمی اداروں میں دن کا آغاز تلاوت قرآن، حمد و نعت کے بعد قومی ترانے سے ہوتا ہے جو مدارس کے ہاں نہیں پڑھا جاتا، اس بنا پر محض مدرسے سے تعلیم یافتہ طالبعلم قومی ترانہ نہیں جانتے۔ ۶

6- ریاست پاکستان اپنے ملک میں رہنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کرنے کا انتخاب کرتی ہے اور اس میں وقتاً  فوقتا ً جائزہ بھی لیا جاتا ہے کہ کہیں ان کے انسانی بنیادوں پر حقوق کی پامالی نہ ہو، لیکن مذہبی جماعتیں آئے دن ان پر ہونے والی زیادتیوں کے متعلق یا اس کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھاتی ہیں۔

۷- ریاست پاکستان یا اسکی عدالتیں جس شخص کو مجرم ٹھہرائیں اور اسے سزا دیں، ریاست میں رہنے والی جماعتوں کے لئے بھی اسے مجرم ماننا ضروری ہوتا ہے اگرچہ انہیں اختلاف کا حق بھی ریاست فراہم کرتی ہے جس کا قانونی طریقہ کار موجود ہے   لیکن مذہبی جماعتیں ایسے کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتیں ، جس کی مثال سابقہ کئی مواقع پر ہم بخوبی دیکھ چکے ہیں۔

نوٹ: درج بالا صرف اس وقت ذہن میں آ جانے والی چند مثالیں ہیں جس سے مذہبی جماعتوں کی دو طرفہ پالیسی واضح ہوتی ہے اس کے علاوہ اگر ہم غور کریں تو مذہبی جماعتیں شریعت کا نام لے کر ریاست پاکستان کے متعلق اور اس کے قوانین کا آئے دن کھلم کھلا مذاق بناتی نظر آتی ہیں اگرچہ ان جماعتوں کے جیّد علماء اس بابت خاموشی کی پالیسی بھی اختیار کرتے ہوں تب بھی وہ محض نظروں میں آنے کی خاطر اپنی کوشش کو جاری رکھتی ہیں۔

ممتاز قادری کو ریاست پاکستان نے پھانسی دی جسے علماء و مذہبی جماعتوں نے غلط قرار دیا اور اس کے خلاف باقاعدہ احتجاج بھی کیا، میں سلام پیش کرتا ہوں ان جماعتوں کو اور ان مشائخ کو جو اس سلسلے میں اپنی جگہ بالکل درست تھے اور ان میں سب سے بڑا نام علامہ خادم حسین رضوی صاحب کا تھا جنھوں نے اس بابت اپنی سی پوری کوشش کی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی عدالت نے ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دی جس عدالت کے ماتحت آپ الیکشن جیت کر حلف لینے جارہے ہیں، تو جب اس حلف کو ایک عدالت کے ماتحت قبول کرنا پسند کرتے ہیں تو اس سے قبل آپ اس عدالت کی مخالفت کیوں کرتے رہے اور اگر مخالفت جائز کرتے رہے تو اب کون سے اس عدالت اور ریاست پاکستان کو سرخاب کے پر لگ گئے ہیں کہ آپ اس کے قائم کردہ الیکشن کے نظام کو نہ صرف قبول کر رہے ہیں بلکہ اس کا باقائدہ حصہ بن کر ایک کلیدی کردار حاصل کرنے کے لیے انتخابات تک میں حصہ لے رہے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *